کیا علی امین گنڈاپور واقعی’’ رانگ نمبر‘‘ ہیں؟

10 ستمبر ، 2024

اسلام آباد(فاروق اقدس)کیا علی امین گنڈاپور واقعی’’ رانگ نمبر‘‘ ہیں؟ کچھ عرصہ قبل ماہ صیام میں جب وزیر اعلیٰ کے پی کے اور ان کی کابینہ کے مخصوص ارکان کو پشاور کے کورکمانڈر کی جانب سے کمانڈر ہائوس میں افطار پارٹی دیئے جانے کی خبریں آئیں تھیں تو ان کی تردید کی گئی لیکن پھر ان کی تصدیق بھی ہوئی اور’’افطار پارٹی‘‘پر مدعو پی ٹی آئی کے وزیراعلیٰ اور کابینہ کے دیگر ارکان کے عسکری حکام سے ایک ’’سائونڈ پروف‘‘کمرے میں مذاکرات کی کہانیاں بھی سامنے آئیں ،پارٹی میں ہی علی امین گنڈا پور کو ’’رانگ نمبر‘‘قرار دیا گیا اور ماضی کے بعض واقعات کے حوالے سے ان کے بارے میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ڈبل گیم کھیل رہا ہے ،اسلام آباد میں تقریر کے موقع پر وہ ’’شہد‘‘کے زیر اثر تھے یہ مطالبہ بھی سننے میں آ رہا ہے کہ ردعمل اتنا شدید ہے کہ بات اب قیدی نمبر 804کی معذرت سے ہی سنبھل سکتی ہے وگرنہ یہی سمجھا جائے گا کہ علی امین گنڈا پور نے مذکورہ جلسے کے موقع پر جو تقریر کی تھی انہیں بانی چیئرمین کی حمایت حاصل تھی اس لئے عمران خان کو بھی اس حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرنا پڑے گی۔ جلسے کی تقریر دوسری طرف گنڈا پور کی تقریر پر ردعمل کا سامنا مختلف طبقات کی جانب سے آ رہا ہے صحافیوں کے ساتھ ساتھ بالخصوص انہوں نے خواتین کے حوالے سے بھی جس طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے اس پر عورت فاؤنڈیشن نے بھی وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وزیراعلی کی زبان دھمکی آمیز تھی۔ علی امین نے سائبر کرائمز ایکٹ 2016 کے سیکشن 10 سائبر دہشت گردی کی خلاف ورزی کی ہے۔راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے قیدی نمبر 804کے پارٹی کو دیئے گئے احکامات کی تعمیل اور خواہشوں کی تکمیل ،ان کی اسیری کے دورانیہ کم و بیش ایک سال سے زیادہ عرصے پر محیط ہیں ،وفاقی دارالحکومت میں ایک کامیاب جلسہ کرنے کی خواہش ان کیلئے اس وجہ سے بھی شدید تھی کہ 9مئی کے بعد پی ٹی آئی اسلام آباد میں کوئی جلسہ نہیں کر سکی اور اب بھی مسلسل کوششوں کے بعد جب اسلام آباد میں جلسہ کرنے کی اجازت جو 40 سے زیادہ شرائط اور حدود و قیود کے ساتھ ملی تھی اس کیلئے جگہ کی تبدیلی ایک سے زیادہ مرتبہ کی گئی تھی۔ پی ٹی آئی کے قائدین اور مرکزی رہنمائوں کے ان دعوئوں کو مفروضے کی بنیاد پر ہی سہی اگر کچھ دیر کیلئے تسلیم کر لیا جائے کہ تعداد اور جوش و خروش کے اعتبار سے یہ ایک عظیم الشان جلسہ تھا جو انتظامیہ کی جانب سے رکاوٹوں کے باوجود منعقد ہوا تو پھر بھی دعوئوں پر مبنی پی ٹی آئی کی اس کامیابی کو علی امین گنڈا پور کی شرمناک حد تک غیر ذمہ دارانہ تقریر اور بازاری جملوں پر مشتمل تھی گو کہ علی امین کو موجودہ منصب پر فائز کرنے کے بارے میں پارٹی میں خاصے تحفظات شروع سے ہی موجود تھے لیکن یہ بھی بانی چیئرمین کا ایک نفسیاتی مسئلہ دکھائی دیتا ہے کہ جس شخص کی جتنی مخالفت کی جائے وہ انہیں اتنا ہی پسند ہوتا ہے۔ اس سے قبل اپنی حکومت میں وہ بزدار کو ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیراعلیٰ مقرر کرکے اس کے نتائج ابھی تک بھگت رہے ہیں جنھوں نے اپنے محسن سے جیل میں ملاقات تو دور کی بات حکومت کے خاتمے کے بعد شاید ہی کوئی رابطہ کیا ہو۔ ایسی ہی کچھ صورتحال علی امین گنڈاا پور کے معاملے میں بھی درپیش ہے۔