اسلام آباد (محمدصالح ظافر خصوصی تجزیہ نگار) وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ ہفتہ رواں میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی منظوری کے لئے آئینی ترمیم کا مسودہ پیش کردیا جائے گا جس کی رو سے ملک کے عدالتی نظام میں بنیادی تبدیلی نافذ کردی جائے گی بعض عناصر جو حکومتی کارکردگی میں رختہ ڈالنے کے لئے عدلیہ کو استعمال کرتے ہیں عدالتی نظام کی تبدیلیوں کے ذریعے انہیں بے بس کردیا جائے گا اس طرح عوام کی بھلائی، معاشی سدھار اور استحکام کو یقینی بنانے کے لئے ماحول کو یقینی بنایا جائے گا،،ذرائع کا دعوی ہے کہ بینظر ،نواز شریف کے میثاق جمہوریت کی رو سے الگ الگ آئینی عدالت کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے، جبکہ پیر کی شب ایوان وزیراعظم میں پاکستان مسلم لیگ نون اور اس کی حلیف جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کے اعزاز میں عشایئے سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے بڑے پرعزم لہجے میں یہ اعلان کیا وہ حد درجہ مسرور اور پرجوش دکھائی دے رہے تھے انہوں نے ارکان پارلینمٹ سے استدعا کی کہ وہ آج (منگل) سے پارلیمانی ایوانوں کے اجلاس ملتوی ہونے تک اپنی حاضری کو یقینی بناکر رکھیں اس دوران قابل اعتمادذرائع نے جنگ /دی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے مجوزہ آئینی ترمیم کے لئے پارلینمٹ کے دونوں ایوانوں الگ الگ دو تہائی ارکان کی حمایت حاصل کرلی ہے یہ ارکان موجودہ حکومت کے عرصہ اقتدار میں اپنےآزادانہ کردار کو برقرار رکھتے ہوئے حکومت کو تائید فراہم کرتے رہیں گےوزیراعظم نے ان سات ارکان اسمبلی کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا جو غیر معمولی نوعیت کی آئینی ترمیم کی منظوری کے لئے ایوان میں موجود رہنے کی غرض سے بیرون ملک میں اپنا قیام ترک کرکے وطن واپس آئے ہیں ان میں میجر طاہر، پیر سید عمران شاہ، چوہدری حسین اور انجینئرامیر مقام بھی شامل ہیں معلوم ہوا ہے کہ عدالتوں کے از خود نوٹس لینے کے اختیار کو محدود کرنے اور مرحومہ بینظیربھٹو کے ساتھ نواز شریف کے جو ن2006 کے معاہدے کی رو سے الگ آئینی عدالت کا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے اس معاہدے کو میثاق جمہوریت سے موسوم کیا گیا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف تحریک انصاف کے جلسہ عام کے دوران استعمال کردہ زبان ، الزامات ، لہجے اور اشتعال انگیز گفتگو پر سخت برہم تھے انہوں نے کہا کہ یہ لوگ اپنے حرکتوں سے باز نہیں آرہے قبل ازیں وہ اختلاقیات اور شائستگی سے نوجوانوں کو بیگانہ کرنے میں مصروف ہیں اب وہ قومی اداروں کے بارے میں بے ہنگم باتیں کرکے نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ اس جماعت کے بڑوں نے جلسے میں انتہائی نازیبا زبان استعمال کی اس کی جس قدر بھی مذمت کی جائے کم ہے انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد اور صدر سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی قیادت میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کردیا گیا تھا بد قسمتی سے گزشتہ حکومت کی گمراہ کن حکمت عملی کے باعث اس نے دوبارہ سر اٹھالیا حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک پر عزم ہے۔ حلیف جماعتوں کے رہنمائوں نے ملک میں معاشی استحکام کی واپسی پر وزیراعظم کی کوششوں کو ہدیہ تحسین پیش کیا ان جماعتوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی کی شرح میں معتدبہ کمی آنے اور اسے نو اعشاریہ چھ فیصد پر لانا معیشت میں بہتری کے ضمن میں حکومتی کوششوں کا آئینہ دار ہے معاشی ماہرین کی جانب سے ماہ رواں میں افراط زر کی شرح میں مزید تخفیف کے ہونے کی توقع قابل لحاظ خوشخبری ہے واضح رہے کہ 2018 میں نواز شریف حکومت کے اختتام پر افراط زر کی شرح کو حکومت سنگل ڈیجیٹ میں چھوڑ کر گئی تھی وزیراعظم نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ملک کے لئے بتدریج بہتری کے آثار جنم لے رہے ہیں ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لئے جس جدوجہد کی داغ بیل اپریل 2022 میں ڈالی گئی تھی وہ نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہے اور ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی واقع ہو رہی ہے انہوں نے بتایا کہ ہم نے اپنی سیاست کو قربان کرکے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا حکومت کی معاشی ٹیم کی دن رات محنت کے باعث معیشت نہ صرف مستحکم ہوئی بلکہ ترقی کی جانب گامزن ہے انہوں نے پاکستان کے خادم کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالتے ہی عوام سے عہد کیا تھا کہ ان کی پریشانیاں کم کرکے ہی دم لیں گے اب حکومتی معاشی اصلاحات کے نتائج عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں شہباز شریف نے کہا کہ عام آدمی کی زندگی کو آسان اور اس کی معاشی خوشحالی کے بغیر پاکستان کی ترقی کے ہدف کا حصول ممکن نہیں ہے معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن حکومت کی اولین ترجیح ہے ایف بی آر کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کا آغاز اس میں اہم سنگ میل ہے انہوں نے یقین دلایا کہ بجلی کے بلوں کے حوالے سے غریب اور کم آمدنی والے طبقات کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں حکومتی حجم کرنے اور اخراجات میں کمی کے لئے رائٹ سائزنگ اور ڈائون سائزنگ شروع کردی گئی ہے ملک کو سیاسی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کی ضرورت ہے ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لئے ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا۔