بیرونی فنانسنگ میں ناکامی پر IMF ایگزیکٹو بورڈ سے قرض موخرہونیکا امکان

10 ستمبر ، 2024

اسلام آباد (مہتاب حیدر) آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے قرض کی منظوری اکتوبر 2024 تک موخر ہو سکتی ہے اگر اسلام آباد جاری ہفتے کے اندر دو طرفہ اور تجارتی قرض دہندگان سے 2 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ پاکستان کو اپنا دستخط شدہ لیٹر آف انٹینٹ (ایل او آئی) آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کو بھیجنا ہوگا جس میں اس تحریری وعدے کے ساتھ 37 ماہ کے ای ایف ایف کے تحت 7 ارب ڈالر کی منظوری پر غور کرنے کی درخواست ہوگی کہ حکومت پاکستان فنڈ پروگرام کی تمام متفقہ شرائط کی تعمیل کرے گی۔ اب تک پاکستان 18 ستمبر 2024 تک آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے ایجنڈے میں موجود نہیں ہے۔ اسلام آباد آئی ایم ایف کی جانب سے نشاندہی کردہ 2 ارب ڈالر کے مالیاتی فرق پر دو طرفہ قرض دہندگان سے یقین دہانیاں حاصل کرنے کے لیے آخری کوششیں کر رہا ہے۔ اگر یہ جاری ہفتہ بغیر تصدیق کے گزر گیا تو پھر 7 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پر فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری حاصل کرنے کا امکان کم ہو جائے گا۔ اب ایک ابھرتے ہوئے منظر نامے کے ساتھ پاکستان کی مشکلات کا شکار معیشت کے لیے ایک اور خطرہ منڈلا رہا ہے کہ اگر آئی ایم ایف پروگرام کی منظوری اکتوبر تک موخر ہو جاتی ہے اور اگلے مہینے کا تیسرا ہفتہ شروع ہو جاتا ہے تو پھر پہلی سہ ماہی (جولائی-ستمبر) کا ڈیٹا ظاہر ہونا شروع ہو سکتا ہے، لہٰذا ایسی صورت حال میں اگر مالیاتی محاذ پر خرابیاں سامنے آئیں تو آئی ایم ایف کا عملہ منی بجٹ کی نقاب کشائی کا نسخہ لے کر آ سکتا ہے۔ ایف بی آر کے ٹیکس اور نان ٹیکس وصولی کے اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کی وجہ سے ممکنہ اور سنگین خطرات ہیں۔ نان ٹیکس ریونیو کی وصولی کے لیے، ممکنہ خطرہ پی او ایل مصنوعات کی کھپت میں کمی کا ہو گا، جس سے موجودہ مالی سال کے لیے تجویز کردہ پیٹرولیم لیوی ہدف کے حصول میں سنگین خطرات پیدا ہوں گے۔ حکومت نے پیٹرولیم لیوی کے ذریعے 1.281 ٹریلین روپے کی وصولی کا تصور کیا تھا لیکن مقامی مارکیٹ میں پی او ایل کی کھپت میں کمی کے نتیجے میں نان ٹیکس محصولات کے ہدف کو حاصل کرنے میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اب ایف بی آر کے اندرونی کام سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ایف بی آر کو پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے لیے 200 سے 220 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور 18 سے 20 ستمبر کے آس پاس کچھ قسم کے تخمینے ظاہر ہوں گے جب سیلز ٹیکس گوشوارے دستیاب ہوں گے۔ اگر ریونیو میں خاطر خواہ کمی ہوتی ہے تو بڑے پیمانے پر اخراجات کو کم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ اب وزارت خزانہ امید کر رہی ہے کہ آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی 12 ستمبر 2024 کو منعقد ہونے والی اگلی میٹنگ میں پالیسی ریٹ میں 150 سے 200 بیسس پوائنٹس کی کمی پر غور کر سکتی ہے جسے 19.5 فیصد سے کم کرکے 18 یا 17.5 فیصد تک لایا جائے گا۔ پالیسی کی شرح میں کمی کے امکان کے تناظر میں اخراجات کے مد میں سب سے بڑا آئٹم آنے والے مہینوں میں کچھ کمی دیکھ سکتا ہے جو کیو بلاک (وزارت خزانہ) کے باشندوں کے لیے ضروری سانس لینے کی جگہ ہے۔ سرکاری موقف لینے کیلئے وزارت خزانہ کو سوالات بھیجے گئے لیکن تمام اعلیٰ حکام نے خاموش رہنے کو ترجیح دی۔