بالادستی کی لڑائی کا نتیجہ؟

ایس اے زاہد
13 اگست ، 2024
ملک مختلف بحرانوں کی زد میں ہے۔ معاشی بحران، سیاسی بحران، آئینی و قانونی بحران اور ساتھ ساتھ فتنہ خوارج ۔ بظاہر یہ سب کچھ پاکستان کے خلاف ایک عرصہ سے جاری بہت بڑی سازش کے اشارے نظر آتے ہیں ۔ لیکن اس خطرناک صورتحال میں عملی اقدامات کر کے ان بحرانوں کو ختم کرنے پر توجہ نہ دینا نہایت افسوسناک ہے۔ معاشی بحران جنہوں نے پیدا کیا ہے وہی سیاسی بحران پیدا کر کے ملک کو ڈبونے کے درپے ہیں۔ ان کا واضح مقصد یہ ہے کہ سیاسی بحران کی وجہ سے کوئی بیرونی سرمایہ کار ی نہیں ہوگی۔ ملک معاشی طور پر کمزور سے کمزور تر ہوتا جائے گا۔اندرونی طور پر امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کیلئے فساد اور افراتفری پیدا ہوگی جس کیلئے مبینہ طور پر تیاری اور کوشش کی جارہی ہے ۔ خوارج کا فتنہ الگ سے جاری ہے اور اب دو اداروں کی آپس کی لڑائی کی وجہ سے آئینی وقانونی بحران مزید سنگینی کی طرف جاتا نظر آرہا ہے۔ ایسے نازک حالات میں اگر اہم اقدامات نہ کئے گئے تو ملک کے مجموعی طور پر بحرانستان بننے اور خدانخواستہ کسی بڑے نقصان سے دوچار ہونے کا خدشہ پیداہو سکتا ہے۔
ذرائع کا خیال ہے کہ معاشی اور سیاسی بحران کے ذمہ داران کو جتنا ریلیف عدلیہ کی طرف سے دیا جا رہا ہے شاید ملکی تاریخ میں اتنا ریلیف کسی کو بھی نہیں دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن ،جو ایک آئینی ادارہ ہے ،کی جتنی بے توقیری کی گئی ہے اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی۔ اب پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان بالادستی کی لڑائی نے جاری بحرانوں میں ایک اور اضافہ کر دیا ہے جو بہت ہی خطرناک ہے۔ اگر چہ عدلیہ ، پارلیمنٹ میں بعض فیصلوں پر تناؤ کی کیفیت تو کچھ وقت سے موجود تھی لیکن مخصوص نشستوں کے بارے میں بن مانگے فیصلے اور اسی سے جڑے پارلیمنٹ کی قانون سازی بل نے تناؤ کو لڑائی میں تبدیل کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے پر عملدرآمد کے بارے میں بیان نے بحران کو اور گہرا کر دیا ہے۔
حکومت اور اتحادیوں کا موقف ہے کہ قانون بنانا پارلیمنٹ کا حق و اختیار ہے اور عدلیہ کا کام اسی قانون پر چلنا اور اسی کے مطابق فیصلے کرنا ہے ۔ جبکہ عدلیہ کا موقف اس سے مختلف ہے اور وہ یہ کہ عدالتی فیصلے پر من و عن عمل ضروری ہے اور اس سے انحراف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دوسری طرف عدالتی فیصلے کے جاری کرنے کیلئے مقررہ میعاد ختم ہو چکی ہے یہ بھی ایک قانونی معاملہ ہے۔بعض جج صاحبان کے چھٹی پر جانے سے چونکہ فیصلہ جاری کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے ،جس کی وجہ سے دوسرا فریق نظر ثانی درخواست بھی مقررہ مدت کے اندر دائر نہیں کر سکتا جو کہ اس کا حق ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ نظر ثانی درخواست بھی قانون کے مطابق فیصلہ دینے والے پنچ کے سامنے دی جاتی ہے اوریہ ا س بنچ پر منحصر ہے کہ وہ درخواست کو سماعت کے لیے منظور یا خارج کر دے اور اگر درخواست منظور برائے سماعت کی بھی جاتی ہے تو فیصلہ پھر بھی اسی بنچ نے کرنا ہوتا ہے۔
غیر جانبدار قانونی ماہرین بھی موجودہ صورتحال پر واضح رائے دینے سے قاصر نظر آتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے بنائے قانون کو عدلیہ ختم کر سکتی ہے یا عدلیہ کے فیصلے کی اس قانون کی وجہ سے اہمیت ختم ہو جاتی ہے ۔ یہ تو آنے و الا وقت بتائے گا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا حق ہے یا عدالتی فیصلے کا احترام لازم ہے۔
یہاں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ عدلیہ نے ایک ایسی جماعت کو وہ انصاف دیا جو اس نے مانگا ہی نہیں تھا اور نہ ہی پارلیمنٹ میں اس کا وجود تھا۔ دوسرا یہ کہ آئین کے مطابق الیکشن کے بعد آزاد ارکان کاتین دن کے اندر کسی جماعت جو پارلیمنٹ میں موجود ہو میں شامل ہونا لازمی ہے جبکہ یہاں تو الیکشن کے کئی ماہ گزر نے کے بعد آزاد ارکان کو مخصوص جماعت میں شامل ہونے کا بن مانگا موقع دیا گیا بلکہ پندرہ دن کا وقت بھی دیا گیا۔ حکومت کا موقف یہ ہے کہ بغیر مانگے ریوڑیاں دینے کا فیصلہ نہیں مانا جاسکتا اس لیے پارلیمنٹ میں حکومتی اتحادی جماعتوں نے متفقہ طور پر اکثریت کے ساتھ ترمیمی قانون بنایا جس کا صدر مملکت کی منظوری کے بعد گزٹ نوٹیفیکیشن بھی جاری ہوا ۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت مذکورہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہیں کرتی تو عدلیہ کیا کرے گی یا کیا کر سکتی ہے اور اگر عدلیہ پارلیمنٹ سے بنائے گئے مذکورہ قانون کو ختم کرنا چاہے تو کیا یہ ممکن ہے اور اگر ایسا ہوا تو حکومت کیا کرے گی یا کیا کر سکتی ہے۔ اس نازک صورتحال کا نتیجہ ہر دو صورتوں میں کچھ اچھا نظر نہیں آرہا ۔ ملکی صورتحال کو دیکھیں تو نہ آئین کی پاسداری ہے نہ قانون کی ۔ ملک پسند نا پسند کی بنیاد پر چلا یا جا رہا ہے۔ یہاں نام نہاد جمہوریت مکمل طور پر نا کام ہو چکی ہے ۔ جو کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ اب تو کچھ کرکے ملک کو بچا لیں ورنہ بحرانوں کےاس سیلاب میں سب کچھ بہہ جانے کا خدشہ ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)