لطائف کی دنیا

بلال الرشید
21 جولائی ، 2024
زندگی میں کئی بار ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں آدمی ان سے محظوظ ہوتا رہتا ہے۔ ایک گلوکارہ یاد آئی، جو اسٹیج ڈراموں کیلئے فحش گانے گایا کرتی۔ اس کے خلاف کسی نے فحش گانے ریکارڈ کرانے کا مقدمہ درج کرا دیا۔ جج نے پوچھا: آخر تم فحش گانے کیوں گاتی ہو۔ کہنے لگی، میں خود کہاں گاتی ہوں۔ گن پوائنٹ پر گنوائی جاتی ہوں۔ جج بھی کوئی ستم ظریف تھا۔ کہنے لگا: بی بی، ہمیں پاگل نہ بناؤ۔ گن پوائنٹ پہ اتنا سُر لگ ہی نہیں سکتا۔
پچپن میں ایک دفعہ میں بازار گیا۔ میرا بڑا بھائی ریڑھی والے سے پوچھنے لگا: پالک کس طرح لگائی ہے۔ ریڑھی والا جو خود بھی لڑکا تھا، بولا: چھ روپے کی گٹھی۔ بھائی ریٹ کم کرانے کے چکر میں تیزی سے بولا: سونے کے بھاؤ لگائی ہے۔ لڑکا بولا: سونا چھ روپے کی گٹھی مل رہا ہے؟ پوٹھوہار میں ایک بہت بڑا لطیفہ یہ ہے کہ مرد اپنے برابر کی عورت کوبھی خالہ کہہ دیتے ہیں۔ اس کے بعد جو ہنگامہ ہوتاہے، اس کا مظاہرہ بچپن میں کئی بار سکول آتے جاتے کیا۔ ایسا ہی مظاہرہ ایک دفعہ مردوں میں دیکھا۔ ایک بوڑھے مرد نے اپنے ایک ہم عمر کو چاچا کہہ دیا۔ کچھ دیر تو اس نے نظر انداز کیا۔ پھر وہ جواباً اسے ”باوا“ کہنے لگا۔ موقع پر موجود افراد اس صورتِ حال سے بے حد محظوظ ہوئے۔ پھر ایک دفعہ یہ لطیفہ خود میرے ساتھ رونما ہوا۔ ایک دفعہ میں ایک گروپ کے ساتھ ہنزہ گیا۔ لڑکے شور شرابا کر رہے تھے۔ گروپ آپریٹر پاس سے گزری تو پوچھنے لگی: کیا جوانی میں آپ بھی ایسے ہی شورشرابا کیا کرتے تھے۔ پھراس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔
ایک ڈرامہ یا د آتا ہے۔ گھر والوں کی کسی سے دشمنی چل رہی تھی اور دشمن بار بار حملہ کر رہا تھا۔ گھر کا ایک فرد کہنے لگا: اب تو ’کاشف کتوں والا‘ہی آئے گا اور کچھ کرے گا۔ دوسرا حملہ ہوا، دوسرا بولا: کاشف کتوں والے کو اب بلانا ہی پڑے گا۔دو جوان اکٹھے ہو کر گئے کہ کاشف کتوں والے کو لے کر آئے۔ جب کاشف کتوں والا آیا تو نسوانی انداز، ہاتھ نچا نچا کر بات کرے۔ کچھ دیر وہ حیرت سے دیکھتے رہے۔ پھر ایک کہنے لگا: تمہیں کہا تھا ’کاشف کتوں والے‘ کو لے کر آؤ، تم’شمیم بلیوں والی‘لے آئے ہو۔ ایسے ہی ایک دوسرے موقع پر دشمنوں کی زد میں آیا ہوا ایک خاندان کرائے کے ایک بدمعاش کا انتظار کر رہا تھا، جو آئے اور ان کی طرف سے لڑے۔ بدمعاش جب آیا تو اس کا ایک بازو ہی نہیں تھا۔ دشمنوں نے گھر کے اندر گھس کر بے نقط سنائیں۔ بدمعاش اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ انہوں نے اپنے بدمعاش سے پوچھا کہ تم جواب میں کچھ نہیں بولے۔ دامن اٹھا کر بولا: ان پر میرا صبر ہی پڑنا ہے۔ ایک ڈرامہ تھا ”قدوسی صاحب کی بیوہ“۔ اس کے ایک سین میں لڑکی خود رشتے کیلئے آئے لڑکے کی والدہ اور بہن کے سامنے بیٹھ جاتی ہے۔ لطیفہ یہ تھا کہ لڑکے کی والدہ، لڑکے کی بہن، خود لڑکی اور بعد ازاں لڑکی کے والدین، سب کے کردار صرف ایک اداکارہ ادا کر رہی تھی یعنی حنا دلپذیر۔ لڑکے کی والدہ لڑکی سے کہنے لگی کہ تو خود کیوں سامنے آکر بیٹھ گئی۔ تیرے والدین کہاں ہیں۔ کہنے لگی: وہ ساتھ والے کمرے میں دوسرے کلائنٹ کو ڈیل کر رہے ہیں۔ حیرت کی شدت سے اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ کہنے لگی: کلائنٹ؟ یہاں کوئی کاروبار ہو رہا ہے۔ بولی: فی الحال تو صرف گلشن کا کاروبار ہو رہا ہے۔ لڑکے کی والدہ نے پوچھا: تیرا نام کیا ہے؟ بولی: گلشن۔ پوٹھوہار میں ایک اور مثال بڑی مشہور ہے۔ اگر کسی چھوٹے سے کام پرتوقع سے زیادہ خرچ ہو جائے تو کہتے ہیں کہ اتنے کا کھوتا نہیں تھا، جتنے کے ٹانڈے کھا گیا۔ پوٹھوہار میں پٹواریوں کے پاس پرانی زمینوں کے کاغذات میں بڑے زبردست لطیفے برآمد ہوتے ہیں۔ ایک آٹھ سال کا بچہ، جس کا نام کالا خان تھا، جو آٹھ سال کی عمر میں مر گیا، اس کی اولاد بھی کاغذات میں درج ہے، جونسل در نسل زمینوں میں اپنے حصے لیتی رہی۔ دوسری طرف ایسے بھی کیسز ہیں، جہاں ایک سال کا بچہ انگریزی میں دستخط کرتا رہا۔ دستخط بھی بڑے زبردست، جیسے سی ایس ایس پاس کیا ہوا کوئی افسر ہو۔ انہی دنوں فیس بک پر ایسی پوسٹ دیکھی کہ پوٹھوہار میں رہنے والے تمام لوگوں پہ منطبق ہوتی ہے۔ سرپہ پگڑی باندھ کر ایک مونچھیں مروڑتا ہوا بزرگ کہہ رہا ہے: زمینیں ہم نے ایسی بیچیں کہ نسلیں بیٹھ کر روئیں۔ پوٹھوہار میں یہ تصویر آپ جسے بھی دکھائیں، وہ بیک وقت رونا اور ہنسنا شروع کر دے گا۔ ان سب سے بڑا لطیفہ مگر یہ ہے کہ امریکہ میں مقیم ایک لبرل ریشنلسٹ پاکستانی کا کہنا یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلا م تو دراصل ایک خیالی شخصیت تھے۔ یعنی ایک ایسی شخصیت جو بعد میں تراشی گئی۔ ساتھ مگر وہ یہ بھی کہتاہے کہ میں نے اپنا ڈی این اے کرایا ہے۔ میں اصلی سید ہوں؛ حالانکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہی حضرت اسمٰعیل علیہ السلام پیدا ہوئے، جن کی نسل سے آگے چل کر رسالت مآب ﷺدنیا میں تشریف لائے۔ یعنی اگر ابراہیم علیہ السلام ایک خیالی شخصیت ہیں تو دنیا میں ایک بھی سید باقی نہیں بچتا۔ اب آپ خود اندازہ لگائیں کہ یہ کتنا بڑا لطیفہ ہے کہ ایک شخص حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خیالی شخصیت سمجھتا ہے مگر خود کو اصلی سید۔ سبحان اللہ!