بلوچستان ، KPمیں حکومت کی رٹ ختم ہوچکی، امن نہیں دے سکتے تو ٹیکس کس بات کا؟فضل الرحمٰن

08 ستمبر ، 2024

لاہور (رب نواز خان +محمد صابر اعوان ) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کےحکمرانوں اور اسٹبلشمنٹ سمیت پوری دنیا کو سارے پاکستان کی جانب سے یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا حکومت کی ترجمانی کرتے ہوئے فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں، فلسطینیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ،عقیدہ ختم نبوت پر امت کا اتفاق ہے برملا کہتا ہوں کہ تم میرے عقائد اور اسلام کو نہ چھڑو ،پاکستان کے عوام ختم نبوت کا دفاع کرناجانتے ہیں،7ستمبر کے دن یہ اجتماع دنیا کو پیغام دے رہا ہے کہ پاکستان کے عوام ختم نبوت کا دفاع کس طرح کر تے ہیں۔ اس اجتماع نے قادیانیت اور لاہوریت کی قمر توڑ کر رکھ دی ، امریکہ اور یورپ ملکر بھی قادیانیت کو پناہ نہیں دے سکتے ، نہ اسرائیل اس کی کمر سیدھی کر سکتا ہے ، مولانا فضل الرحمن نے کہا جب تم مجھے مراعات نہیں دے سکتے تو میں ٹیکس دینے سے انکار کر دوں گا امریکہ اور یورپ کی ایماء پر مدارس پر دبائو بڑھایا جا رہا ہے ،میرے مدارس کی ایک اینٹ نکالو گے میں تمھارے اقتدار کی پوری دیوار مسمار کر دوں گا ، ان سے ملک نہیں سنبھالا جارہا ،بلوچستان اور خیبرپختواہ ہاتھ سے نکل رہا ہے۔بلوچستان، خیبرپختونخوا میں حکومت کی رٹ ختم ہوچکی ہے، امن نہیں دے سکتے تو ٹیکس کس بات کا لیا جارہا ہے ،مینارِ پاکستان گرائونڈ میں گولڈن جوبلی ختمِ نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا فلسطین میں اسرائیل کاظلم وبربریت جاری ہے،حماس کے مجاہدین فلسطین کی آزادی کے لیے آگے بڑھیں ، امریکا انسانی حقوق کا قاتل تو ہو سکتا ہے،علم بردارنہیں، یہ ملک ہمارا ہے،اس میں اسلام کی قدروں کو بلند ہونا ہوگا، مولانا فضل الرحمن نے کہا2018 اور 2024 کے الیکشن نتائج دونوں دھاندلی زدہ ہیں، اب اہمیت اس عوامی اسمبلی کی ہے یہاں سےقوانین پاس ہوں گے ۔ ہم امید رکھتے ہیں چیف جسٹس تفصیلی فیصلہ میں علماء کی رائے کو نظرانداز نہیں کریں گے،پاکستان کی سلامتی خلاف کوئی بات قبول نہیں کرسکتے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل نہیں کیا جارہا۔ یہ انقلاب کا آغاز ہے یہاں سے انقلاب کے جذبے سے آگے بڑھیں گے ،انہوں نے کہا کہ وفاقی شرعی عدالت نے سود کے خلاف فیصلہ دیا تو کچھ بینکوں نے اس کے خلاف نظر ثانی کی درخواستیں دے دیں اس حوالے سے سپریم کو رٹ کو خط لکھا ہے کہ تمام اداروں کو یہ ہدایات دیں کہ پانچ سال کے اندر اپنے نظام کو سود پا ک کر لیں، سود اللہ کے ساتھ جنگ ہے ، اگلی تحریک اسی نظام کے خلاف ہو گی ، کانفرنس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔کانفرنس سے رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد،مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ ساجد میر،وفاق المدارس العربیعہ کے سربراہ قاری محمد حنیف جالندھری، جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی صدر عبدالخیر آزاد ، جمعیت علماء اسلام(ف) کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری، مفتی شہاب الدین پوپلزئی ،جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا اسعد محمود ، صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی،علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، عبداللہ گل ،مولانا فضل الرحیم اشرفی ، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنمامولانا محمد امجد خان، مولانا منظور مینگل سمیت دیگر قائدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم تحفظ ناموس رسالت قانون کےچوکیدارہیں ،عقیدہ ختم نبوت کی تحریک کو آگے بڑھائیں گے۔