بنگلہ دیش، فوج کا گشت، رامپورہ میں ہزاروں مظاہرین کرفیو توڑ کر نکل آئے، ہلاکتیں 133 ہوگئیں

21 جولائی ، 2024

ڈھاکا، کراچی (اے ایف پی، نیوز ڈیسک) بنگلہ دیش میں پولیس کی جانب سے احتجاجی طلبہ کو روکنے میں ناکامی کے بعد ملک بھر میں فوج نے کنٹرول سنبھال لیا ہے،انٹرنیٹ بدستور بند، بیرون ملک سے رابطہ منقطع، پولیس کی ہجوم پر فائرنگ، وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے غیر ملکی دورے منسوخ، ہلاکتیں 133ہوگئیں، ملک کے بڑے شہروں میں فوجی اہلکاروں نے گشت شروع کردیا ہے تاہم رامپورا میں ہزاروں مظاہرین کرفیو توڑتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے، پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص زخمی ہوگیا، بیرون ملک ٹیلی فون کالز بھی مشکل سے مل رہی ہیں اور اس طرح بنگلہ دیش کا بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔ ایک ہفتے سے جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 133 ہوگئی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق انہوں نے یہ تعداد پولیس اور اسپتالوں میں متاثرین کی تعداد سے لی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق ایک ہفتے سے جاری احتجاجی مظاہروں نے 15 سال سے اقتدار میں موجود شیخ حسینہ واجد کی آمرانہ حکومت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش میں مسلح افواج کے ترجمان شہادت حسین کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے فوج کو ملک بھر میں تعینات کردیا گیا ہے۔ نجی نشریاتی ادارے چینل 24 نے رپورٹ کیا ہے کہ کرفیو اتوار کی مقامی وقت کے مطابق صبح 10:00 بجے تک نافذ رہے گا۔ ہفتے کے روز دارالحکومت ڈھاکا کی سڑکیں صبح کے وقت تقریباً سنسان ہو چکی تھیں، فوجی دستے پیدل اور بکتر بند گاڑیوں میں 2 کروڑ کی آبادی کے وسیع شہر میں گشت کرتے رہے۔ لیکن دن کے آخر میں رام پورہ کے رہائشی محلے میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر دوبارہ نکل آئے، پولیس نے ہجوم پر فائرنگ کردی اور کم از کم ایک شخص کو زخمی کر دیا۔ مظاہرین میں شامل 52 سالہ نذر اسلام نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہمیں انتہائی مشکلات کا سامنا ہے، ملک میں انارکی چل رہی ہے، وہ لوگوں پر پرندوں کی طرح گولی چلا رہے ہیں۔ اسپتالوں نے جمعرات سے اے ایف پی کو گولیوں سے ہونے والی اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد کی اطلاع دی ہے۔ پولیس کے ترجمان فاروق حسین نے اے ایف پی کو بتایا کہ "لاکھوں افراد" نے جمعے کو دارالحکومت بھر میں پولیس سے جھڑپیں کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ "کم از کم 150 پولیس افسران کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ دیگر 150 کو ابتدائی طبی امداد دی گئی جبکہ دو پولیس اہلکاروں کو ہجوم نے تشدد کرکے ہلاک کردیا۔ "مظاہرین نے کئی پولیس کی چیک پوسٹوں، متعدد سرکاری دفاتر کو نذر آتش کردیا اور توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔" ڈھاکا میڈیکل کالج اسپتال کے عملے نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہفتے کے روز مزید دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے، جب کہ انتہائی نگہداشت میں داخل چار افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔