جمعیت کا اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے خلاف جمعے کو احتجاج کا اعلان

01 اگست ، 2024

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کی کال پرواقعہ کے خلاف جمعہ کو صوبہ بھر میں احتجاجی مظاہرئے کیے جائیں گے ۔بلوچ یکجہتی کمیٹی اور حکومت مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کریں،تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے اپنی تحریک کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔یہ بات انہوں نے بدھ کو جمعیت علماء اسلام کے صوبائی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ، اس موقع پر ارکان اسمبلی میر یونس عزیز زہری ، میر زابد ریکی ، غلام دستگیر بادینی ، روی پہوجا ، جمعیت علماء اسلام کے صوبائی جنرل سیکرٹری آغا محمود شاہ ، مولوی سرور موسیٰ خیل ، عبدالواحد آغا سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ مولانا عبدالواسع نے کہا کہ گزشتہ شب ایران کے دارالحکومت تہران میں حماس کے سیاسی نمائندے اسماعیل ہنیہ کو شہید کیے جانے کے واقعے کی جمعیت علماء اسلام مذمت کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ شہید اسماعیل ہنیہ ہمیشہ مذاکرات کی بات کرتے تھے اور امریکہ و اسرائیل کو یہی خوف تھا کہ کہیں ان کی بات دنیا نے تسلیم کرلی تو ان کے حملوں کا جواز ختم ہو جائے گا۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی کال پر واقعے کے خلاف جمعہ کو بلوچستان بھر میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔ جبکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان مولانا فضل الرحمٰن کی عمرے سے واپسی کے بعد طے کیا جائے گا ۔سینٹ ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی جمعیت علمائے اسلام مذمتی قراردادیں لائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ 11 ماہ سے فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے اور اس میں اسرائیل کو امریکہ کی حمایت حاصل ہے دنیا بھر میں ان مظالم کے خلاف مظاہرے ہوئے جبکہ پاکستان میں جمعیت علما ئے اسلام وہ واحد جماعت ہے جس نے طوفان الاقصیٰ کانفرنس کا انعقاد کیا ۔انہوں نے کہا کہ امریکہ سے تعلقات ختم اور اسرائیل کیلئے ہمدردی ختم کی جائے ،ختم نبوت کے حوالے سے بھی اسرائیل اور امریکہ کے کہنے پر گزشتہ دنوں فیصلہ دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک اور خطے کے حالات ٹھیک نہیں گوادر میں انسانوں کا سمندر امڈ آیا ، تجویز دیتے ہیں کہ صوبائی حکومت اور یکجہتی کمیٹی مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کریں اور اس معاملے میں ایسے لوگوں کو ڈالا جائے جو ملک اور قوم کے خیرخواہ ہیں فارم 47 والے نمائندے نہ ملک و قوم کے خیرخواہ ہیں اور نہ ہی رہنمائی کرسکتے ہیں ۔عوام اور ریاست کو نہ لڑایا جائے احتجاج کرنے والوں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ اپنے حقیقی مسائل جیسے مسنگ پرسنز ، ساحل وسائل پر اختیار ، بلوچستان کی ترقی پر بات کریں لیکن سی پیک کو نہ چھیڑیں سی پیک سے اگرچہ بلوچستان کو اب تک کچھ نہیں ملا اور گوادر اور بلوچستان کے نام پر فنڈز لیکر پنجاب میں لگائے گئے اس کے باوجود ہم اس منصوبے کی حمایت کرتے ہیں اور ہمارا مطالبہ ہے کہ سی پیک کے تحت سب سے پہلے بلوچستان میں سرمایہ کاری ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ 8 فروری کے انتخابات میں ہمارا مینڈیٹ چوری نہ ہوتا تو صوبائی اسمبلی میں ہماری 20 جنرل سمیت 25 نشستیں ہوتیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے اپوزیشن کو اختیار یا مینڈیٹ نہیں دیا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی سے مذاکرات کریں ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت سے اب تک جمعہ کے احتجاج کے بارے میں رابطہ نہیں ہوا ہم تمام ارکان اسمبلی سے بھی رابطہ کریں گے کہ وہ آئیں اور یہودیت کے خلاف بات کریں امت مسلمہ کیلئے سب کو نکلنا ہوگا ۔