غزہ، نومولود کو مردہ ماں کے رحم سے زندہ بچالیا گیا

21 جولائی ، 2024

غزہ (اے ایف پی) غزہ کے ایک اسپتال نے گزشتہ روز کہا کہ اس نے اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والی حاملہ خاتون کے رحم سے بچے کو زندہ بچالیا۔نو ماہ کی حاملہ اولا عدنان حرب الکرد اسرائیلی میزائل حملوں میں شدید زخمی ہوگئی تھیں، حماس کے زیر انتظام علاقے میں ریسکیو سروسز نے بتایا کہ اس حملے میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد سمیت 24 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ سرجن اکرم حسین کے مطابق، اولا عدنان حرب الکرد جب تک اسپتال پہنچیں وہ تقریباً مر چکی تھیں۔ڈاکٹر ماں کو بچانے میں ناکام رہے، لیکن الٹراساؤنڈ کرنےپر بچے کے دل کی دھڑکن کا پتہ چلا۔سرجن اکرم نےبتایا کہ انہوں نے فوری طور پر ہنگامی سیزرین سیکشن کیا اور بچے کو رحم سےنکالا۔اسپتال کے شعبہ امراض نسواں اور زچہ و بچہ کے سربراہ رائد السعودی نے بتایا کہ ابتدائی طور پر نومولود کی حالت تشویشناک تھی، لیکن آکسیجن ملنے اور طبی امداد کے بعد اس کی حالت مستحکم ہو گئی۔اسے انکیوبیٹر میں رکھا گیا اور دیر البلاح کے الاقصی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔العودہ اسپتال کے ایک طبی اہلکار کے مطابق، وسطی غزہ میں نصیرات پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی میزائل سے شہید ہوانے والوں میں تین خواتین اور ایک کردبچہ شامل ہے۔ خاندان کے گھر پر ہونے والے حملے میں اس کا شوہر بھی زخمی ہوا تھا۔غزہ میں جنگ نے بچوں کی پیدائش کو خطرناک بنا دیا ہے، حاملہ خواتین کونہ صرف تقریباً روزانہ کی بنیاد پر حملوں کا سامنا ہے جو کہ صحت کی سہولیات تک رسائی میں رکاوٹ ہیں، بلکہ بڑے پیمانے پر غذائی قلت، حفظان صحت کی ابتر صورتحال اور پانی کی کمی کا بھی سامنا ہے۔انسانی ہمدردی کے گروپوں کے مطابق، چند اسپتال جو اب بھی کام کر رہے ہیں، بریکنگ پوائنٹ تک پہنچ گئے ہیں۔ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے رواں کہا کہ قبل از وقت پیدائش اور زچگی کی پیچیدگیاں، بشمول ایکلیمپسیا، ہیمرج اور سیپسس، بڑھ رہی ہیں۔