سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کیلئے مختص5فیصد کوٹہ پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، بلوچستان اسمبلی

10 ستمبر ، 2024

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)بلوچستان اسمبلی نے سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کیلئے مختص پانچ فیصد کوٹہ پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی قرارداد منظور کرلی ، بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پیر کو نصف گھنٹے کی تاخیر سے اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں ہوا ۔ اجلاس میں اقلیتی رکن روی پہوجہ نے اقلیتی اراکین سنجے کمار اور پیٹرک سنٹ مسیح کی مشترکہ قرارداد ایوان میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے نہ صرف سیاست بلکہ افواج پاکستان ، بیوروکریسی ، تعلیم اور صحت کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں میں ملک کی ترقی کے لئے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں چونکہ ریاست مذہبی اقلیتوں سمیت کم نمائندگی والے طبقات کے تحفظ ان کو بااختیار بنانے اور ان کی ترقی کیلئے پرعزم ہے تاکہ اقتصادی سیاسی اور عوامی نمائندگی میں ان کی شرکت کو یقینی بنایا جاسکے بہ ایں وجہ وفاقی و صوبائی حکومتوں نے تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے ملازمتوں میں اقلیتوں کیلئے 5 فیصد کوٹہ مختص کیا ہے لیکن صوبائی محکموں میں اقلیتوں کے لئے مختص کوٹہ 5 فیصد پر عملد درآمد نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے اقلیتوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے ، لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ اقلیتوں کے لئے مختص کوٹہ پر عمل درآمد کرانے کے لئے فوری طور پر عملی اقدامات اٹھانے کو یقینی بنائے تاکہ اقلیتوں میں پائی جانے والی بے چینی اور احساس محرومی کا خاتمہ ممکن ہوسکے ۔ قرارداد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے روی پہوجہ نے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان میں آباد غیرمسلموں کو سرکاری اداروں اور اس ایوان میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے ، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بھی ہمیشہ اقلیتوں کو برابر کے حقوق دیئے ہیں ، آئین میں اقلیتوں کیلئے سرکاری ملازمتوں میں پانچ فیصد کوٹہ مختص ہے تاہم اکثر تعیناتیوں میں اس کوٹہ کو نظر انداز کیا جاتا ہے جس سے نتیجے میں اقلیتی نوجوان مایوس ہیں ، کنٹریٹ پر تعیناتیوں میں بھی اقلیتوں کیلئے مختص کوٹہ پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محکموں کے سیکرٹریز اور وزراءاس بات کو یقینی بنائیں کہ سرکاری محکموں میں تعیناتیوں کے دوران اگر غیر مسلم امیدوار کامیاب نہیں ہوتے تو ان کو پر کرنے کی بجائے دوبارہ مشتہر کیا جائے ۔ بعد ازاں قرار داد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ۔ اجلاس میں محمد صادق سنجرانی ، میر زابد ریکی ، میر جہانزیب مینگل ، سید ظفراللہ آغا اور مولوی نوراللہ کے محکمہ صحت اور محکمہ محنت و افرادی قوت سے متعلق سوالات جوابات آنے پر نمٹا دیئے گئے ۔ اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے تحفظ ماحولیات ایجنسی کی آڈٹ رپورٹ برائے سال 2021- 22اور کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح کی آڈٹ رپورٹ برائے سال 2020-21 پیش کیں ۔ بعد ازاں اسپیکر نے اسمبلی کا اجلاس جمعرات سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا۔