کسی بھی ملک کے سفر، معاشی ترقی وقت کی بچت اور مسافروں کی سہولت اورحفاظت کے لئے صاف ستھرے راستے، گلیاں اور سڑکیں ناگزیر ہیں۔ اول درجے کی دنیا نے اس باب میں یقیناً بہت ترقی کی ہے۔ مغرب اور مشرق بعید کی کشادہ مضبوط اور روشن سڑکیں نہ صرف عوامی مسافت کے لئے بہت عمدہ کردار ادا کر رہی ہیں بلکہ تجارت کو بھی ایک نیا رخ دے رہی ہیں۔ مشرق بعید، برطانیہ، امریکہ اور یورپ کی معاشی اور اقتصادی ترقی کا ایک بنیادی سبب روشن، فراخ اور مضبوط شاہراہیں ہیں۔ ان شاہراہوں پر اگر ایک طرف تقریباً ہر میل کے بعد ایمرجنسی ٹیلیفون نصب ہیں تو دوسری طرف پولیس اور سڑکوں کی مرمت کرنے والے اداروں کی گاڑیاں رواں دواں نظر آتی ہیں۔ گاڑیوں کی رفتار پر نظر رکھنے کے لئے ان سڑکوں پر جگہ جگہ کیمرے نصب ہیں اور پولیس مستقل گشت پر رہتی ہے تاکہ قانون شکن افراد کو قانون کے شکنجے میں ڈالا جائے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے یہ نہیں دیکھتے کہ قانون کس نے توڑا ہے۔ قانون شکنی کرنے والے کو اس کے عہدے اور سماجی شخصیت سے قطع نظر جرمانہ بھرنا پڑتا ہے اور بعض صورتوں میں عدالت میں بھی پیش ہونا پڑتا ہے۔ ہم برطانیہ کی بات کرتے ہیں یہاں مرحومہ ملکہ برطانیہ، شہزادوں اور شہزادیوں کو کئی بار پولیس نے روکا اور ان کے ڈرائیورز پر جرمانے عائد کئے۔ سڑکوں اور شاہراہوں کی اسی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے برطانوی حکومت ہر سال سڑکوں کی تعمیر اور مرمت پر ملین پونڈز خرچ کرتی ہے۔ اس بار اسکاٹ لینڈ میں سڑکوں کی مرمت کے ذیل میں اخراجات 2.5 بلین تک پہنچ گئے ہیں۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ اسکاٹ لینڈ کی لیبر پارٹی کے حاصل کردہ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسکاٹ لینڈ کی کونسلز میں مقامی سڑکوں کی مرمت پر یہ خطیر رقم خرچ کی جارہی ہے۔ حکومت نے اسکاٹ لینڈ کی تمام مقامی حکومتوں سے سڑکوں کی مرمت پر اخراجات کی تفصیل معلوم کی تھی۔ 32 مقامی کونسلوں میں سے 28 کونسلوں نے جو معلومات حکومت کو دیں ان کی رو سے مرمت پر 2 بلین پونڈز سے زیادہ خرچ ہونگے۔ اسکاٹ لیبر کے ٹرانسپورٹ سے متعلق ترجمان ’’الیکس رائولے‘‘ کے مطابق ایس این پی کے زیر حکومت سڑکوں کی حالت ناگفتہ بہ ہو چکی ہے اور ڈرائیورز کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اسکاٹ لینڈ کی گڑھوں سے بھری ہوئی سڑکیں مسافروں کے لئے مشکل کا سبب بن چکی ہیں اور یہ محکمے کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس این پی کو کونسلوں کے بجٹ میں بیہمانہ طریقے سے کٹوتی کا سلسلہ بند کر دینا چاہئے اوراسکاٹ لینڈ کے عوام سے کئے ہوئے وعدے پورے کرنے چاہیں۔ ان حالات میں عوام حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں کے درمیان سنجیدہ گفتگو کرکے اس مسئلے کو حل کرنے کی مانگ کر رہے ہیں اور قیاس کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی بات چیت سےیہ مسئلہ حل ہو جائے گا، اور سڑکوں کی مرمت کا کام جلد ہی شروع ہو جائے گا۔ ہم اول دنیا کی سڑکیں دیکھتے ہیں وہاںگڑھے پڑنے پر عوام کا احتجاج بھی ہمیں نظر آتا ہے اور بے اختیار ہمارا دھیان اپنے پیارے ملک پاکستان کی طرف چلا جاتا ہے۔ وہاں حکومت کے تعمیراتی کاموں کے ادارے پی۔ڈبلیو۔ڈی پر موجودہ حکومت نے کرپشن کاالزام عائد کیا اور اس محکمے کو بند کر دیا گیا۔ پنجاب میں نواز حکومت نے کئی اچھی سڑکیں اور عمدہ شاہراہیں بنائی ہیں اوربرابر ان کی مرمت اور دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ ان سڑکوں پر رواںدواں پولیس بھی دیانتدار انداز میں اپنے فرائض انجام دے رہی ہے۔ شنید ہے کہ اگر کوئی وزیراعظم ان سڑکوں پرٹریفک کا قانون توڑے تو اسے نظرانداز نہیں کیا جاتا اور اسے بھی عام آدمیوں کی طرح جرمانہ بھرنا پڑتا ہے۔ لیکن یہ صورت حال صرف چند شاہراہوں کی ہے اس کے علاوہ پورے پاکستان میں سڑکوں اور شاہراہوں کا برا حال ہے۔ نہ صرف جگہ جگہ سڑکیں ادھڑی ہوئی ہیں بلکہ وہاں بڑے بڑے گڑھے بھی پڑے ہوئےہیں۔ بہت ہنگاموں کے بعدکسی سڑک پر کوئی ٹھیکے دار گڑھے بھرتا ہے جو چند ماہ بعد ہی پھر نمودار ہو جاتے ہیں اور یہ نتیجہ ہے ’’رشوت ستانی‘‘ کا حکومت کی رقم سب مل کر اڑا جاتے ہیں۔ ذرا سی بارش ہو جائے تو سڑکوں کا برا حال ہو جاتا ہے۔ بعض گھوسٹ اسکولوں کی طرح گھوسٹ سڑکیں بھی موجود ہیں جن کا وجود صرف کاغذات میں دکھایا جاتا ہے۔ ہماری اشرافیہ اور ممبرز پارلیمان ترقیاتی بجٹ کی صورت میں کروڑوں روپے حاصل کرتے ہیں۔ لیکن اکثر اوقات ان روپیوں کے خرچ کرنے کے کہیں آثار نظر نہیں آتے۔ چند جگہوں کے علاوہ پورے ملک میں سڑکوں کا برا حال ہے خصوصاً سندھ اور بالخصوص کراچی تو برسوں سے کھنڈر بنا ہوا ہے کوئی پوچھنے والا اورسڑکوں کی مرمت کی ذمے داری قبول کرنے والا نہیں ہے۔ آئے دن حادثات ہوتے رہتے ہیں اور انسانی جانیں ضائع ہوتی رہتی ہیں۔ پی ڈبلیو ڈی کے خاتمے کے بعد جن اداروں کو سڑکوں کی مرمت اور تعمیر کا کام سونپا گیا ہے اگر انہوں نے سڑکوں پر تو جہ نہ دی تو خدانخواستہ حادثے ہوتےرہیں گے اور لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھوتے رہیں گے۔ خدا ہمیں اس غیرذمے داری سے محفوظ رکھے۔
کرتے ہیں رقم حاصل ہم عالمی بینکوں سےیا دوست ممالک کا احسان اٹھاتے ہیں ہم اور چچا غالبؔ مقروض ہیں دونوں ہی...
پاکستان میں آبادی کا مسلسل اور تیز رفتار اضافہ ایک ایسا سنگین مسئلہ بن چکا ہے جسے نظر انداز کرنا مستقبل...
یار مجھے یاد پڑتا ہے تم کسی زمانے میں خاصے خود دار شخص ہوا کرتے تھے،’’ہاں تھوڑا تھوڑا مجھے بھی یاد...
پاکستان میں آم کی مجموعی پیداوار کا 70فیصد سرائیکی خطہ دیتا ہے، وسیب قدرتی طور پر ہمیشہ سے باغات کی سرزمین...
ڈاکٹر عبادت بریلوی 14اگست 1920ءکو بریلی میں پیدا ہوئے ۔ جوبلی کالج لکھنؤ اور لکھنو ٔیونیورسٹی سے تعلیم پائی۔...
ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم میں قائم مختلف امور کا جائزہ لینے والے ایک ادارے نے اپنے ایک سروے کے...
ایران کیخلاف دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ اور اس کے لے پالک اسرائیل کی جارحیت کی ناکامی اور شکست اس صدی کا اب...
گندم پاکستانیوں کی بنیادی غذا اور اس سر زمین پر پیدا ہونے والا سب سے اہم اناج ہے۔ مگر جانے کیا ہوتا ہے کہ کھیت...