(گزشتہ سے پیوستہ )
ہندوئوں، مغلوں، سکھوں اور انگریزوں نے لاہور بلکہ پورے برصغیر کے موسمی حالات کو پیش نظر رکھ کر یہاں پر عمارات، قلعے، محل، حویلیاں حتیٰ کہ مکانات تعمیرکئے تھے ۔آپ آج بھی لاہور کے 14 دروازوں کے اندر چلے جائیں وہاں آپ کو بے شمار مکانات ایسے ملیں گے جو لاہور کے موسمی حالات کے مطابق بنائے گئے تھےہم خود جب حویلی نونہال سنگھ (موجودہ گورنمنٹ وکٹوریہ ہائی اسکول) کے تہہ خانے میں گئے وہاں پر جون،جولائی کے دنوں میںبھی ٹھنڈک کا احساس ہوا یہاں سے ایک زمین دوز راستہ شاہی قلعے کبھی جایا کرتا کسی ’’سیانے‘‘ نے وہ راستہ بند کر دیا ہے اگر آج اس جگہ کھدائی کی جائے تو یقیناً وہ راستہ مل جائیگا۔لاہور کے بیشتر مکانات اور حویلیوں میں تہہ خانے ضرور ہوا کرتے تھے آج لاہور کی جدید بستوں میں لوگ صرف جگہ کی خاطر بیسمنٹ تعمیر کر رہے ہیں اس زمانے میں موسمی حالات کی وجہ سے تہہ خانے بنائے جاتے تھے ان تہہ خانوں یعنی بیسمنٹ میں سردیوں میں گرمی اور گرمیوں میں سردی کا احساس ہوتا تھا۔لاہور کے بے شمار تعلیمی اداروں میں گوروں نے اس طرح تعمیرات کی تھیں کہ وہاں پر بجلی کے بغیر بھی بچے سکون سے تعلیم حاصل کرتے تھے۔ ایچی سن کالج، کوئین میری کالج، وکٹوریہ اسکول، کنیئرڈ کالج، ایف سی کالج اولڈ بلاک ،گورنمنٹ کالج،کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، لیڈی میکنیگن اسکول، سنٹرل ماڈل اسکول اور سنٹرل ٹریننگ کالج کی عمارات اسکی واضح مثالیں ہیں۔
ہم نے تو لاہور کا تاریخی اور قدیم فن تعمیر شیشے، لوہے، سریا، ٹائلیں اور ریت کی نذر کر دیا آج ان اونچی عمارات اور پلازوں میں آپ ایک منٹ بھی بجلی کے بغیر نہیں رہ سکتے۔مگر مغلوں اور گوروں کی تمام قدیم عمارات میں آپ آج بھی بجلی کے بغیر رہ سکتے ہیں اور سکون سے سیر کر سکتے ہیں۔لاہور میں آج بھی مغلوں، ہندوئوں، سکھوں، جین مت، بدھ مت اور گوروں کی لاتعداد خوبصورت عمارات موجود ہیں۔خیر آتے ہیں اصل موضوع کی طرف حال ہی میں جب پونچھ ہائوس کے اس خوبصورت محل کے درو دیوار سے فضول قسم کے گہرے سبز رنگ اور سیمنٹ کو کھرچا گیا تو اندر سے عمارت کی دیواروں اور چھت کے بارڈر پر انتہائی خوبصورت نقش ونگار سامنے آئے ہیں۔ حیرت کی با ت ہے کہ کسی بدذوق نے اتنے خوبصورت نقش ونگار پر پلستر کرکے اس حسین عمارت کے حسن کو تباہ وبرباد کر دیاجبکہ اس عمارت میں کبھی قدرت اللہ شہاب جیسے بڑے زیرک اور سمجھ دار بیوروکریٹ بیٹھا کرتے تھے پھر بھی کسی نے اس عمارت کے نقش ونگار کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔اس عمارت میں کئی نامور بیوروکریٹ بھی بیٹھے البتہ فلائٹ لیفٹیننٹ محمد صدیق شیخ ڈائریکٹر انڈسٹریز نے اس عمارت کو محفوظ کرنے کا منصوبہ 2011ء میں بنایا تھا ۔اور موجودہ سیکرٹری انڈسٹریز احسان بھٹہ پونچھ ہائوس، جسٹس شادی لال کی حویلی / محل، رسول کالج آف انجینئرنگ کی عمارات کو محفوظ کرنے اوراسے اصل شکل وصورت میںلانے میں مصروف عمل ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل سول سروسز اکیڈمی فرحان عزیز خواجہ نے بڑی خوبصورت بات کی ہے کہ ہم اپنے آفیسز کے اندر قدیم عمارات کو محفوظ کرنے اور اس تاریخی ورثہ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کےلئے کام کر رہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بیوروکریٹس کے اندر تاریخی عمارات کے حوالے سے ایک لگائو اور پیار پیدا ہو۔ہم جب بھی فرحان عزیز خواجہ کے دفتر گئے تو وہ پرانی اور قدیم کتابوں کا ایک انبار لگا کر بیٹھے ہوتے ہیں ان کو لاہور کی تاریخی عمارات سے عشق کی حد تک لگائو ہے ۔خیر اللہ کرے ہمارے دیگر بیوروکریٹس کے اندر بھی حس جمالیات aesthetic sense بڑھ سکے۔ جن دفاتر میںوہ بیٹھتے ہیں ان کی تاریخی اہمیت کو بھی سمجھیں پونچھ ہائوس کے بارے میں ارد گرد کے لوگوں کو بھی نہیں پتہ کہ یہ کتنی خوبصورت عمارت ہے کسی بدذوق شخص نے اس قدیم اور پائیدار محل کی لکڑی کی خوبصورت سیڑھیوں حتیٰ کہ لکڑی کے بالوں والی چھتوں کو بھی نہیں چھوڑا اس پر بھی گہرے سبز رنگ کے کئی کئی کوٹ لگا دیئے پتہ نہیں وہ بدذوق شخص کس دماغ کا تھا کہ اس تاریخی عمارت کے ہر نقش ونگار کو اس نے خراب کر ڈالا۔
سر ہنری منٹگمری لارنس سکھ فوج کی گوشمالی کے لئے گورا فوج کے ساتھ اس محل میں مقیم رہا قیام پاکستان کے بعد 1962ءتک یہ محل لاوارث یا پھر متروکہ اوقات یا مختلف محکموں کے تصرف میں رہا ۔ 1962ء میں یہ تاریخی عمارت مرکزی حکومت ( اس وقت وفاقی حکومت کو مرکزی حکومت کہا جاتا تھا)کے حوالے کر دیا گیا۔ 1950ء سے 1985ء تک اس محل میں انڈسٹریل اینڈ کمرشل میوزیم رہا پھر لائبریری بنا دی گئی اس کےپہلے مسلمان ڈائریکٹر انڈسٹریز بشیر احمد قریشی رہے جو 14-8-49سے 7-1-49تک اس عہدے پر رہے پھر سول سروسز آف پاکستان کے آفیسرز آنے شروع ہو گئے ۔ماضی کے بڑے معروف اور ایماندار ڈائریکٹر انڈسٹریز عظمت اللہ مرحوم بھی رہے جو اپنے بچوں کو دفتر کا کاغذ بھی استعمال نہیں کرنے دیتے اب کہاں ایسے آفیسرز اور کہاں ایسی روایات اور تہذیب ارے سب کچھ تو مٹ گیا۔ لاہور بھی مٹ گیا اس کےساتھ اس کی تہذیب قدیم ثقافت اور تمام اچھی روایات بھی ختم ہو گئیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس محل کا ایک ہال محکمہ امداد باہمی یعنی کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ اور مائنز اینڈ منرل ڈیپارٹمنٹ کی عدالت کے طور پر بھی استعمال ہوتا رہا ہے جہاں پر آج بھی کئی سرکاری محکمے گھسے ہوئے ہیں اس محل کے ساتھ ایک خوبصورت قدیم طرز کی انیکسی ہے یہ عمارت بھی کوئی سو برس کے قریب پرانی ہے۔ یہاں پر محکمہ معدنیات، محکمہ جنگلات، پنجاب ہیلتھ فائونڈیشن، محکمہ امداد باہمی اور محکمہ انڈسٹریز بھی ہیں کئی محکموں کی اچھی خاصی کھچڑی یہاں پکی ہوئی ہے۔پھر ملتان روڈ اور اس محل میں آنے والی گاڑیوں کے دھویں سے یہ تاریخی ورثہ متاثر ہو رہا ہے۔ ہمارے نزدیک حکومت کو اس جگہ بہت وسیع میوزیم بنا دینا چاہئے تاکہ یہ عمارت محفوظ ہو سکے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ عمارت کے اندر فرشوں پر کسی نہایت ہی ’’سیانے‘‘ نے ٹائلیں لگا دی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان ٹائلوں کے نیچے سے اس کا اصل فرش سامنے لایا جائے تاکہ اس محل کا حسن دوبالا ہو سکے۔ بعض کمروں میں شیشے، لکڑی کی پارٹیشن اور کسی کمروں کے اندر سفید پینٹ دروازوں پر کیا ہوا ہے اس سفید پینٹ کو اتارا جائے اس محل کے اصل سوئچ بورڈ اور قدیم پنکھے پتہ نہیں کس احمق نے اتار دیئے ہیں۔(جاری ہے )
مزید خبریں
-
صوبائی وزیر اطلاعات ونشریات پنجابآذربائجان کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نئے نہیں ہیں بلکہ ان کی...
-
جہاں انصاف بکتا ہو، قانون کمزور ہو اور مجرم طاقتور ہوں وہاں جرائم کا پھیلاؤ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ڈرگ...
-
یہاں آئے دن ہونے والے دھماکےہمیں سانس لینے کہاں دے رہے ہیںوطن کے محافظ ہوں یا عام شہریتسلسل سے قربانیاں دے...
-
چاند……اقبال خورشیدمیں نے چاند پر اترنے کے بعد زمین کی سمت دیکھا،مجھے یوں لگا، جیسے میں کسی بلند چوٹی سے اپنے...
-
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، شعور اور مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے۔ دنیا کی وہ تمام قومیں جو آج ترقی یافتہ اور...
-
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ ِمتحدہ عرب امارات کو خطے کی موجودہ...
-
الطاف حسن قریشی سے آخری ملاقات چند روز قبل ان کے دولت خانے پر ہوئی۔ وہ بے سدھ پڑے ہوئے تھے اور ان کی زبانی...
-
عبداللہ حسین کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’نشیب‘1981ءمیں ’قوسین‘ سے شائع ہوا۔ اس مجموعے میں ایک مختصر سا پیش...