تحریک عدم اعتماد سمیت کسی مسئلے پر PPسے کوئی بات نہیں ہوگی،بانی PTI

21 جولائی ، 2024

راولپنڈی(این این آئی) سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد سمیت کسی بھی مسئلے پر پیپلز پارٹی سے کوئی بات نہیں ہوگی‘پیپلز پارٹی اور (ن )لیگ میں کوئی فرق نہیں‘ یہ ایک ہی ہیں‘یہ دونوں فارم 47 کی پیداوار ہیں‘بنوں واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کی جائے‘ساری زندگی جیل میں بیٹھنے کوتیار ہوں‘ مؤقف سے پیچھے ہٹنے کی باتیں بے بنیاد ہیں‘ اگر میری بیوی کو کچھ ہوا تو جن لوگوں کے میں نے نام لیے تھے ان کو نہیں چھوڑوں گا‘جب تک میں زندہ ہوں ان کا پیچھا کروں گا‘فچ کی رپورٹ بھی منظر عام پر آئی ہے‘ مجھے علم ہے موجودہ حکومت انتخابات کی جانب نہیں جائے گی ۔ ہفتہ کواڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہناتھاکہ تحریک عدم اعتماد کے لیے پیپلز پارٹی سے تب بات کروں جب میں نے اقتدار میں آنا ہو‘کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی جمہوریت کا قتل ہے۔مریم نواز کہتی ہے کہ ججز ٹھیک نہیں،ججز تب ٹھیک تھے جب ان کے کیسز ختم کیے گئے؟۔ایلیٹ طبقہ ملک میں صاف شفاف انتخابات کا انعقاد نہیں چاہتا۔سب کو پتا ہے بنوں واقعے کے دوران فوج نے نہتے لوگوں پر فائرنگ کی ۔ وزیراعلیٰ کے پی جب ملے گا، ان سے کہوں گا کہ بنوں واقعے پر سخت مؤقف اختیار کریں ۔ وفاقی حکومت آگ سے کھیل رہی ہے،آصف زرداری نے کس حیثیت میں صدر ہاؤس کا بجٹ بڑھا کر 88 کروڑ کر دیا ؟موجودہ حکمران اپنے اخراجات کم کرنے کو تیار نہیں اور عوام سے قربانی مانگتے ہیں۔عمران خان نے مزیدکہاکہ ملک میں پہلے ہی مارشل لا کا نفاذ ہے ایس آئی ایف سی کیا ہے،حکومت کسی اور کے کنٹرول میں ہے۔ یہ 9 مئی کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن کیوں نہیں بنا رہے؟۔ہمارے حکومتیں ختم کرنے کے باوجود انہوں نے90دن میں الیکشن نہیں کرائے، آرٹیکل6 تو ان پر لگنا چاہیے۔عمران خان نے کہا کہ انہیں ڈر ہے کہ کہیں حلقے نہ کھل جائیں یہ اسی لیے ججز تبدیل کر رہے ہیں،سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود اگر الیکشن کمیشن سے پی ٹی آئی کو سیٹیں نہ ملیں تو الیکشن کمیشن پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیے‘جیل میں بلا چھوڑا گیاہے تاکہ وہ اس بلی کو لے جائے جو میرے ساتھ مانوس ہے۔