رائٹ سا ئزنگ،وزارت قومی صحت کو ختم ، سوشل سیکٹر افیئرز ڈویژن بنا نے کی تجویز

12 اگست ، 2024

اسلام آ باد ( رانا غلام قادر ) رائٹ سا ئزنگ،وزارت قومی صحت کو ختم ، سوشل سیکٹر افیئرز ڈویژن بنا نے کی تجویز، رائٹ سا ئزنگ،وزارت قومی صحت کو ختم ، سوشل سیکٹر افیئرز ڈویژن بنا نے کی تجویز،سینکڑوں متاثرہ افسروں اور ملازمین کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سر پلس پول میں بھیجا جا ئیگا ،ڈیلیوری کا معیار بہتر ،مالی بوجھ کم ہو گا ،وزیر خزانہ کی سر براہی میں قائم کا بینہ کی کمیٹی بر ائے رائٹ سائزنگ نے وزارت قومی صحت کی رائٹ سا ئزنگ کے بارے میں اپنی سفارشات تیار کر لی ہیں۔ حکومتی ذ رائع کے مطابق وزارت صحت کی رائٹ سا ئزنگ کی جو رپورٹ تیار کی گئی ہے اس میں سفارش کی گئی ہے کہ وزارت قومی صحت کو ختم کر دیا جا ئے اس کی جگہ سوشل سیکٹر افیئرز کے نام سے نیا ڈویژن بنا یا جا ئے ۔ یہ ڈویژن بین الا قوامی نوعیت کے امور اور صحت کے امور پر بین الصو بائی کو اآرڈی نیشن اور پا پولیشن و یلفیئر کے امور کو چلایا جا سکے۔وزارت کا انتظامی ڈھانچہ کم کرکے ایک ونگ تک محدود کیا جا ئے گا جس کا سر براہ گر یڈ بیس کا ایک افسر ہو گا۔ اس سے بڑی تعداد میں ایکس کیڈر اور سپورٹ سٹاف متاثر ہو گا جنہیں سول سرونٹس ایکٹ کے تحت سر پلس پول میں بھیجا جا ئے گا۔گروپ افسران کو نہیں بھیجا جا ئے گا ۔ اداروں کے ادغام سے 692سول سر ونٹس متاثر ہوں گے ۔انہیں یا تو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سر پلس پول میں بھیجا جا ئے گا یا قانون سازی سے خود مختار اور نیم خود مختار اداروں کو ٹر انسفر کر دیا جا ئے گا۔این ای ایچ ایس کو اآر ٹی اآئی میں ضم کرنے سے 60سول سر ونٹس متاثر ہوں گے ۔نیشنل ٹرسٹ فار پا پولیشن (NATPOW)کو ضم کر نے سے 106ملازم متاثر ہوں گے۔سفارش کی گئی ہے کہ شیخ زائد ہسپتا ل لا ہور ّنیشنل انسٹی ٹیوٹ اآف فر ٹیلٹی کنٹرول کراچی اور ایف جی ٹی بی سنٹر راولپنڈی صو بوں کو ٹرانسفر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔پمز ہسپتال اور پو لی کلینک ہسپتال اسلام اآ باد کے علاوہ وزارت کے دیگر ہسپتالوں اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کے زیر انتظام بنیادی مراکز صحت اور ڈسپنسریوں کو پبلک پر ائیویٹ پار ٹنر شپ کے تحت چلا یا جا ئے ۔ ہیلتھ سروس ڈیلیوری کے ان مراکز میں فیڈرل گو رنمنٹ ہسپتال ( FGH) ۔ قومی انسٹی ٹیوٹ بر ائے بحالی ادویات (NIRM)شامل ہیں۔ پولی کلینک ہسپتال اور پمز ہسپتال کی صفائی ٗ سیکورٹی اور دیگر جنرل سہولتوں کو اآئوٹ سو ر س کیا جا ئے گا۔ملیر یا کےڈائریکٹو ریٹ کو ختم کرکے اسے ٹرانسفر کرکےایڈز ٗ ٹی بی اورملیریا کا ایک ہی کامن ڈ ائریکٹوریٹ قائم کیا جا ئے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ این ای ایچ ایس ٗ این اآئی ایچ اور این ڈی ایم کے فرائض میں تکرار ( Duplication) ہے لھذا نیشنل ایمر جنسی ہیلتھ سروسز ( NEH) کو ختم کر د یا جا ئے گا۔ کئی عہدوں کی تصحیح کی جا ئے گی جیسا کہ کمپیوٹر پروگرامر ٗ کمپیوٹر افسر اور کمپیوٹر اپریٹر کو ایک ہی عہدہ ( Designation) دیا جا ئے گا۔اسی طرح سٹور سپر وائزر اور سٹور کیپر یا اکا ئونٹس اسسٹنٹ جیسے ملازمین مختلف گریڈز میںکام کر رہے ہیں ۔ اب ایک ہی عہدہ ہوگا۔ وزارت صحت میں افسروں اور ماتحت عملہ کے تناسب کو منطقی بنا نے کی ضرورت پر بھی زور دیاگیا ہے۔ رپورٹ پرعمل دراآ مد کے تحت متاثرہ افسروں اور ملازمین کو سر پلس پول میں بھیجا جا ئے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان سفارشات پر عمل دراآ مد سے صحت عامہ کی خدمات کا معیار بہتر ہو گا۔ حکومت پر مالی بوجھ کم ہوگا۔ پبلک پر ائیویٹ شراکت داری سے سروسز کا معیار ا ور استعداد کار میں بہتری اآ ئے گی۔ذ رائع کے مطابق یہ سفارشات حتمی منظوری کیلئے وزیر اعظم کو پیش کی جا ئیں گی۔