بجٹ اورعوام

محمد خالد وسیم
21 جولائی ، 2024
گزشتہ دنوں قومی اسمبلی میںبجٹ منظور ہو گیا۔ غریب عوام کےمسائل حل کرنے کی دعویدار جماعتوں نے جس بے باکی سے عوام پر مہنگائی کا بم گرایا ہے اس کی مثال جدید تاریخ میں نہیں ملتی ۔ ہر مسئلے کو خود حل کرنے اور خوددیکھنے کے دعویدار شہباز شریف نے یہ کہہ کر جان چھڑا لی کہ بجٹ آئی ایم ایف نے تیا ر کروایا ہے۔یعنی بجٹ میں مہنگائی بڑھانے کے جتنے اقدامات ہیں ان کیلئے آئی ایم ایف نے ہدایات دیں اور ہمارےحکام نے اس پر من و عن عمل کیا۔ کتنا آسان کام ہے جب اپنے اللے تللے پورے کرنے کیلئے رقم درکار ہو تو پٹرول کی قیمت بڑھا دو یا بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر دو ۔ کوئی طویل یا قلیل مدتی منصوبہ بندی نہیں۔ سیاسی طور پر کمزور حکومت نے اپنے بجٹ میں اپنے عوام کو نچوڑ کر رکھ دیا ۔ تنخواہ دار طبقہ جو ہمیشہ سے مسلم لیگ ن کا حامی رہا، اس پر ٹیکس بڑھا کر اس حکومت نے اس کی چیخیں نکلوا دیں۔ مراعات یافتہ طبقے سے ٹیکس وصول کرنے کا دعویٰ کرنے والوں نے ٹیکس میں تو سو فی صداضافے کیاجبکہ سر کاری ملازمین کی تنخواہوں میں صرف بائیس فی صد اضافہ کیا گیا۔ حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کوتیار نہیں ہے۔ کیا آئی ایم ایف نے حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنے سے منع کیاہے۔ ملازمین کی تنخواہوں میں صرف سرکاری اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہو گا جبکہ پرائیوٹ اور غیر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوگا مگر ٹیکس کا اضافی بوجھ انہیں بھی اٹھانہ پڑے گا۔بڑے بڑے جاگیر دار وں پر زرعی ٹیکس نہیں لگایا گیا کیونکہ ان پر ٹیکس لگنے سے حکومت کی بقا خطرے میں پڑ جائے گی کہ زراعت پر انکم ٹیکس دینے والے اسمبلیوں میں براجمان ہیں۔اسی طرح ریٹیلر ز کی سطح پر ٹیکس کے نفاذ سے بھی حکومت اجتناب کر رہی ہے لہٰذا لے دے کر وہ طبقہ نظر آتا ہے جو پہلے ہی ٹیکس ادا کر رہا ہے اوراسی طبقے کو نچوڑ نچوڑ کر ٹیکس ہدف بڑھایا جاتا ہے۔تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بڑھایا جا رہا ہے مگر نئے ٹیکس دہندگان کو شامل نہیں کیا جاتا کیونکہ ٹیکس اکٹھا کرنے والے ادارے نہیں چاہتے کہ ٹیکس ادا کرنیوالوں کی تعداد میں اضافہ ہو اس طرح ان کی اپنی روزی روٹی ختم ہو جاتی ہے ۔ ٹیکس جمع کرنے والی بیوروکریسی کی اگر نیت صاف ہو جائے تو قوم اتنا ٹیکس دے کہ کسی غیر کے آگے کشکول نہ پھیلانا پڑے ۔ چونکہ ٹیکس جمع کرنے والوں کی نیت ٹھیک نہیں ہے تو دینے والے بھی اجتناب کرتے ہیں۔موجودہ بجٹ سے ملک میں مہنگائی کا جو طوفان آ رہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک لیٹر دودھ کے ڈبے کی قیمت میں 70روپے کا اضافہ ہوا ہے لامحالہ اب کھلا دودھ بھی مہنگا ہوگا ۔آٹےکی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ2200درآمدی اشیاءپر اضافی کسٹم ڈیوٹی عائد کر دی گئی ہے۔ باہر سے آنے والی دالوں، سبزیوں پر 50 سے 55 فی صدڈیوٹی عائد ہوئی ہےتمباکو پر 50فی صد دودھ کی مصنوعات پر 20 سے 25 فی صد پھلوں پر 25 فی صد ،میک اپ کے سامان پر 50سے 55 فی صد اور جیولری پر 45 فی صد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے۔ اس سے عوام کی چیخیں نکلیں گی اور رہی سہی کسر بجلی کے بلوں میں نکل جائے گی۔ مئی کے مقابلے میں جون کے مہینے کے بجلی کے بل ڈبل سے زیادہ آرہے ہیںاورکوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ وزیراعظم صاحب کو غیر ملکی دوروں سے فرصت نہیں مل رہی۔ عوام کےزخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں۔حکمران طبقے کو یہ بات سمجھ جانی چاہیے کہ وہ دہائیوں سے جو سلوک عوام سےکر رہے ہیں اب یہ ممکن نہیں ۔ حکومت کی تمام تر توجہ آئی ایم ایف سے نیا پروگرام لینے پر مرکوز ہے۔ ڈیفالٹ کا شور مچا کر عوام کو مہنگائی کے سونامی میں ڈبونے کی مکمل تیاری ہے۔ سابق چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی کہتے ہیں کہ امریکہ کبھی ایک نیو کلیئر طاقت کو ڈیفالٹ نہیں ہونے دے گا۔کیا یہ چیزحکومتی ارکان کو معلوم نہیں ہے بقول ممتاز سیاستدان محمود اچکزئی عوا م کو اتنا تنگ نہ کرو کہ پھر آپ کو بھاگنے اور منہ چھپانے کی بھی جگہ نہ ملے۔ بجلی کے بلوں کی وجہ سے پریشان عوام کسی لیڈر کے منتظر ہیں جماعت اسلامی نے احتجاج کی کال دے دی ہے باقی سیاسی پارٹیاں بھی تیاری کر رہی ہیں۔ لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ عوام کے دکھو ں کے مداوے کا بروقت انتظام کر لے ورنہ کمزور سہاروں کو عوام کی آہ وزاری کے جھکڑاڑالے جائیں گے۔  
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)