اسلام میں مرد و خواتین دونوں کیلئے علم حاصل کرنے کا حکم، خواتین کو تعلیم دلائے بغیر معاشرہ تبدیل نہیں ہوگا، سرفراز بگٹی

10 ستمبر ، 2024

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ معاشرہ تب تک تبدیل نہیں ہوگا جب تک ہماری خواتین پڑھ لکھ نہ جائیں ہمیں صوبے میں خواتین کی شرح خواندگی میں مزید اضافہ کرنا ہے،طالبات تعلیم حاصل کرنے کے بعدجس بھی شعبہ کا انتخاب کریں گزارش ہے اپنے ملک کیلئے ایمانداری سے کام کریں،جن اساتذہ نے ہمارئے بچوں کو پڑھاتے ہوئےاپنی جانیں قربان کیں ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،پروفیسر ناظمہ طالب کے نام سے گورنمنٹ گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج کوئٹہ میں بلاک تعمیر کیاجائے گا ۔ یہ بات انہوں نے پیر کو گورنمنٹ گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج کوئٹہ کے پہلے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے گریجویشن مکمل کرنے والی طالبات اور ان کے والدین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ گورنمنٹ گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج کوئٹہ کا پہلا کانووکیشن ایک نئی روایت ہے اور مجھے خوشی ہے کہ صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ درانی کی توسط سے مجھے یہ موقع ملا کہ طالبات اور ان کے والدین سے بات کرسکوں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دین میں مرد اور خواتین دونوں کیلئے علم حاصل کرنے کا حکم ہے ، یہ معاشرہ تب تک تبدیل نہیں ہوتا جب تک ہماری خواتین پڑھ لکھ نہ جائیں اور جب میں سرکاری ملازمتوں میں خواتین کو دیکھتا ہوں تو خوشی ہوتی ہے ، خواتین مردوں کی نسبت زیادہ محنت کرتی ہیں اس وقت بلوچستان کی پانچ ڈپٹی کمشنرز خواتین ہیں ان کے ساتھ خواتین اسسٹنٹ کمشنرز ہیں جو بہترین انداز میں فرائض انجام دے رہی ہیں ، ہمیں صوبہ میں خواتین کی شرح خواندگی میں مزید اضافہ کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گریجویٹ طالبات سے گزارش ہے کہ وہ جس بھی شعبہ کا انتخاب کریں اپنے ملک کیلئے ایمانداری سے کام کریں ،بلوچستان حکومت نے صوبے میں بہت بڑا بینظیر بھٹو اسکالر شپ پروگرام شروع کیا ہے جس میں گریجویٹ کرنے والی طلباء کیلئے مواقع ہیں کہ وہ دنیا میں کہیں بھی جائیں دو سو ٹاپ یونیورسٹیوں میں پی ایچ ڈی کی اسکالر شپ ملیں گی ، بلوچستان بورڈ سے ہر ضلع میں ٹاپ کرنے والے دس بچوں اور بچیوں کو ہر سال آئندہ 16 سال کی تعلیم حکومت بلوچستان فراہم کرئے گی ۔انہوں نے کہا کہ وہ سول شہدا جنہوں نے اپنا آج ہمارئے کل کی خاطر قربان کیا پاکستان کیلئے اپنا مقدس خون بہایا ان کے بچے جہاں پڑہ رہے ہوں گے حکومت ان کو ان سے بہتر جگہ پر تعلیم فراہم کرئے گی ،اقلیتوں ، ٹرانسجنڈز کیلئے اسکالر شپ پروگرامز ہیں ۔انہوں نے کہاکہ بہت سارے اساتذہ نے اپنی جانیں ہمارئے بچوں کو پڑھاتے ہوئے قربان کیں ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ پروفیسر ناظمہ طالب کو 9 اپریل 2009ء کو بڑی بے دردی کے ساتھ شہید کیا گیا تیس سال پڑھاتی رہیں بلوچستان حکومت ان کی قربانی کو نہیں بھولی ، ان کے نام سے گورنمنٹ گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج کوئٹہ میں بلاک تعمیر کیاجائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کے ساتھ جس جس نے وفاء کیا اللہ تعالیٰ نے اس کو عزت سے نوازا اور جس جس نے بے وفائی کی ہے ان کو رسواء ضرور کیا جس کی مثال آپ کو بنگلہ دیش میں مل رہی ہوگی ۔ درایں اثناء صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیرعلیٰ بلوچستان کی تعلیم کے حوالے سے واضح پالیسی ہے،تاریخ میں پہلی بار اسکول ایجوکیشن کیلئے بجٹ میں خطیر رقم مختص کی گئی ہے جبکہ ہائیر ایجوکیشن پر بھی حکومت کی توجہ مرکوز ہے ، انہوں نےگریجویشن مکمل کرنے والی طالبات کو مبارکباداور وزیراعلیٰ بلوچستان کا کانووکیشن میں شرکت پر شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان تعلیم دوست انسان ہیں جب سے انہوں نے وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالا ہے ان کی توجہ تعلیم اور صحت کے شعبہ پر مرکوز رہی ہے ، وزیراعلیٰ بلوچستان کی تعلیم کے حوالے سے واضح پالیسی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار اسکول ایجوکیشن کیلئے بجٹ میں خطیر رقم مختص کی گئی ہے جبکہ ہائیر ایجوکیشن پر بھی حکومت کی توجہ مرکوز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ایک ہی سوچ ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے تحت تعلیم کے سلسلے کو آگئے بڑھائیں ۔انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبہ کو درپیش مسائل سے آگاہ اور تعلیم کے فروغ کیلئے ہرممکن کردار ادا کررہی ہوں اس سلسلے میں نوجوانوں کے تعاون درکار ہے۔