اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر 22 اگست کا جلسہ ملتوی کیا، عمران خان کا اعتراف

10 ستمبر ، 2024

راولپنڈی (خبر نگار) اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر 22 اگست کا جلسہ ملتوی کیا ، اسٹیبلشمنٹ نے ضمانت دی تھی کہ 8 ستمبر جلسہ میں مکمل سہولت فراہم کرینگے ،اعظم سواتی صبح 7 بجے میرے پاس آئے اور کہا اسٹیبلشمنٹ نے بھیجا ہے ، اسٹیبلشمنٹ نے درخواست کی کہ ملک کی خاطر جلسہ ملتوی کریں ، اعظم سواتی نے پیغام دیا تھا اسٹیبلشمنٹ نے ضمانت دی تھی کہ 8 ستمبر جلسہ میں مکمل سہولت فراہم کرینگے ، اسی پیغام پر پاکستان کی خاطر 22 اگست کا جلسہ ملتوی کیا۔ انہوں نے کہا کہ گارنٹی دی گئی تھی کہ جلسے کیلئے این او سی دیا جائے گا اور سہولیات فراہم کی جائیں گی، جلسے کو روکنے کیلئے کنٹینرز لگائے گئے اور رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور پھر کہا گیا کہ سات بجے جلسہ ختم کریں۔ انہوں نے کہا کہ قانون پاس کر کے خود کو این آر او دیا گیا، جمہوریت کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا، قانون پاس کر کے اربوں روپے کے کیسز معاف کروائے گئے ہیں، پاکستان قرضے لے کر نہیں بچے گا،نیب ترامیم کے ذریعے این آر او دے کر منی لانڈرنگ جائز قرار دے دی گئی اب ان کو کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔ پاکستان میں قانون کی بالادستی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آ سکتی وہ تمام ممالک خوشحال ہیں جہاں قانون کی حکمرانی ہے، پاکستان میں قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، تمام اداروں کو ایک جماعت ختم کرنے پر لگا دیا گیا ، ملک بیرون ملک پاکستانیوں کی سرمایہ کاری سے بچے گا، بیرون ملک مقیم 17 ہزار پاکستانی فزیشنز کے اثاثوں کی مالیت 200 ارب ڈالر ہے۔ ہمارے دور میں چھ اشاریہ دو فیصد کا گروتھ ریٹ تھا، ایکسپورٹس بڑھ رہی تھیں، اگر میں نے مقدمات سے ریلیف لینا ہوتا تو ملک سے بھاگ جاتا، مجھے یہی کہا گیا تھا کہ 3 سال خاموش رہو مقدمات ختم ہو جائیں گے۔