’’شیخ حسینہ کا امریکا پر الزام‘‘ والدہ سے منسوب بیان جھوٹا ہے، بیٹا

12 اگست ، 2024

کراچی (رفیق مانگٹ) بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے صاحبزادے ساجد وازیب نے ان خبروں کی تردید کی جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ حسینہ واجد نے امریکا پر بنگلہ دیش میں حکومت کی تبدیلی کی سازش کا الزام لگایا اور کہا کہ اگر موقع ملتا تو وہ اپنی تقریر میں اس کا جواب دیتی۔ایکس پر ایک پوسٹ میں، وازیب نے ایسی رپورٹس کو ’’مکمل طور پر غلط اور من گھڑت‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے لکھا کہ ایک اخبار میں شائع ہونے والا میری والدہ سے منسوب حالیہ استعفیٰ کا بیان مکمل طور پر جھوٹا اور من گھڑت ہے۔میں نے والدہ کے ساتھ صرف اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ڈھاکہ چھوڑنے سے پہلے یا بعد میں کوئی بیان نہیں دیا۔اس سے قبل انڈین ویب سائٹ’ دی پرنٹ‘ کے حوالے سے دیگر انڈین ، بنگالی اور خلیجی ویب سائٹس نےرپورٹس دیں۔یاد رہے کہ دی پرنٹ ویب کی گلوبل رینکنگ12506 جب کہ بھارت میں یہ1187 رینکنگ پر ہے۔ بنگالی اخبار ’ پروتھوم عالو‘1998میں پہلی بار منظر عام پر آیا۔جس کی ملک میں رینکنگ پانچویں نمبر پر ہے۔یہ خبر کسی برطانوی،امریکی یا کسی اور معتبر مغربی میڈیا میں نہیں آئی۔ دی پرنٹ کی رپورٹ میں میں بتایا گیا کہ شیخ حسینہ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم کے عہدے سے مستعفی ہونے اور طلباء کے پرتشدد مظاہروں کے درمیان 5 اگست کو ملک سے فرار ہونے سے پہلے قوم سے خطاب کرنا چاہتی تھیں اور وہ تقریر جو نہ کی جاسکی اس میں حسینہ نے امریکا پر بنگلہ دیش میں حکومت کی تبدیلی کی سازش کا الزام لگایا۔رپورٹ کے پہلے ورژن کے مطابق، شیخ حسینہ نے انکشاف کیا کہ اگر وہ ’سینٹ مارٹن اور خلیج بنگال امریکا کو دے دیتی تو وہ اقتدار میں رہ سکتی تھیں۔ تاہم ان کے بیٹے وازیب نے اب اپنی والدہ سے منسوب بات مسترد کر دی ہے۔سینٹ مارٹن جزیرہ، جو خلیج بنگال کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے، بنگلہ دیش کا سب سے جنوبی حصہ ہے۔