سر رہ گزر

پروفیسر سید اسرار بخاری
21 جولائی ، 2024
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
اگر مسلمان صاحب ایمان ہو تو واقعی فولاد ہے، ورنہ جھاگ ہے۔ ہم سب پر لازم ہے کہ ذاتی سیاست کے بھنور سے نکل کر یکجان ہو کر اپنے وطن عزیز کو امن وآشتی کا گہوارہ بنا دیں، وگرنہ ایک دوسرے کو مٹانے کے شوق میں خاکم بدہن اپنا ملک مٹا کر نابود ہو جائیں گے۔ آج ہم جن خودپیدا کردہ مصائب و مسائل سے گزر رہے ہیں ان سے نمٹنے کیلئے گروہی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہوگی، صورت احوال کا تقاضا ہے کہ صرف پاکستان کو دشمنوں کی سازشوں سے بچانا ہوگا، اپنے ہی ہم وطنوں کو مورد الزام ٹھہرانے سے ہم خود اتنے کمزور ہو جائیں گے کہ پاکستان دشمن بیرونی قوتوں کا کام آسان ہو جائے گا، ہمیں تباہ وبرباد کرنے کیلئے ہمارے برادر اسلامی ملک افغانستان کو استعمال کیا جا رہا ہے، ضروری ہوگیا ہے کہ افغانستان کے حکمرانوں کو مخصوص انداز میں سمجھایا جائے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دے کر کہیں اپنا وجود نہ کھو بیٹھے، پاکستان کو افغانستان کا بڑا لحاظ ہے، اگر عبوری افغان حکومت نے پاکستان میں دہشت گردی کرنے والوں کی سرپرستی ترک نہ کی تو شاید پاکستان اپنی مدافعت کیلئے رو رعایت ملحوظ رکھنے سے دست کشی پر مجبور ہو جائے، ہم اپنی انا اور ذاتی مفادات سے نکل کر باہمی دشمنیاں پالیں گے تو مملکت خدا داد پاکستان ہی کو نقصان پہنچائیں گے۔ہم مسلم تو ہیں مومن بھی بنیں تاکہ غیبی قوت ہمارا ساتھ دے۔ یہ وطن مضبوط ہے تو ہم بھی مضبوط ہیں ورنہ ہمارے انداز ہی ہمیں اندر سے کھوکھلا کر دیں گے، خود اپنے دشمن نہ بنیں، دشمن ہماری عاقبت نا اندیشیوں کو سونگھ کر ہی ہمیں کوئی بڑا نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ ہماری نڈر افواج کو مزید مضبوط کرنے کیلئے قومی اتحاد پیدا کرنا ضروری ہے، دہشت گردوں کے حوصلے ہمارے اپنے ہی بلند کر رہے ہیں، افغانستان جس کی ہم نے ہمیشہ حفاظت کی آج ہمارے دشمنوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، ہمیں اس وقت اندرونی سیاسی استحکام اور اتحاد کی اشد ضرورت ہے، وقت کے اشاروں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
٭٭٭٭
دہشت گردی اور مہنگائی پر پابندی لگائیں
نہ جانے بعض اوقات کیوں یہ محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی سیاست ہی پاکستان کی بے حرمتی کر رہی ہے، یا بے قدروں کو بڑی قدر والی چیز مل گئی، یا خواجہ سرائوں کے گھر بچہ پیدا ہوگیا جسے چوم چوم کر مار رہے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ایک ٹکڑا زمین کا عطا کیا اسے تمام نعمتوں سے بھر دیا، اب ہم ہیں ہمارا سیاسی، غیر سیاسی نظام ہے کہ جس کے کارندے چوہوں کا ایک ہجوم ہے کہ کوئی اس کو کہیں سے اور کوئی کہیںاور سے کتر رہا ہے۔ اکثر یہ چوہے ایک دوسرے پر بھی حملہ آور ہو جاتے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ نہ یہاں ایک منظم و مہذب قوم بن سکی ہے نہ خوشحالی قدم جما سکی ہے، چوہے اسے کتر کتر کر بہت دور لے جا رہے ہیں، ایک وسیع و عریض تختہ ہے جس پر تخت یا تختہ کا کھیل کھیلا جا رہا ہے اسی کو یہاں سیاست کہا جاتا ہے، پارلیمنٹ کی بڑی شان ہے مگر عمارت اور سہولیات کی حد تک، مہنگائی زیر دستوں کے گلے کا ہار ہے، زبردستوں کی چاندی ہے، مفلسوں کو دیکھنے کو چاند، وطن ایک صدی سے دو تین دہائیاں دور اور پیچھے کودوڑہے کہ پتھر کے زمانے تک جا پہنچی ہے، کیا کوئی اپنے گھر کو یوں بھی غیروں پر نچھاور کرتا ہے، شاید ہم وہ ہیں کہ ذات اور اس کی صفات سے فارغ نہیں اس لئے ملک دھیرے دھیرے فارغ ہو رہا ہے، اس وقت کیا ہوگا جب باہر گئے پاکستانی سب کچھ وہیں چھوڑ کر اس کاشانہ افلاس کا رخ کرنے پر مجبور کر دیئے جائیں گے۔ سب قومیں دولت اپنے ملکوں میں لا رہی ہیں اور ہم باہر اثاثے بنا رہے ہیں، غیر کی زمین آباد کرنے والے اپنی زمین برباد کرکے کہاں جائیں گے، سیاست ایک کاروبار ہے جس کا منافع ملک سے باہر جا رہاہے۔ فاعتبرو یا اولی الابصار۔
٭٭٭٭
مجبوری کیا کیا تخلیق کرتی ہے، لیکن اس طرف کیوں کوئی نگاہ ڈالے کہ پاکستان میں حل نکل آیا ہے ہر مجبوری کا، بس ایک موٹر سائیکل چھین لو پھر ساری موٹر سائیکلیں تمہاری ہیں۔ قانون، آئین تو یہاں ایک باریک پردہ ہے ایک بار اسے چاک کردو پھر شرم کیسی، ڈر کس بات کا، دین کو بھی چاہو تو دہشت گردی کیلئے استعمال کر لو پھر جھولی میں ڈالر ہی ڈالر،حرام کو حلال بنانےکیلئے انتہائی شریفانہ طریقے اور زور دار دلائل بھی عام، بیروزگاروں نے اپنے لئے کتنے ہی روزگار ڈھونڈ لئے ہیں اس لئے اب بیروزگاری کا شکوہ کرنے کی چنداں ضرورت نہیں، ہم کتنے اچھے لوگ تھے ہمیں یکایک برا کس نےبنایا۔ سچ یہ ہے کہ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے ، حشر کے حساب کا خوف کم کرنے کیلئے نماز بھی پڑھ لیتے ہیں، اسی طرح جرم کرنے کیلئے ایک نفسیاتی مدد تو مل جاتی ہے مگر اللہ تو نیت دیکھتا ہے یہ ہم بھول جاتے ہیں، چور ڈاکو بننے کے پڑھے لکھے طریقے بھی ہیں، کسی اعلیٰ یا ادنیٰ ملازمت میں گھس جائو اور محفوظ و ملفوف جرم جس قدر چاہو کرو دولت گھر کی لونڈی بن جائے گی، کچھ نہ بن پائے تو سیاست میں داخلہ لے لو، قوم کی خدمت کا نعرہ لگائو اور سب کے مخدوم بن جائو، دین مذہب کے ذریعے بھی روزگار چل سکتا ہے ، کیا آپ نے کسی نعت خوان پر نوٹوں کی بوچھاڑ کا کوئی منظر نہیں دیکھا، اسی طرح دم تعویز اور ملنگ بننے کا شعبہ بھی روزگار فراہم کرتا ہے، شاعروں نےبھی دین کی مشکلات آسان کردی ہیں۔ ساغر نے کہا تھا۔؎
آئو اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں
لوگ کہتے ہیں کہ ساغرؔ کو خدا یاد نہیں
گویا جنت اور یادِ الٰہی کیلئے ایک ہی سجدہ کافی ہے۔
٭٭٭٭
آئی ایم ایف نے مہنگائی مزید بڑھنے کی نوید سنائی ہے
...oمہنگائی بڑھنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، آئی ایم ایف :آپ کے ساتھ رہیں گے تو یہی کچھ ہوگا۔
...oنظام کی درستی کیسے ممکن ہے، سیاسی نظام کی درستی ممکن ہوگی تو نظام بھی درست ہو جائے گا۔
...oشادی کا معنی خوشی، مگر ان دنوں ہمارے ہاں شادیاں خوشی نہیں دیتیں وجہ یہ ہے کہ اس ایونٹ میں مادیت ، ہوس اور لالچ نے انٹری ماردی ہے۔
...oہم نماز پڑھتے ہیں اسے اپنی زندگی پر لاگو نہیں کرتے، مسجد میں ایک نمازی نے دوسرے نمازی کو قتل کردیا۔
٭٭٭٭