سڑکیں وموبائل نیٹ ورک بحال،گرفتار افراد کو رہا کیاجائے ،ہدایت الرحمان

01 اگست ، 2024

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)حق دو تحریک بلوچستان کے رہنما رکن بلوچستان اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن بلوچ نےکہاہے کہ بند سڑکیں کھولنے ، موبائل نیٹ ورک بحال اور گرفتارافراد کو رہا کیا جائے۔حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کا اختیار دینے کا تاثر بے بنیاد ہے۔ حکومت یکجہتی کمیٹی سے بات چیت کا مینڈیٹ تحریری طور پر دے ۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔انہوں نے کہاکہ راستے بند ہونے سے علاقے میں خوراک کی قلت پیدا ہونے سے لوگوں کی مشکلات بڑھ رہی ہیں،حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرئے تاکہ مسئلے کے حل کو بامقصد مذاکرات کے ذریعے یقینی بنانے کے لئے گفتگو کا عمل شروع کیا جاسکے ،انہوں نےکہا کہ میں گوادر کا عوامی نمائندہ ہوں لیکن حکومت نے گوادر مسئلے پر مجھے اعتماد میں نہیں لیا،آل پارٹیز گوادر کے رہنماء بھی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں لیکن اب تک حکومت نے اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں اٹھایا،حکومتی فیصلوں اور اقدامات سے جب حالات خراب ہوگئے تو ہمیں یکجہتی کمیٹی سے مذاکرات کرنے کی بات کی جارہی ہے حکومت سنجیدہ ہے تو سڑکیں و موبائل نیٹ ورک بحال اور لوگوں کی مشکلات کم کرنے کے لئے حالات کو ساز گار بنائے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے احتجاج کو مثبت انداز میں ڈیل نہ کرکے عوام کو مشکل میں ڈال دیا ہے اگر حکومت سنجیدہ ہوتی تو بلوچ یکجہتی کمیٹی والوں کو جلسہ کرنے دیا جاتا تو بلوچستان کے حالات اس نوبت کو نہ پہنچتے موجودہ صورتحال اور مسائل کو حل کرنے کیلئے بامقصد مذاکرات ہونے چاہئیں ،پرامن لوگوں سے بات کی ، بے گناہ لوگوں کو رہا کیا اور جو سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے میں ملوث رہے ہیں ان کے خلاف کاروائی کی جائے بلوچ یکجہتی کمیٹی نے بھی جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ حکومت فوری طور پر بلوچ یکجہتی کمیٹی سے بات چیت کا سلسلہ شروع کرے اس وقت بلوچستان بند ہے ، سفری سہولیات نہیں حکومت عملی اقدام کرےحکومت روڈ اور موبائل نیٹ ورک بحال کردے میں دھرنے والوں سے بات چیت کے لئے تیار ہوں حکومت نے اپوزیشن کو باتوں کی حد تک اختیار دیا ہے اگر ہم جائیں تو کیسے جائیں ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق اب تک 4 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔