کابینہ کی جانب سے ڈیڑھ لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کے بعد سے لے کر اب تک چینی کی ریٹیل اوسط فی کلو قیمت میں چار روپے چھپن پیسے تک کا اضافہ ہوا ہے، یہ قیمتیں بڑھنے کے باوجود وفاقی حکومت چینی کی برآمد روکنے میں تاحال ناکام ہے حالانکہ کابینہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ قیمت بڑھنے پر چینی کی برآمد فوری روک دی جائیگی، خبر چھپی ہے کہ حکومت نے بجلی چوروں کیلئےالگ سے تھانے اور عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، ملک بھر میں بجلی چوروں کیلئے 8ہزار 769تھانے قائم کیے جائیں گے، بجلی چوروں کیلئے قائم 497عدالتوں میں 634افراد پر مشتمل عملہ ہو گا۔ اس نئے نظام پر سالانہ 10ارب 70کروڑ روپے کی لاگت آئیگی جسکا بوجھ عوام اٹھائیں گے، نئے تھانوں اور عدالتوں کیلئے پہلی بار 10ارب سے زائد رقم وفاقی حکومت دے گی پھر اس کے بعد تقسیم کار کمپنیاں اخراجات کی رقم عوام سے وصول کریں گی، بجلی چور پکڑنے اور سزا دینے کے اخراجات بھی صارفین سے وصول کیے جائیں گے۔ میری نظر میں اگر حکومت اپنے اس ’’دانش مندانہ‘‘ فیصلے پر عمل بھی کرتی ہے تو یہ جبر جلتی پر تیل ڈالنےکے مترادف ہوگا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پہلے سے موجود اداروں کو منظم کر کے کیوں نہ ان سے یہ کام لیا جائے، بجلی چوروں کو پکڑنے کیلئے الگ سے تھانے اور عدالتیں لگانے کی ضرورت ہی کیا ہے، ہر چیز کی چوری روکنےکیلئے کیا الگ الگ تھانے اور عدالتیں بناتے پھریں گے! بجلی کے صارفین پر آپ نے پہلے کیا کم بوجھ ڈال رکھے ہیں جو مزید بوجھ ڈالنے کے فیصلے کر رہے ہیں۔ کرائے کے گھروں میں رہنے والے شہری روتے اور کہتے ہیں کہ ہم نے تو کبھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا کہ ہمارے حکمران بجلی اس قدر مہنگی کر دیں گے کہ ہر ماہ کرائے سے زیادہ بجلی کا بل بھرنا پڑے گا، اپ کو کیا معلوم کہ حالات اس قدر سنگین ہو چکے ہیں کہ یہ بے سہارا انسان بھیک مانگ کر، قرض لے کر، موٹر سائیکل بیچ کر، مویشی بیچ کر حتیٰ کہ گھر کا سامان بیچ کر بجلی کے بل دے رہا ہے۔ کمر توڑ مہنگائی نے اہل پاکستان کا کچومر نکال دیا ہے اور زندگی ہی اجیرن کر دی ہے۔ حکمرانوں کو کیا خبر کہ عوام خون کے آنسو رو رہے ہیں اور دُہائی دے رہے ہیں کہ ظلم کی انتہا ہو گئی ہے، خدارا اسلام کے نام پر حاصل کیے جانے والے اس اسلامی جمہوریہ پاکستان پر کچھ رحم کرو، اس غریب قوم میں اب مزید کچھ سہنے کی سکت نہیں رہی۔ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک میں قائم آدھے سے زیادہ آئی پی پیز حکومت کی اپنی ملکیت ہیں، اگر آئی پی پیز کے معاہدے غلط نہیں تھے تو پھر قوم کو سالانہ دو ہزار ارب روپے کا ہرجانہ کیوں ادا کرنا پڑ رہا ہے؟ یہ سرمایہ چند ہاتھوں تک ہی کیوں پہنچایا جا رہا ہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت آئی پی پیزکا فرانزک آڈٹ کرا کے وسائل کے ضیاع کو روکے کیونکہ اب یہ بات ناگزیر ہو گئی ہے کہ آئی پی پیز کی کپیسٹی پیمنٹس کے جن کو بوتل میں بند کیا جائے۔ وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز کے معاملے پر امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کو مناظرے کا چیلنج دے دیا۔ سردار اویس لغاری نے جیو کے جرگہ میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آئی پی پیز کے معاملے پر حافظ نعیم الرحمٰن کے ساتھ اوپن مناظرے کے لیے تیار ہوں، امیر جماعت اسلامی اپنے ساتھ دو چار انجینئرز بھی لے آئیں مگر میں ان سے اکیلے ہی بات کروں گا۔“ سردار اویس لغاری جی کی خدمت میں بصد تکریم و احترام التماس ہے کہ آپ کا کام اپنے سیاسی مخالفین کو چیلنج دینا نہیں بلکہ صارفین کو ریلیف دینا ہے اور اگر آپ کو مباحثے و مناظرے کرنے کا زیادہ ہی شوق ہے تو پلیز پورا فرما لیں، میں آپ کا یہ چیلنج قبول کرتا ہوں، آپ آئیں اورجہاں چاہیں مناظرہ کر لیں میں بھی آپ سے اکیلے ہی بات کروں گا، میں آپ کو دعوت دے رہا ہوں کہ آپ اپنی حکومت کے کسی پردھان منتری منسٹر کو بھی ساتھ لائیں جو اخلاص و اخلاقیات اور استدلال و سلیقے کے ساتھ بات بھی کر سکے تو پھر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا لیکن میں یہ بخوبی جانتا اور سمجھتا ہوں کہ آپ ایسا کبھی نہیں کر سکیں گے کیونکہ آپ کو معلوم ہے کہ آپ کی یہ حکومت غریب عوام کے منہ سے روٹی کا نوالہ بھی چھین رہی ہے۔ بڑے بڑے محلات بنگلوں میں امیروں کے گھوڑے اور کتے تو سونے کے نوالے نگلتے ہیں جبکہ ایک عام انسان دو وقت کی روٹی کو روتا ہے۔
بھوک پھرتی ہےمرے دیس میں ننگے پاؤں
رزق ظالم کی تجوری میں چُھپا بیٹھا ہے
سبز ہلالی پرچم لہرانے اور آزادی کے گن گانے کے ان پابند اگست موسموں میں اہل پاکستان دل دل پاکستان نہیں بلکہ بِل بِل پاکستان گنگنا رہے ہیں پلیز آپ حالات و معاملات کو درست کریں، دلجوئی فرمائیں اس غریب عوام کی مشکلات و مسائل بڑھائیں تو نہ، آپ اگر یہ اندھیرے ختم نہیں کر سکتے تو کم ضرور کریں، مہنگائی کا بُھوت بوتل میں بند کریں نہیں تو یہ بِل بِل پاکستان بڑھتا ہی جائے گا کبھی رُکے گا نہیں اور اس بِل بِل پاکستان کا بول بالا ہوگا جبکہ جبر کا منہ کالا ہوگا ۔ میں وقت سے پہلے آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ اگر اس حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو عنقریب چہارسو ”گو شہباز گو“ ہو گا اور ایک عوامی سمندر ہوگا، بس دما دم مست قلندر ہوگا۔
مزید خبریں
-
پاکستانی صحافت کا روشن با ب الطاف حسن قریشی 94 سال کی عمر میں طویل اور مسلسل با مقصد زندگی گزار کر گذشتہ شام...
-
ویسے سچ پوچھیں تو مجھے امید نہیں تھی کہ مریم نواز کوئی غیر معمولی کارکردگی دکھا سکیں گی۔ میں نے کئی اور لوگوں...
-
آئی ہے خبر کہ ہوگئے وہدنیا کے غم و الم سے آزادالطاف حسن قریشی صاحب لوگوں کو رہیں گے مدّتوں یاد
-
بلاک……مبشر علی زیدیآج ایک پرانے دوست کو سوشل میڈیا پر بلاک کردیا،ڈوڈو نے دکھی لہجے میں بتایا۔جھگڑا ہوا...
-
پاکستان میں صحافت کے شعبہ میں اقتصادی امور کے حوالے سے محنت اور کاوشوں کے بعد پچھلے سال جب باقاعدہ طور پر...
-
ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسکے سر پر اپنی چھت اور اپنا مکان ہو جس کیلئے وہ پوری زندگی جدوجہد کرتا ہے۔ اس وقت...
-
حدیقہ کیانی سے مجھے ہمیشہ ایک انجانی سی جڑت، شفقت اور روحانی قربت کا احساس رہا ہے۔اُس کی شخصیت میں جھلکتی ایک...
-
افغان طالبان کے برسراقتدار آنے سے پہلے جب پاکستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی تو نصیراللہ...