حضرت امام حسین ؓ نے کربلا میں اپنی اور اپنے ساتھیوں کی جان نثار کر کے رہتی دنیا تک ایک مثال قائم کی ہے۔باطل کے سامنے سر تو کٹ سکتا ہے مگر جھک نہیں سکتا۔ نواسہ رسول نے میدان کربلا میں باطل کے سامنے ڈٹ کر جو مقابلہ کیا وہ مسلم امہ کے لئے ایک واضح پیغام ہے۔ واقعہ کربلا اسلامی تاریخ کا المناک واقعہ ہے جس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین ؓ کی عظیم اور تابناک قربانی پوری امت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم عملی طور پر حضرت امام عالی مقام ؓ کی اعلیٰ تعلیمات کے سانچے میں اپنا کردار ڈھالیں تا کہ اس بہترین عمل کے ذریعے دین اور دنیا دونوں میں سر خرو ہو جائیں۔ ہمارے معاشی و معاشرتی، سیاسی وسماجی مسائل کے حل اور قتل وغارت گری، چوری چکاری، غنڈہ گردی کے خاتمے کے لئے خلافتِ راشدہ کے سنہری اصولوں کے مطابق ملکی نظام حکومت کو چلایا جائے تو پاکستان امن و امان کا گہوارہ بن جائےاور ترقی کی منازل طے کرتا چلا جائے۔ تاریخ اسلام میں شہدائے کر بلاکی قربانیاں اسلام کی سربلندی اور ظلم کے خلاف صف بندی کا بہترین نمونہ ہیں۔ اب پھر وقت آگیا ہے کہ قوم باہر نکلے اور اپنا حق چھین کر حاصل کرے۔ 25کروڑ عوام پربجلی کے بل بم بن کر گر ہیں۔المیہ یہ ہے کہ عوام بلوں کی ادائیگی کے لیے گھر کی اشیا اور خواتین اپنا زیورتک فروخت کر رہی ہیں۔ پیٹرول اور گیس کی قیمتیں مسلسل بڑھائی جا رہی ہیں۔ آئی پی پیز سے ظالمانہ معاہدے، قومی معیشت اور عوام پر بڑا بوجھ بن چکے ہیں۔ پاکستان ایک طرف 1ارب ڈالر کی قسط کے لیے بھی آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ماننے پر مجبور ہے تو دوسری جانب آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدے ہر سال قوم کے اربوں ڈالر نگل رہے ہیں۔ملک میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں، نیپرا، آئی پی پیز اور حکومت کا مکروہ گٹھ جوڑ ہے۔
طرفہ تماشا یہ ہے کہ آئی پی پیز بجلی پیدا نہ کر کے بھی اربوں کے کیپسٹی چارجز وصول کر رہی ہیں۔ وزارت توانائی کی دستاویز کے مطابق 2013ء سے 2024ء کے دوران 10برس میں آئی پی پیز کو 8 ہزار 344ارب روپےکے کپیسٹی چارجز ادا کیے گئے ہیں۔ موجودہ شرح تبادلہ کے مطابق یہ رقم 30ارب ڈالر سے زائد ہے جبکہ مختلف ادوار کی اوسط شرح تبادلہ کے تحت 48ارب 83کروڑ ڈالر سے زائد بنتی ہے۔ 10 سال میں آئی پی پیز کو توانائی کی قیمت 9ہزار 342ارب روپے ادا کی گئی۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بعد بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ دیا جا رہا ہے۔ مقام افسوس ہے کہ اس وقت حکمران طبقات، اراکین اسمبلی، سول ملٹری بیوروکریسی اور ججز اپنی مراعات کیلئے ایک ہو گئے ہیں۔ عوام صحت، تعلیم سمیت بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، نوجوان اور پروفیشنلز مایوس ہو کر ملک سے بھاگ رہے ہیں، تنخواہ دار طبقہ انتہائی اذیت کا شکار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ارباب اقتدار نے ہر طبقہ کو شدید مایوس کیا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور لاقانونیت میں بے انتہا اضافہ ہو چکا ہے۔ پریشان حال عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اقتدار انجوائے کرنے میں مصروف ہیں۔ تحریک انصاف بھی عوامی ایشوز پر احتجاج نہیں کر رہی۔ اس وقت بجلی کے ظالمانہ بلوں اور ٹیکسوں کے شکنجے سے نجات کے لئے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کے علاوہ کوئی بھی میدا ن میں نہیں ہے۔ اب مہنگائی کی چکی میں پسے عوام جماعت اسلامی اور حافظ نعیم الرحمن کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کا چھبیس جولائی کا اسلام آباد میں ہونے والا دھرنا اس صورتحال میں خاصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ملک کے اندر ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا شخص پریشان ہے۔ تنخواہ دار طبقہ 375ارب روپے براہ راست ٹیکس ادا کر رہا ہے جبکہ اشرافیہ کو 39سو ارب روپے کی ٹیکس چھو ٹ حاصل ہے۔ پی ڈی ایم ون، ٹو اور سابقہ کیئر ٹیکرحکومت کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ مہنگائی، لوڈشیڈنگ، بے روزگاری اور بھاری ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا پاکستان انسانی ترقی کی عالمی فہرست میں اب ہیٹی اور زمبابوے جیسے ممالک سے بھی بہت پیچھے ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ کرپٹ مافیاز نے ملک و قوم کو اپنی گرفت میں جکڑ رکھا ہے۔ بند بجلی گھروں کو سالانہ 2ہزار ارب روپے کی ادائیگیوں کا انکشاف تشویشناک ہے۔ آئی پی پیز معاہدوں کو قوم کے سامنے لایا جائے اس پر نظر ثانی کی جائے۔ ایسے تمام معاہدے جو ملک و قوم کے مفاد کے منافی اور سلامتی کے خلاف ہیں وہ منسوخ کئے جائیں۔ نیلم جہلم پاور پروجیکٹ کی بندش بھی تشویشناک اور لمحہ فکریہ ہے۔ اس اہم پروجیکٹ کے ڈیزائن میں خرابیوں کو نظر انداز کرنے والے قومی مجرم ہیں۔ اتنے بڑے اور اہم منصوبے میں مجرمانہ غفلت برتی گئی۔ ایسی غفلت کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے محض تحقیقات کا اعلان کافی نہیں ہے بلکہ اس اہم پروجیکٹ کو نقصان پہنچانے والے کرداروں کے خلاف عملی اقدامات ہونے چاہئیں اور اس حوالے سے ذمہ دار افراد کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے۔ قومی اداروں سے نا اہل اور کرپٹ افراد کو اداروں سے نکالنا ہو گا۔ نیلم پاور پروجیکٹ میں فنی خرابیوں کے حوالے سے بروقت نشاندہی نہ کرنا اورحکومت کی جانب سے معاملے کو دبانے کی کوشش قوم کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔ ملک و قوم کو اس وقت درپیش مسائل کا واحد حل سودی معاشی نظام اور کرپشن کا خاتمہ ہے، جب تک ہمارے حکمران سودی نظام سے چھٹکارا حاصل نہیں کر لیتے اس وقت تک عوام کی زندگی میں خوشحالی نہیں آ سکتی۔ ارباب اقتدار ہر بار عوام کو ہی قربانی کا بکرا بنانے کی بجائے اپنی عیاشیاں بند کریں۔ مفت بجلی، پٹرول اور سرکاری مراعات کا خاتمہ کیا جائے۔ بیرونی امداد کی بجائے قومی وسائل سے استفادہ کیا جانا چاہئے۔
مزید خبریں
-
نظر آئے گی مہنگائی ہی مہنگائیپہنچ سکتی ہے بینائی جہاں تک بجٹ سے قبل بھی تھی آسماں پرنہ جانے اب یہ اُونچی ہو...
-
لائیک……مبشر علی زیدیآج ٹیپو نے فیس بک پر کافی احمقانہ پوسٹ کی،میں نے بے زاری سے کہا۔واقعی احمقانہ تھی،...
-
پاکستان نے بھارت کی جانب سے دریائے چناب کا پانی موڑنے کے منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سندھ طاس معاہدے کی...
-
یہ پھل اور سبزیاں جنہیں ہم آج پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ نوشِ جاں کرتے ہیں کہ ان کے ذائقوں اور ان کے طریق...
-
پاکستان نے مالی سال 26-2025 میں دفاع اور خارجہ امور کے حوالے سے قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن ملک کی معاشی...
-
مملکت خداداد اسلامیہ میں ہر خاص و عام نفسیاتی ہیجان میں مبتلا ، ایک نکتہ پر متفق کہ مملکت مالی معاشی مشکلات سے...
-
کوئٹہ کی نوجوان معالج ڈاکٹر ماہ نورپر تیزاب گردی کا حالیہ اندوہناک واقعہ محض ایک فردِ واحد پر حملہ نہیں، بلکہ...
-
گزشتہ دنوں گلگت بلتستان میں ہونیوالے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے جس نے اس...