اسلام آباد( رانا جواد) اقلیتوں کے حقوق سے متعلق سپریم کورٹ کے 2014ء کے فیصلے کی 10ویں سالگرہ کے موقع پر جسٹس سید منصور علی شاہ کے حالیہ خطاب نے پاکستان میں اقلیتوں کے تحفظ کے حوالے سے بحث و مباحثے کو ایک مرتبہ پھر گرما دیا ہے۔ ان کے پانچ نکاتی منصوبے میں ایک زیادہ روادار اور ترقی پسند قوم کو فروغ دینے کیلئے ایک جامع حکمت عملی موجود ہے۔ سب سے پہلی بات جو انہوں نے کہی ہے وہ یہ ہے کہ ریاست کو چاہئے کہ وہ آئینی دفعات کے موثر نفاذ کو یقینی بنائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقلیتوں کو تشدد اور امتیازی سلوک سے بچانے کیلئے فعال اقدامات کرنے چاہئیں اور ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ اقلیتوں کیخلاف کارروائیوں میں ملوث افراد کو فوری اور فیصلہ کن طور پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ دوسری بات جو جسٹس منصور علی شاہ نے کہی وہ یہ تھی کہ ریاست کو چاہئے کہ وہ باہمی احترام اور افہام و تفہیم کے ماحول کو فروغ دے کر تعلیم اور عوامی بیداری مہم کے ذریعے سماجی ہم آہنگی اور رواداری کو فروغ دے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تعصب اور جہالت کی رکاوٹوں کو ختم کر سکتے ہیں جو اکثر امتیازی سلوک کو ہوا دیتی ہیں۔ تیسری اہم بات جو جسٹس منصور علی شاہ نے کہی وہ یہ تھی کہ ریاست کو عوام کے تمام شعبہ ہائے زندگی بشمول حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ میں اقلیتوں کی مساوی نمائندگی کو یقینی بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نمائندگی اس بات کو یقینی بنانے کیلئے اہم ہے کہ اقلیتوں کی رائے کو معاشرے کی تشکیل کیلئے ضروری سمجھی جانے والی فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے۔ چوتھی بات جو انہوں نے کہی وہ یہ تھی کہ ریاست کو اقلیتوں کے ثقافتی اور مذہبی ورثے کا تحفظ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں عبادت گاہوں کا تحفظ، ثقافتی تقریبات کی حمایت اور ملک کی تاریخ اور ثقافت کی شاندار تاریخ میں اقلیتوں کے کردار کو تسلیم کرنا شامل ہے۔ آخر میں، معزز جج نے کہا کہ ریاست کو ناانصافی کا شکار اقلیتی کمیونٹی کے ازالے اور مدد کے راستے فراہم کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کمیشنوں کا قیام، یا ایسی باڈیز شامل ہیں جن کا کام خصوصی طور پر اقلیتوں کے مسائل حل کرنے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ان کی آواز سنی جائے، اور ان کی شکایات کا ازالہ کیا جائے۔ ہمیں یہاں بین السطور باتوں کو سمجھنا ہوگا۔ پہلا پوائنٹ، آئینی دفعات کے موثر نفاذ کا مطالبہ کرتا ہے اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اگرچہ آئین تمام شہریوں کو مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، لیکن زمینی حقائق کچھ اور ہوتے ہیں۔ فعال اقدامات اور تیز انصاف کا یہ مطالبہ ریاست کیلئے چیلنج ہے کہ وہ بیان بازی سے آگے بڑھے اور اقدامات کے ذریعے اپنی کوششوں کا اظہار کرتے۔ دوسرے پوائنٹ میں تعلیم پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ طویل مدتی تبدیلی کیلئے شاید سب سے طاقتور ذریعہ تعلیم ہی ہے۔ رواداری اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے کیلئے نصاب اور عوامی سطح پر بحث و مباحثے کو نئی شکل دے کر پاکستان امتیازی سلوک کی بنیادی وجوہات دور کر سکتا ہے۔ یہ نقطہ نظر تسلیم کرتا ہے کہ قانونی تحفظ دینے کی باتیں سماجی رویوں میں تبدیلی کے بغیر ناکافی ہیں۔ عوامی زندگی میں مساوی نمائندگی کا مطالبہ کلیدی عہدوں پر اقلیتوں کی کم نمائندگی کے دیرینہ مسئلے کو حل کرے گا۔ یہ تجویز محض علامتی اقدامات سے بالاتر اور اقلیتوں کی بامعنی شمولیت کی حمایت ہے جو پالیسی سازی اور طرز حکمرانی کو نئی شکل دے سکتی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں اقلیتوں کی آواز کی موجودگی زیادہ باریک بینی اور جامع فیصلہ سازی کا باعث بن سکتی ہے۔ اقلیتوں کے ثقافتی اور مذہبی ورثے کا تحفظ صرف عمارتوں یا نوادرات کے تحفظ سے متعلق نہیں۔ یہ ملک کے قومی تشخص کی تشکیل میں ان کمیونٹیز کے اہم کردار کو تسلیم کرنے کے بارے میں ہے۔ یہ بات ان تنگ بیانیوں کو چیلنج کرتی ہے جو اکثر پاکستانی ثقافت اور تاریخ کے مباحثوں پر حاوی رہے ہیں۔آخری بات، ازالے پر توجہ مرکوز کرنا، اس بات کو یقینی بنانے کیلئے اہم ہے کہ اقلیتوں کے حقوق صرف نظریاتی ہی نہیں بلکہ عملی طور پر قابل نفاذ ہیں۔ اقلیتوں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے وقف اداروں کا قیام شکایات دور اور تبدیلی کی حمایت کیلئے بیحد ضروری ذرائع فراہم کر سکتے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ کے پانچ نکات میں آپریٹو اصطلاح ’’ریاست‘‘ اور اس کی ذمہ داری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اقلیتوں کے تحفظ کو تمام ریاستی تنظیموں کی اجتماعی کوشش کے طور پر تشکیل دیا جانا چاہئے اور اس مقصد کی خاطر مربوط اقدامات کی ضرورت ہے جنہیں دیکھتے ہوئے دہشت گردی کیخلاف قومی ایکشن پلان کی تشکیل کے دوران حاصل کیے گئے قومی اتفاق رائے کی یاد آجائے۔ یہ موازنہ صورتحال کی سنگینی اور متفقہ اقدام کی فوری ضرورت کو واضح کرتا ہے۔ تاہم، متفقہ اقدامات صرف سیاسی شخصیات سے شروع ہو سکتے ہیں۔ جب اقلیتوں کے مسائل کی بات آتی ہے تو سیاسی عزم، جو اکثر کم نظر آتا ہے، میں جوش و خروش نظر آنا چاہئے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ انتخابی جوڑ توڑ سے دور ہو کر معاملات دیکھیں اور یہ بات تسلیم کریں کہ سب کو ساتھ ملا کر چلنے سے ہی مضبوط پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ عدلیہ پر بھی ایک اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگرچہ تاریخی فیصلے ایک قانونی فریم ورک فراہم کرتے ہیں، لیکن ان کا اصل امتحان نفاذ میں ہے۔ عدالتوں کو چوکنا رہنا چاہئے اور ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ عدالتوں کے فیصلوں سے اقلیتوں کی زندگیوں واضح طور پر بہتر ہو۔ اقلیتوں کے حقوق صرف ایک گھریلو مسئلہ نہیں: اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ میں مسلسل ناقص کارکردگی سے پاکستان کی عالمی حیثیت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ادارے معمول کے مطابق پاکستان کو مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے تحفظ کے معاملے میں بدترین ممالک میں شمار کرتے ہیں۔ یہ کم درجہ بندی کے سفارتی اثرات ہیں جن سے پاکستان کے مغربی ممالک اور عالمی اداروں کے ساتھ تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال غیر ملکی سرمایہ کاری اور سیاحت میں بھی رکاوٹ ہے کیونکہ عدم استحکام اور عدم برداشت کا تصور ممکنہ سرمایہ کاروں اور مہمانوں کو پاکستان آنے سے روکتا ہے۔ جیسا کہ دنیا تیزی سے انسانی حقوق اور سب کو ساتھ ملا کر چلنے کو ترجیح دے رہی ہے، پاکستان کی اپنی اقلیتوں کو مناسب تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی نہ صرف اس کے عالمی تشخص کو داغدار کرتی ہے بلکہ عالمی ترقی اور تعاون سے بھی الگ تھلگ کر دیتی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ کا پانچ نکاتی منصوبہ قوم کیلئے ایک موقع کہ وہ تکثیریت اور مساوات کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کرے۔ یہ ریاست کیلئے ایک چیلنج ہے کہ وہ صرف علامتی اقدامات سے آگے بڑھے اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے جامع سوچ اختیار کرے۔ اس کوشش میں کامیابی سے نہ صرف اقلیتی کمیونٹی کی زندگیوں میں بہتری آئے گی بلکہ مجموعی طور پر پاکستانی معاشرے کا تانہ بانہ بھی مضبوط ہوگا۔ جسٹس منصور علی شاہ کا ویژن ترقی کا خاکہ ہے لیکن اس کی تکمیل ریاست پاکستان اور اس کے عوام کے اجتماعی عزم پر منحصر ہے۔
اسلام آباد ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جمعہ کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں اس ملک کے میڈیا کو...
کراچی امریکی جریرے کا کہنا ہےچین میں ٹرمپ کو واضح پیغام ملا کہ عالمی طاقت کا مرکز مشرق کی طرف منتقل ہو چکا...
اسلام آباد 190ملین پاؤنڈ کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں میں اہم پیشرفت، اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی...
لاہور وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر پنجاب حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار صوبہ بھر کے 76 ہزار سے زائد...
کراچی یو اے ای کا برآمدی صلاحیت دوگنا کرنے کیلئے نئی آئل پائپ لائن کا منصوبہ، ٹرمپ کا ایران کی میزائل...
کراچی بھارتی صدارت میں دوسرابرکس اجلاس بھی مشترکہ اعلامیہ کے بغیر ختم،ایران امارات اختلافات سے برکس میں...
اسلام آباد پاکستان کےتوانائی شعبےکا سرکلرڈیٹ پانچ ہزاردوسوچھ ارب روپےپر پہنچ گیا،اس میں گیس شعبےکا تین...
اسلام آ باد نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نےآبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی میں امریکی تحویل میں...