کوسٹ گارڈ کے روئیے پر علی مدد اور اسد بلوچ کے درمیان تند و تیز جملوں کا تبادلہ

10 ستمبر ، 2024

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیرزراعت حاجی علی مدد جتک اور بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے رکن میر اسد بلوچ کے درمیان تلخی ، انتہائی تند و تیز جملوں کا تبادلہ ، اسپیکر نے تمام غیرپارلیمانی ریمارکس کارروائی سے حذف کرادئیے ۔ پیر کوبلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے رکن میر اسد بلوچ نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں امن اس وقت ہوگا جب غیر جانبدارانہ انتخابات ہوں گے ، ڈاکٹر دین محمد کی بیٹی سیمی دین کو بیرون ملک جانے نہیں دیا گیا ، بلوچستان سے کراچی جانے والے مسافروں کو بیلہ میں کوسٹ گارڈ کے اہلکار تنگ کررہے ہیں ، کراچی جانے والے مریضوں کو کئی کئی گھنٹے روکا جاتا ہے ، مسافروں کا سامان پھاڑ دیا جاتا ہے ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا ، انہوں نے اسپیکر سے استدعا کی کہ کوسٹ گارڈ کے ذمہ داروں کو اسپیکر چیمبر میں طلب کرکے انہیں لوگوں کی تذلیل سے روکا اور اس کا مستقل حل تلاش کیا جائے ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ میں اسد بلوچ کی بات سے متفق ہوں ، ہم کوسٹ گارڈ کے حکام کو بلائیں گے ، اپوزیشن لیڈر اور اسد بلوچ کو بھی وہاں بلائیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے اسپیکر سے استدعا کی کہ اسمبلی کی کارروائی کو رولز اینڈ ریگولیشن کے مطابق چلایا جائے ، وقفہ سوالات میں لمبی لمبی تقریریں نہیں ہوتی ہیں ، ایوان قوائدوضوابط کے مطابق چلائی جائے۔ اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی نے کہا کہ یہاں روایت رہی ہے اگر اسمبلی کی کارروائی کو رولز کے مطابق چلائیں تو لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے تاہم اسمبلی کی کارروائی کو رول اینڈ ریگولیشن کے مطابق چلانا پڑئے گا ۔ صوبائی وزیرزراعت علی مدد جتک نے کہا کہ کیا جب اسد بلوچ گزشتہ پانچ سال اقتدار میں تھے تو کیا کوسٹ گارڈ نہیں تھی مگر ان پانچ سالوں کے دوران ایک دن بھی انہوں نے اسمبلی فلور پر بات نہیں کی اب سستی شہرت کیلئے بلوچ پشتون کی بات کی جارہی ہے ، کیا اس وقت پنجگور سے یہاں تک چیک پوسٹوں پر لوگوں کو نہیں روکا جاتا تھا ، اس موقع پر صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک اور اپوزیشن رکن اسد بلوچ کے درمیان انتہائی تلخ اور تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہوا تاہم اسپیکر نے تمام غیرپارلیمانی ریمارکس کارروائی سے حذف کرادئیے ۔ اسپیکر کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی نے کہا کہ اراکین بلوچستان اسمبلی کیلئے ورکشاپ کا انعقاد کررہے ہیں تاکہ انہیں اسمبلی کے قوائد وضوابط سے آگاہ کرکے اسمبلی کو بہتر انداز میں آگئے لیکر چلائیں ۔ انہوں نے کہا کہ اراکین اسمبلی غیر پارلیمانی الفاظ اور ایک دوسرے کی عزت نفس کو مجروح کرنے والے الفاظ استعمال کرنے سے اجتناب کریں ، یہاں لوگ ہم کو دیکھ رہے ہیں وہ کیا تاثر لیں گے ۔ اجلاس میں جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی عبدالمجید بادینی نے کہا کہ میرے ضلع میں 30 یونین کونسلز میں 12 بی ایچ اوز قائم ہیں جن میں سے چھ غیر فعال اور بند پڑے ہیں ، غیر فعال بی ایچ یوز کو فعال کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ 2022ء کے سیلاب کے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے کرائے گئے سروے میں سابق رکن صوبائی اسمبلی ، رکن قومی اسمبلی موجودہ رکن قومی اسمبلی جو غریب لوگ ہیں ان کے دو دو کچے گھر مہندم ہوئے ہیں ان کی چار سو ایکڑ زرعی زمین بھی متاثر ہوئی ہے وڈیروں اور جاگیرداروں کے مہندم ہونے والے کچے گھر بھی فہرست میں شامل ہیں حالانکہ ان کے گھروں کو پانی نے چھوا تک نہیں ، وزیراعلیٰ بلوچستان دوبارہ سروے کرائیں تاکہ اصل متاثرین اور غریبوں کی داد رسی ہوسکے ۔