پاکستان بھر میں اتوار 11اگست کو مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا عالمی دن منایا گیا۔مسیحی برادری کا ایسٹر کا تہوار بھی اسی روز تھاجو اس کیلئے عید کا درجہ رکھتا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر اسلام آباد میںایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےاقلیتوں کے حقوق کے تحفظ،ان کے مسائل کے حل اور معاشرے میں انہیں جائز مقام دلانے کے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی برادریوں نے نہ صرف قیام پاکستان کی جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا بلکہ ملکی ترقی کیلئے زندگی کے ہر شعبے میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔جنگ ہو یا امن،ہر طرح کے حالات میں پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کیلئے ان کے عملی کردار کو بھلایا نہیں جاسکتا۔خود قائداعظم محمد علی جناح ؒنے 11اگست1947ءکو دستورساز اسمبلی سے خطاب کے دوران مذہب اور عقیدے سے قطع نظرپاکستان کے تمام شہریوں کے بنیادی حقوق اور انکے تحفظ کیلئے ریاست کے عملی کردار پر زور دیا تھا۔اقلیتوں کا دن منانے کا مقصد اپنے اسلاف کے عہد پر قائم رہتے ہوئے ان کےحقوق کے تحفظ کا اعادہ کرنا ہے۔وزیراعظم نے علمائے کرام سے کہا کہ وہ مختلف عقائد کے لوگوں میں برابری، برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیں۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی اقلیتوں کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں ان کے مساوی حقوق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میںاقلیتوں کے خصوصی کوٹے کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ہندو میرج ایکٹ اور مسیحی پرسنل لاز بھی تیار ہیں، جنہیں جلد صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔صوبے میں پہلی بار اقلیتوں کیلئے 2ارب85کروڑ روپے کا خصوصی بجٹ مختص کیا گیا ہے ۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ انصاف،برابری،برداشت اور ہر قسم کے امتیازات سے ماورا معاشرے کی تشکیل ان کی پارٹی کا نصب العین ہے۔اسلام درحقیقت امن، انصاف اور مساوات کا دین اور اقلیتوں کے حقوق کا ضامن ہے،جس کا عملی نمونہ میثاق مدینہ ہے۔جس میں تمام مذاہب کے پیروکاروں کیلئے یکساں حقوق اور مواقع فراہم کئےگئے ۔قرآن پاک میں تمام انسانوں کے حقوق پر زور دیا گیا ہےاور یہ بھی کہا گیا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔بیت المقدس کی فتح کے موقع پر خلیفہ ثانی حضرت عمرؓنے قبلہ اول کی کلید عیسائی راہب کے پاس رہنے دی تھی،جو مذہبی رواداری کی بہترین مثال ہے۔بانیان پاکستان کے وژن اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ملک کے آئین میں بھی اقلیتوں کے مساوی حقوق کی ضمانت دی گئی ہےلیکن افسوس کا مقام ہے کہ جامع حکمت عملی اور آئینی ضمانتوں کے باوجود ملک میں اقلیتوں کے حوالے سے عدم برداشت کے اکا دکا واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔اس مسئلے کا واحد حل ایسی کارروائیوں میں ملوث افراد کو فوری فیصلہ کن انداز میں انصاف کے کٹہرے میں لانا ہے۔اقلیتوں کے ثقافتی اور مذہبی ورثے کا تحفظ صرف عمارتوں یا نوادرات کا تحفظ نہیں،قومی تشخص کی تکمیل میں ان کی مساوی شراکت داری بھی ضروری ہے۔اس معاملے میں جو فروگذاشتیں ہورہی ہیں ،ان کی انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور ادارے نشاندہی کرتے رہتے ہیں،جس سے ملک کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔یہ صورتحال ملک کے معاشی اور سماجی ارتقا کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔اس سے غیرملکی سرمایہ کاری اور سیاحت پر منفی اثرات پڑتے ہیں جو دوسرے بحرانوں کا سبب بھی بنتے ہیںاور قومی یک جہتی کو بھی نقصان پہنچنے کا احتمال رہتا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ اسلام اور ملکی آئین نے اقلیتوں کے تحفظ اور حسن سلوک کی جو ضمانتیں دی ہیں ،ان کی پوری طرح پاسداری کی جائے۔
آئیں یہ سوتنیں کبھی ہمراہہاتھ میں ڈالے ہاتھ، ناممکنآگ پانی کا میل ممکن ہے گرمی بجلی کا ساتھ، ناممکن
ویڈیو گیم……اقبال خورشیدیہ سنسنی خیز ویڈیو گیم ایک خیالی شہر کی کہانی بیان کرتا ہے۔میں ایک مشہور ٹیک کمپنی...
ستارہ محض فلکیاتی مظہر نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر استعارہ ہے۔ ایسا استعارہ جو صدیوں سے انسانیت کی رہنمائی کرتا...
وہ بولا ”ہم بے حس نہیں ہوئے... ہم بس اتنے تھک گئے ہیں کہ احساس اٹھانے کی سکت باقی نہیں رہی۔“ یہ جملہ اس نے ایسے...
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کی گرفت میں ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف...
تاریخ وار ہی دیکھ لیں کہ یہ تو شروع ہی مزدوروں کے دن سے ہے۔ کیسے کیسے لوگ تھے، بشیر بختیار، مرزا ابراہیم...
جب سے شدید گرمی ملتان،بہاولپور اور کراچی میں نازل ہوئی ہےپوری پوری رات بہت پیارے لوگوں کے بارے میں بتایا...
آدمؑ کو کس چیز نے مائل کیا کہ بالآخر انہوں نے شجرِ ممنوعہ کو ہاتھ لگا ہی دیا۔ اس سے پہلے یہ کہ آدمؑ کی...