کراچی(نیوز ڈیسک) ایک آزادانہ تحقیقات سے پتا چلا ہےکہ نیوزی لینڈ کے ریاستی اور مذہبی اداروں نے سات دہائیوں کے دوران تقریباً2لاکھ بچوں، نوجوانوں اور کمزور افراد کے ساتھ بدسلوکی کی ۔ نیوزی لینڈ کے رائل کمیشن آف انکوائری ان بیوز ان کیئر نے گزشتہ روز کہا کہ 1950 اور 2019 کے درمیان ریاست یا مذہبی نگہداشت میں تقریباً ہر تین میں سے ایک شخص کے ساتھ بدسلوکی کی گئی جو کہ قومی ذلت کے مترادف ہے۔شاہی کمیشن نے چھ سال کی انکوائری کے بعد جاری کی گئی، حتمی رپورٹ میں کہا کہ اگر اس ناانصافی کا ازالہ نہ کیا گیا تو یہ ہمارے قومی کردار پر ہمیشہ کے لیے داغ بن کر رہ جائے گا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنسی زیادتی عام تھی، بدسلوکی کرنے والے اپنی زیر نگرانی افراد کواس کیلئے تیار کرتے تھے اور بعض صورتوں میں اسمگلنگ سے بچ جانے والوں کو عوام کے ممبروں تک پہنچاتے تھے۔
مقبوضہ بیت المقدس اسرائیل کی اٹارنی جنرل نے اسرائیل کی خفیہ جاسوس ایجنسی موساد کے اگلے سربراہ کی تقرری...
کراچی چنئی:تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھانے کے فوراً بعد ٹی وی کے سربراہ سی جوزف وجے نے 200 یونٹمفت...
کراچی جنوبی لبنان میں اسپتال پر اسرائیلی حملے میں دو طبی اہلکار شہید ہوگئے، قلاوے اور تبنین کے علاقوں میں...
کراچی متحدہ عرب امارات میں آج سے اسکولوں میں دوبارہ روایتی کلاسز بحال، وزارتِ تعلیم نے تمام سرکاری و نجی...
کراچی اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کی جوہری سرگرمی ختم کیے بغیر جنگ ختم نہیں ہوسکتی،...
ریاض فوجی کارروائیوں کیلئے فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دی، سعودی عرب نے افواہوں کی تردید کردی ،ریاض...
لاہوروزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ جس نے بھی ریڈ لائن کراس کرنے کی کوشش کی اس کا غرور ہماری...
بیجنگبیجنگ کی وزارتِ تجارت اور واشنگٹن کے وزیرِ خزانہ نے اتوار کو بتایا کہ چین اور امریکہ کے اعلیٰ حکام آنے...