ٹرمپ صدربنے تولاکھوں غیرقانونی تارکین کو ڈی پورٹ کرینگے

12 اگست ، 2024

نیویارک (تجزیہ /عظیم ایم میاں)اگر ڈونلڈ ٹرمپ صدرمنتخب ہوگئے تو امریکا میں موجود 11؍ ملین غیر قانونی تارکین وطن کو نہ صرف وسیع پیمانے پر ڈی پورٹ کریں گے بلکہ اپنے سابقہ دور صدارت کی طرح بعض ممالک سے امریکا آنے والے شہریوں پر پابندیاں عائد کردیں گے۔ گو کہ ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کی بعض اہم شخصیات ڈونالڈ ٹرمپ کے اس نعرے اور موقف کی مخالف ہیں لیکن ڈیموکریٹ کملا ہیرس کے انتخابی میدان میں آنے کے بعد ٹرمپ نے غیر قانونی تارکین وطن کو ڈی پورٹ کرنے اور امریکا کی زمینی سرحدوں پر میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تکمیل اور کڑی نگرانی کو اپنی انتخابی مہم کا نمایاں اور اہم موضوع بنالیا ہے۔ ریاست ٹیکساس کی سرگرم ری پبلکن خاتون لارین پینا کا کہنا ہے کہ ’’الیگل‘‘ اور ’’انویژن‘‘ کو ڈی پورٹ کرنے کے نعرے، اعلانات اور وعدوں کا ذکر سن سن کر میں پریشان ہوں۔امید ہے کہ ٹرمپ ہر فیملی کو ڈی پورٹ نہیں کریںگے بلکہ وہ جرائم پیشہ اور ریپ کرنے والوں کو ڈی پورٹ کرنے کی بات کررہے ہیں۔ٹرمپ نے اپنی ڈیپورٹیشن پالیسی پر عمل کرنے کے لئے نیشنل گارڈز حتی کہ فوج کے استعمال کرنے کا ذکر بھی کیا جو 15 ؍ سے 20؍ ملین غیر قانونی تارکین وطن کی ڈیپورٹیشن کا کام انجام دے سکیں۔تازہ اندازے کے مطابق امریکا میں غیر قانونی تارکین کی تعداد 15؍ تا 20؍ ملین بیان کی جاتی ہے۔صدر بائیڈن کی نرم امیگریشن پالیسی کے باعث امریکا سے ملنے والی زمینی سرحدوں سے کئی لاکھ غیر قانونی امیگرنٹس بارڈر کراس کرکے داخل ہوئے اور مختلف امریکی شہروں اور علاقوںمیں پھیل گئے ہیں اس عمل کے نتیجے میں صدر بائیڈن کی اپنی ڈیموکریٹک پارٹی میں بھی بعض ڈیموکریٹ قائدین اور کارکنوں نے بھی اپنے موقف میں مخالفانہ تبدیلی کی ہے اور وہ امیگریشن کی متوازن پالیسی کے حامی ہوگئے ہیں۔ٹرمپ کی جانب سے صدر منتخب ہونے پر بڑے پیمانے پر ڈیپورٹیشن کے اعلانات نے امریکا میں لاکھوں افراد کو خوف میں مبتلا کر رکھا ہے لیکن ٹرمپ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ انتخابات میں صرف امریکی شہری ہی ووٹ دے سکتا ہے۔