حکومت کو خطرے والی بات خواجہ آصف نے کی، نیر بخاری

05 اگست ، 2024

اسلام آباد (ایجنسیاں، ٹی وی رپورٹ) سینیٹ کے سابق چیئرمین اورپاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹینز کے سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے کہا ہے کہ حکومت کو خطرے والی بات خواجہ آصف نے کی تھی، حکومت پہلے یہ بتائے اسے خطرہ کیا ہے، اگر ہے تو آئینی طریقے سے نمٹا جائے، اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ میرا نہیں ہے، سسٹم ڈی ریل ہوا تو ملک کا نقصان ہوگا۔نجی ٹی وی سے انٹرویو میں نیئر بخاری نے کہا کہ اگر حکومت کو خطرہ لگ رہا ہے تو وزیرِ اعظم شہباز شریف قومی اسمبلی کو توڑنے کی تجویز صدر کو دیں اور نئے انتخابات کرا لیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے حکومت سے کہا ہے کہ انہیں اسمبلی میں جو بھی حمایت چاہیے وہ انہیں فراہم کی جائے گی۔ البتہ حکومت ڈیلیور بھی کرے۔ اگر موجودہ حکومت ٹوٹنے کے دہانے پر آ جاتی ہے تو پھر کیا حل ہے؟ اسٹیبلشمنٹ بھی ویسے ہی تو نہیں چڑھ دوڑے گی۔ اسکی بھی کچھ وجوہات ہونی چاہیئں۔نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ قابل اعتبار نہیں۔ وہ بات کر کے اس پر قائم نہیں رہتے۔ وہ ایک لمحے ایک بات کرتے ہیں اور دوسرے لمحے دوسری بات۔ ایک دن وہ کہتے ہیں محمود خان اچکزائی کو اختیار دیا اور دوسرے دن کہتے ہیں کہ انہیں اختیار نہیں دیا۔ گفتگو ان سے ہوتی ہے جس پر اعتماد ہو کہ وہ یہ بات کرے گا تو اس پر کھڑا رہے گا۔ان کے بقول پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ آئین بالا دست ہے اور حل آئین کے مطابق بیٹھ کر نکالنا ہے ورنہ اگر سسٹم ڈی ریل ہو گیا تو شاید کسی ایک فائدہ ہو جائے اور کسی دوسرے کا نقصان ہو جائے لیکن بالآخر نقصان ملک کا ہی ہو گا۔نیئر بخاری نے کہا کہ وفاقی وزراء اگر سمجھتے ہیں کہ انہیں خطرہ ہے تو وہ ان سے معلومات کا تبادلہ کریں۔ نظام کا انحصار موجودہ حکمرانوں اور ایک جماعت پر ہے۔ صدر زرداری کہہ رہے ہیں کہ آ ئیں بیٹھ کر بات کریں۔ لیکن کوئی تیار نہیں۔