اوور سیز پاکستانی ڈیجیٹل دہشت گردی روکنے کیلئے اپنا کر دار ادا کریں ، رانا ثنا

25 جولائی ، 2024

پیرس (رضا چوہدری ) وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ عمران خان اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان تنازع اپوزیشن رہنماؤں کو پھانسی لگانے کی کوشش سے شروع ہوا کیونکہ 2018 کے ایوان کے پہلے اجلاس میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور بلال بھٹو زرداری کے خیر سکالی کے جذبات کا منفی جواب دیتے ہوئی کہا تھا کہ میں سب کو جیلوں میں بند کروں گا ۔ ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جیلوں بند کرنے کے بعد جب عمران خان اسٹیبلشمنٹ سے کہا کہ ان سب کو پھانسی دو جس پر تنازع شروع ہوا اور ان کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد آیا اور ان کے اقیدار کا خاتمہ ہوا۔ مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عمرانی دور میں ملک کے ساتھ جو کھلواڑ کھیلا گیا اس کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا۔ جس طرح ملک میاں نواز شریف کی قیادت میں ترقی کی طرف جارہا اس کو اس وقت کی عدلیہ کے فیصلوں سے روکاگیا اور عوامی رائے کے برعکس ایک ایجنٹ کو اقیدار میں لایا کیا جس نے قومی ادارے کے سربراہ کی تعیناتی میں روکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی 28 تاریخ کو راولپنڈی میں لوگوں کا سمندر اکھٹا کرنے کا کیا مقصد تھا وہ قومی ادارے کے سربراہ کی تعیناتی متنازعہ بنا کر اس ادارے کو تباہ کرنا چاہتا تھا ٹانک کولی ایک ڈرامہ تھا انہوں اوورسیز پاکستانیوں اور خصوصی طور پر پاکستان مسلم لیگ ن کے عہداروں کارکنوں پر زور دیا کہ وہ ڈیجٹل دہشت گردی کو روکنے کےلئے سرگرم عمل ہو جائیں کیونکہ ایک جماعت ملک سے حمایت کھو جانے کے بعد اپنے بیرون ممالک لوگوں کے زریعے ڈیجٹل دھشت گردی پھیلا کر اپنے ملک دشمن ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کےلئے سرگرم عمل ہے۔ وہ سیاست کے میدان میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ مقابلہ کریں نہ کے قومی اداروں خصوصی طور پر اپنی عسکری قوت کو نشانا نہ بنا رہی ہے۔ ان کو پاکستانی قوم کے جذبات کا اندازہ نہیں کہ وہ پاکستانی سبز ہلالی پرچم اور اپنی مسلح افواج سے کتنی محبت کرتے ہیں انہوں فرنکفرٹ حملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اس تحقیقات میں حقائق سامنے آ جائیں گے اس واقعہ کا اصل ذمہ دار کون ہے۔ اگر انہیں بیرون ممالک غلط راستے پر چلنا ہے تو ہم کو جواب دینا آتا ہے ۔