اسلام آباد (مہتاب حیدر) یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ پاور سیکٹر کو مالیاتی استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ لاحق ہے، حکومت مختلف تجاویز کے ذریعے بجلی کے نرخوں کو معقول بنانے کے منصوبے بنا رہی ہے جس میں وفاقی اور صوبائی سطحوں پر ترقیاتی بجٹ کی مختص رقم میں کمی بھی شامل ہے۔ حکومت سرکاری اور نجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے گھریلو آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو بند کرنے پر بھی کام کر رہی ہے۔ تاہم آئی ایم ایف نے ابھی تک پاور ریشنلائزیشن پلان کی توثیق نہیں کی ہے۔ حکومتی صفوں کے اندر بھی کچھ مزاحمت ہے کیونکہ بعض اہم حلقوں کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ منصوبہ قابل عمل نہ ہو اور یہ نقصان میں جانے والے پاور سیکٹر کو درپیش ساختی مسائل کا مستقل حل فراہم کرنے میں ناکام رہے گا۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ نان سی پیک آئی پی پیز کو مختلف آلات کے ذریعے صلاحیت چارجز کی ادائیگی کا ہدف بنایا جائے گا۔
اسلام آباد وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ امن کا قیام فوری نہیں ہوتا...
کراچی پاکستان میں ایرانی ریال کی طلب میں حالیہ دنوں کے دوران غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ ایرانی کرنسی...
کراچی ایران کو ایسا امریکا نظر آیا جو مذاکرات کے بجائے شرائط مسلط کرنے کی کوشش کر رہا تھا، نیویارک ٹائمز کے...
کراچی ایران میں امریکی فضائی اہلکار کی تلاش کے دوران خفیہ دھوکا دہی آپریشن، سی آئی اے نے اسرائیلی نژاد...
اسلام آباد اسلام آباد میں 21گھنٹے طویل مذاکرات دراصل ایک طویل سلسلے کی پہلی قسط تھے، کسی فوری بریک تھرو کی...
راولپنڈی پنجاب حکومت کے اشتراک سے گندم خریداری شروع ہو گئی۔ پنجاب کے 285مراکز پر گندم کی خریداری 3500 روپے فی من...
ویٹیکن سٹی کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے لبنان کے عوام سے اپنی گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے...
لاہور پاکستان ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے سیلز ٹیکس قوانین میں حالیہ ترامیم واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے...