گیس بلوں سے متعلق حکم پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے، بلوچستان ہائی کورٹ

01 اگست ، 2024

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس محمد کامران ملاخیل اور جسٹس اقبال احمد کاسی پر مشتمل بینچ نے صوبے میں سوئی گیس بلوں میں غیر ضروری چارجز و دیگر سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔سماعت کے دوران درخواست گزار سید نذیر آغا ایڈووکیٹ،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شہک بلوچ،محمود خان کاکڑ ایڈووکیٹ،سید برہان الدین ایڈووکیٹ،سوئی گیس کمپنی کی جانب سے بیرسٹر محمد عمر سومرو،منیجر بلنگ زبیر احمد ودیگر پیش ہوئے۔سماعت کے دوران درخواست گذار سید نذیر آغا ایڈووکیٹ نے عدالت میں گیس کا ایک بل پیش کرتے ہوئے بتایا کہ عدالتی فیصلے پر سوئی گیس کمپنی کی جانب سے مکمل عمل درآمد نہیں کیا جارہا۔اس بل میں صارف کو 13ایم ایم بی ٹی یو گیس کے استعمال پر 11ہزار روپے بل بھیجا گیا ہے حالانکہ عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیا تھا کہ صارفین کو گرمیوں میں 200ایم ایم بی ٹی یو گیس کے استعمال پر 2500روپے بل بھیجے جائیں ایک اور صارف کو 34ایم ایم بی ٹی یو گیس کے استعمال پر 17ہزار روپے بل ارسال کیا گیا ہے اس پر سوئی گیس کمپنی کے لاء آفیسر نے کہا کہ بعض صارفین کو تیکنیکی فالٹ کی بناء پر زیادہ بل بھیجے گئے ہیں انہیں آئی ٹی سیکشن میں درست کرلیا جائے گا جس پر عدالت نے ہدایت کی کہ گیس کے بلوں سے متعلق عدالت کے حکم پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے، کمپنی کی جانب سے پیش کی گئی ریویو27/2024کی کاپیاں درخواست گزار اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شہک بلوچ کو فراہم کی گئی جس پر انہوں نے جواب کے لئے اگلی سماعت تک مہلت طلب کی، سماعت کے دوران جسٹس محمد کامران ملاخیل نے کہاکہ انگلینڈ میں انہوں نے صارفین کو بھیجے گئے بل دیکھے تو ان میں بہت مختصر تفصیلات درج تھی جبکہ یہاں ایسا نہیں اور یہاں بلوں پر ایڈورٹائزمنٹ بھی کی جاتی ہے ۔سماعت کے دوران جسٹس اقبال احمد کاسی نے ایک صارف کے بل میں موجودکنکٹیڈ لوڈ بیسیز بارے کمپنی حکام سے استفسار کیا تو کمپنی کی جانب سے بتایا گیا کہ یہ ایسے بلوں میں ہوتا ہے جس میں ایک میٹر سے کئی صارفین گیس کی سہولت لے رہے ہوتے ہیں جس پر جسٹس اقبال احمد کاسی نے کہاکہ یہ کیسے ممکن ہے جو ایسا کرتے ہیں ان کی کنکشنز منقطع کر دیئے جائیں، جسٹس محمد کامران ملاخیل نے بلوں کی شکایات لے کر عدالت آنے والے صارفین کے کوائف جمع کرکے ان کے بلوں سے متعلق شکایات کو سننے کی بھی کمپنی حکام کو ہدایت کی۔بعد ازاں درخواست کی سماعت 5اگست تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔