ممتاز فلسطینی رہنما ، اپنے وطن پر اسرائیل کے سراسر ناجائز اور غاصبانہ قبضے کے خلاف ناقابل شکست مزاحمت کی علامت، حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اور فلسطین کے سابق وزیر اعظم اسمٰعیل ہنیہ کی گزشتہ شب صہیونی ریاست اسرائیل کے میزائل حملے کے نتیجے میں ایران کے شہر تہران میں شہادت ظلم اور بے انصافی کے خلاف جدوجہد کی تاریخ میں انہیں یقینا ًحیات جاوداں بخشنے کا سبب ثابت ہوگی۔ غزہ پر اسرائیلی حملوں میں اپنے تین بیٹوں اور چار پوتوں کی شہادت کے بعد انہوں نے اپنے وطن کوآزادکرانے اور ناپاک صہیونی عزائم کو ناکام بنانے کی خاطراپنی جان بھی قربان کرکے فلسطین کی تحریک آزادی کو لازوال توانائی فراہم کردی ہے جو اِن شاء اللہ آج نہیں تو کل کامیابی سے ہمکنار ہوکر رہے گی اور غاصب اسرائیل اور اس کی سرپرست طاقتیں ذلت و رسوائی کا شکار ہوں گی۔ ایرانی ٹی وی کے مطابق اسماعیل ہنیہ ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کیلئے تہران میں موجود تھے جہاں ان کی قیام گاہ پر حملہ کرکے انہیں شہید کیا گیا۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے نتائج جلد سامنے لائے جائیں گے ۔حماس رہنما اسماعیل ہنیہ فلسطینی گروپ کی بین الاقوامی سفارت کاری کا چہرہ تھے، غزہ میں سفری پابندیوں سے بچنے کیلئے وہ عموماً ترکیہ اور قطر میں رہتے تھے اوران دنوں جنگ بندی کیلئے جاری مذاکرات میں حماس کی نمائندگی کررہے تھے۔ ان مذاکرات کے دوران اور تہران میں ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کیلئے آنے والے دنیا بھر کے حکومتی نمائندوں کی موجودگی میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینی رہنما کا نشانہ بنایا جانا صہیونی حکمرانوں کی امن دشمنی اورپورے کرہ ارض پر جنگ کی آگ بھڑکانے کے مذموم ارادوں کا واضح ثبوت ہے۔ عالمی برادری کو سمجھنا چاہیے کہ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کیلئے اس نے نتیجہ خیز کردار ادا نہ کیا تو پوری دنیا کا امن خاک میں مل سکتا ہے۔
باتوں سے سیاسی لیڈروں کیکتنا ہی اثر پڑے کسی پر قائم کوئی اعتبار ہونا موقوف ہے کارکردگی پر
لوڈشیڈنگ……مبشر علی زیدیکیوبا میں بجلی کا شدید بحران ہے، میں نے بتایا۔کیوں بھئی؟ ڈوڈو نے حیران ہوکر...
’’کبھی اس بات میں شک نہ کریں کہ چند سوچنے سمجھنے والے، پرعزم شہریوں کا ایک چھوٹا سا گروپ دنیا کو بدل سکتا ہے:...
پہلے تو صرف ایک آستانہ عالیہ ہوتا تھا جہاں ایک اللہ کے ولی فالج لقوہ ، کالی کھانسی ،دائمی قبض ، گردوں کی...
59سال بعد اب متحدہ عرب امارات’’اوپیک‘‘ سے نکل چکا ہے۔ اس کے محرکات اور مضمرات پر روشنی ڈالنے سے قبل اوپیک کی...
افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کو روس اور چین حتیٰ کہ خود پاکستان بھی اپنے لئے خطرہ سمجھتاتھا۔ پاکستان میں...
اگر پوری کائنات کو ایک عمارت تصور کر لیا جائے تو وہ ایک ہی ستون پر کھڑی ہے اور وہ ہے برداشت کا ستون۔ اگر اس...
ماسکو میں گزشتہ ہفتے روس اور افغانستان کے درمیان ہونے والے جس دفاعی معاہدے کی خبریں میڈیا میں ہر سطح پر گرم...