آئی پی پیز سے معاہدے کرنے والوں کے اثاثے منجمد کئے جائیں، حافظ نعیم الرحمٰن

06 اگست ، 2024

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ آئی پی پیز کیساتھ معاہدے کرنے والے افسران اور حکومتی نمائندوں کے اثاثے منجمد ، تمام آئی پی پیز کا فارنزک آڈٹ اور ظالمانہ معاہدے میں ملوث افراد کیلئے سزائیں تجویز کی جائیں،لاگت کے مطابق بجلی کے بل بھیجے جائیں، فوری طور پر تنخواہ دار طبقے پر لگائے گئے ٹیکسز کے سلیب کو واپس لیا جائے۔ پیر کے روز کراچی گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنے کے تیسرے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بجلی کی لاگت کے مطابق بل بھیجے جائیں،بجلی کے بلوں میں کیپسٹی چارجز کی وصول کسی صورت قبول نہیں کریں گے،آئی پی پیز کے معاہدے ظالمانہ ہیں،جو مختلف حکومتوں نے کیے،وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ، سول و فوجی افسران ذاتی طور پر جتنی بڑی گاڑی میں سفر کرنا چاہیں کریں لیکن سرکار کی جانب سے 1300سی سی گاڑی میں سفر کریں اور ملک کو کرائسس سے نکالنے میں عوام کا ساتھ دیں، اگر حکومت سنجیدہ ہے اور معاملات آگے بڑھانا چاہتی ہے تو Confidence Building Majorکے طور پر فوری تنخواہ دار طبقے پر لگائے گئے ظالمانہ ٹیکسز کے سلیب کو واپس لینے کا اعلان کرے۔جماعت اسلامی کے تمام مطالبات جائز اور قابل عمل ہیں، خود مذاکراتی کمیٹی نے اعتراف کیا کہ جماعت اسلامی کے تمام مطالبات جائز ہیں اور انہوں نے بہت اچھی تیاری کی ہے لیکن اب وہ مذاکراتی کمیٹی تلاش کمشدہ کا اشتہار بن چکی ہے،ہم ان کا تعاقب کریں گے اور حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے،آج راولپنڈی میں مشاورت کے بعد لاہور اور پشاور میں دھرنے کا اعلان کروں گااور پھر ہم شہر کی بڑی شاہراہوں پر بھی دھرنا دیں گے۔دبئی لیکس میں 17ہزار پاکستانیوں نے دبئی میں جائیدادیں خریدیں جن میں سیاست دان، بیورو کریٹس، فوجی افسران اور صنعت کار شامل ہیں ان سب کا منی ٹریل ہونا چاہیئے،حکمران ایک جانب اوورسیز پاکستانیوں سے کہتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کو بہتر کرنے کے لیے ملک میں پیسے لائیں اور دوسری جانب خود باہر جائیدادیں بنارہے ہیں، حکمران طبقہ اپنی عیاشیاں ترک کرے،عوام کو ریلیف دے۔اس موقع پرامیر کراچی منعم ظفر خان،نائب امیر کراچی مسلم پرویز، سکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی،سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری،امرائے اضلاع، ٹاؤن و یوسی چیئرمینز ودیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔