گیس بلوں سے متعلق احکامات پر عمل نہ ہونے پر عدالت عالیہ برہم، چیف سیکرٹری اور وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری طلب

10 ستمبر ، 2024

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس محمد کامران ملاخیل اور جسٹس شوکت علی رخشانی پر مشتمل بینچ نے گیس بلوں سے متعلق عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان اور وزیر اعلی بلوچستان کے پرنسپل سیکرٹری کو وضاحت کے لئے اگلی سما عت پر طلب کرلیا ہے۔عدالت نے سید نذیرآغا ایڈووکیٹ کی جانب سے بلوچستان میں گیس بلوں میں نت نئے چارجز شامل کرنے ، لوڈشیڈنگ اورگیس پریشر میں کمی کے خلاف دائر آ ئینی درخواست کی سماعت کی سماعت کے دوران درخواست گذار سید نذیر آغا ایڈووکیٹ ،نصیب اللہ اچکزئی ایڈووکیٹ ،برہان الدین ایڈووکیٹ،اظہر الدین ایڈووکیٹ ،امتیاز شاہد ایڈووکیٹ ،سوئی سدرن گیس کمپنی کے محمد عمر سومرو ایڈووکیٹ ،ایڈیشنل اے جی شہک بلو چ ،اسسٹنٹ اٹارنی جنرل خوشحال کا سی اور سوئی گیس کمپنی کے حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران 5اگست 2024کے حکم کی پیروی کیلئے جی ایم (ریکوری )ایس ایس جی سی ایل کرا چی اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کوئٹہ کے آفیسران پیش ہوئے دوسری جانب گیس بلز سے متعلق شکایات لے کر آنے والے صارفین کی بڑی تعداد بھی عدالت میں مو جود تھے۔ سماعت کے دوران معزز بینچ نے کہاکہ ہم وقتا فوقتا گیس کمپنی کے حکام سے استفسار کرتے رہے ہیں کہ صوبے کے گھریلو صارفین کے گیس بلوں سے متلعق عدالتی احکامات پر عمل درآمد کیوں نہیں کیا جارہا ہے۔ جس پر ایک بار پھر سوئی گیس کمپنی کی جانب سے عدالت کو بتایا جارہا ہےکہ آئی ٹی شعبے میں کچھ تیکنیکی خرابی کی وجہ سے بلوں کے حساب میں غلطی ہے جب ہم کیس کو میرٹ پر آ گے بڑھا تے ہیں تو گھریلو صارفین کے بلز کا مسئلہ حل طلب ہوتا ہے یہ گیس کمپنی کے حکام کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھاتا ہے ایس ایس جی سی کی ایگزیکٹیوز بھی حساب و کتاب کی غلط فہمی میں ہے یہ ایک راکٹ سائنس ہے اور ان فارمولوں کے بارے میں کمپنی کے علا وہ کوئی نہیں جانتا، پبلک سیکٹر انٹرپرائزز جس کا اولین مقصد اس ملک کی عوام کو سہولیات باہم پہنچانا ہے لیکن سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کے رویے سے ظاہر ہوتاہےکہ وہ پا کستانی شہریوں کے بارے میں زیادہ کنسرن نہیں بلکہ وہ کمپنی کو ایک جاگیر کی طرح چلا رہے ہیں اور حالات کا تقاضاہےکہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام کی کارکردگی پر نظرثانی کی جائے۔ ان کا نان ٹیکنیکل ،نان پروفیشنل ، ضدی اور مغرور رویہ عوام کو ایس ایس جی سی کے بائیکاٹ کے آپشن پر مجبور کر دے گا۔لوگ افسوس اور احتجاج کے ساتھ اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں مگر ایس ایس جی سی حکام اس پر توجہ دینے کو تیار نہیں ہے۔ سماعت کے دوران جی ایم (ریکوری )ایس ایس جی سی ایل نے بتایا کہ اگلا بلنگ سائیکل اگلے ہفتے سے شروع ہوگا اور عدالت کے احکامات کی روشنی میں تمام صارفین کے بلوں کی تصحیح درستگی کی جا ئے گی ۔عدالت نے مذکورہ حکمنامے کی کاپی وزیر اعظم پاکستان کے پرنسپل سیکرٹری کی آگاہی اور عمل درآمد کے لئے بھیجنے کی ہدایت کی اور عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔عدالت نے مذکورہ حکم نامے کی کاپی چیف سیکرٹری بلوچستان اور وزیر اعلی کے پرنسپل سیکرٹری کو بھی آگاہی اور عمل درآمد کے لئے بھیجنے کا حکم دیاہے اور ہدایت کی ہےکہ چیف سیکرٹری بلوچستان اور وزیر اعلی کے پرنسپل سیکرٹری اگلی سماعت کے موقع پر ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہوکر اس بابت عدالت کی جانب سے دیئے گئے۔احکامات پر عمل درآمد سے متعلق پیش رفت رپورٹ پیش کریں۔