احتجاج کا حق ہر شہری کوحاصل ، ماہ رنگ گوادر کی بجائے کسی اور مقام پر احتجاج کر لیں ، خواتین ارکان صوبائی اسمبلی

25 جولائی ، 2024

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)بلوچستان اسمبلی کی خواتین اراکین نے کہا ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں خواتین کاکس کے قیام کی قرارداد منظور کرلی گئی ہے ، کاکس کے قیام کا مقصد بلوچستان کی خواتین کے حقوق کے حصول اور مسائل کے حل کو یقینی بنانا ہے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ گوادر کی بجائے کسی بھی دوسرے مقام پر پرامن احتجاج کریں ، وہ ہمارے پاس آئیں یا ہمیں اپنے پاس بلائیں تاکہ مسئلے کا حل مل بیٹھ کر ممکن بنایا جاسکے ۔ یہ بات ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ ، پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر ربابہ بلیدی ، ہادیہ نواز ، مینا بلوچ اور فرح عظیم شاہ نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔ ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی غزالہ گولہ نے کہا کہ ہم خواتین سیاسی کارکن کی حیثیت سے جدوجہد کرکے یہاں تک پہنچے ہیں، ماہ رنگ بلوچ پر امن احتجاج اور مسائل کے حل کیلئے ہمارے ساتھ بات کریں تاکہ مسائل کے حل کو یقینی بنایا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی شہید چیئرپرسن بینظیر بھٹو بھی خاتون تھیں انہوں نے آئین اور قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے جدوجہد اور احتجاج کیا ہم بات چیت سے مسائل کا حل چاہتے ہیں ماہ رنگ بلوچ ہمارے پاس آئیں یا ہمیں اپنے پاس بلائیں ہم مل بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالیں ۔انہوں نے کہا کہ جن تاریخوں میں ڈاکٹر ماہ رنگ نے گوادر میں احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے ان تاریخوں میں گوادر میں اہم پروگرام منعقد ہونے ہیں ۔ ایک سوال پرانہوں نے کہا کہ احتجاج کے دوران لواحقین کو اپنی بچیوں کی فکر رہتی ہے کہ ان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ مسائل کو پر امن طریقے سے حل کیا جاسکے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ خواتین کاکس اسمبلی میں خواتین کا مضبوط فورم ہے جو قومی اور صوبائی اسمبلی میں موجود ہے ۔پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے کہا کہ گزشتہ روز بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں خواتین کاکس کے قیام کی قرارداد منظور ہوئی جو خوش آئندا قدام ہے ، قراداد کی منظوری کے بعد وویمن پارلیمنٹیرین کاکس باقاعدہ تصدیق شدہ باڈی بن گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماہ رنگ بلوچ کے مطالبات بطور خواتین ارکان اسمبلی ہم حکومت کے سامنے رکھیں گے پرامن احتجاج آئین اور قانون کے دائرے میں ہونا چاہیے ۔ پارلیمانی سیکرٹری بہبود آبادی ہادیہ نواز نے کہا کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں،آ ئین کے دائرے میں رہ کر احتجاج کرنے کا ہر شہری کو آئینی اور قانونی حق حاصل ہے۔ماہ رنگ بلوچ ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات کریںتاکہ مسائل کا حل گفت و شنید سے نکالا جاسکے ۔پارلیمانی سیکرٹری بین الصوبائی رابطہ مینا بلوچ نے کہا کہ گوادر میں راجی مچی سے سی پیک کے پراجیکٹس کو نقصان ہوگا، ماہ رنگ بلوچ سے سوال ہے کہ وہ گوادر میں ہی کیوں جلسہ کرنا چاہتی ہیں بلوچ یکجہتی کمیٹی گوادرکے علاوہ کسی اور جگہ ، علاقے ، ضلع یا مقام پر جلسے کیلئے ضلعی انتظامیہ سے درخواست کرکے اجازت لے سکتی ہیں ۔ایک سوال پر مینا بلوچ نے کہا کہ گوادر میں جب بھی کوئی پروگرام ہونا ہوتا ہے اس وقت حالات کشیدہ بنادیئے جاتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ معاملات کو گفت و شنید سے حل کیا جائے تاکہ بلوچستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکے ۔ بلوچستان عوامی پارٹی کی رکن بلوچستان اسمبلی فرح عظیم شاہ نے کہا کہ احتجاج کے نام پر قانون ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، ڈاکٹر ماہ رنگ نے احتجاج کیا سڑک بلاک کی جس سے یونیورسٹی جانے والی خواتین اور بچیوں سمیت لوگوں کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوئی ،ڈاکٹر ماہ رنگ اگر حقوق کی بات کرتی ہیں تو دوسروں کے حقوق کابھی خیال رکھیں ، جب بھی بلوچستان ترقی کی طرف گامزن ہوتا ہے تو احتجاج کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔