مشیر اطلاعات کے پی نے امین گنڈاپور کی گرفتاری کا خدشہ ظاہر کردیا

10 ستمبر ، 2024

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیوکے پروگرام ”آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ “ میں گفتگو کرتے ہوئے مشیر اطلاعات کے پی ، بیرسٹر سیف نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی گرفتاری کا خدشہ ظاہر کیا ہے،انہوں نے کہا کہ سینئر اراکین پارلیمنٹ کو ایسے گرفتار کیا گیا جیسے وہ مجرم ہوں،اگرایس او پیز کی خلاف ورزی ہوئی بھی تو وہ حکومت نے خود کروائی کیوں کہ انہوں نے جلسہ گاہ جانے والے تمام راستے بند کردیئے تھے جس کی وجہ سے راستے بند ہوگئے تھے،سینئر صحافی و تجزیہ کار، سہیل وڑائچ نے کہا کہ تحریک انصاف کا ہر لیڈر عمران خان سے خوفزدہ ہے،سینئر صحافی و تجزیہ کار، منیب فاروق نے کہا کہ خالد خورشید اورعلی امین گنڈا پور کی جانب سے جو تقاریر کی گئیں، مراد سعید کا ویڈیو بیان چلایا گیا اس کا بڑا شدید رد عمل آیا ہے۔اس وقت اسٹیبلشمنٹ میں جو جذبات پائے جاتے ہیں کہ آپ کو ہم نے سیاسی طور پر گنجائش دی آپ نے اس کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔اب جس طریقے سے قانون اپنا رستہ لے گا وہ سب کو نظر آئے گا۔مشیر اطلاعات کے پی ، بیرسٹر سیف نےکہا کہ وزیراعلیٰ کے پی کی تقریر میں اگر کوئی قابل اعتراض بات تھی تو قانون موجود ہے عدالت فیصلہ کرے گی اور عدالت جو بھی سزا دے وہ سب کو قبول ہوتی ہے۔اطلاعات ہیں کہ پولیس نے وزیراعلیٰ کے پی کو گرفتار کرنے کے لئے ٹیمیں بنائی ہیں۔ہم سمجھوتہ نہیں کریں گے،جمہوریت اور آئین کے دائرہ کار میں رہ کرجدوجہد کریں گے، سہیل وڑائچ نے کہا اس وقت پی ٹی آئی کی قیادت میں اس بات کی دوڑ ہے کہ عمران خان کو کیسے خوش رکھنا ہے۔نمائندہ جیو نیوز،حیدر شیرازی نے گفتگو کرتے ہوئے کہاپی ٹی آئی قیادت سے ہم نے اپوزیشن چیمبر میں بات کی تو انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیاتھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کی گرفتاری کے لئے پولیس موجود ہے۔اس دوران عمر ایوب خان اور زرتاج گل کو بتایا گیاکہ آپ کو گرفتار کئے جانے کا امکان ہے۔پی ٹی آئی کی سینئر قیادت نے بتایاکہ پولیس کے رابطوں کے بعد پتہ چلا ہے کہ تین مختلف مقدمات ہیں جن کا تعلق گزشتہ روز کے جلسے سے ہے۔علی امین گنڈا پور کے بھائی فیصل امین کی جانب سے یہ واضح کیا گیاہے کہ علی امین گنڈا پور کو گرفتار نہیں کیا گیا یہ خبریں فیک ہیں۔ منیب فاروق نے کہا تعجب کی بات یہ ہے کہ کچھ ایسے لوگوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن کی تقاریر میں قابل اعتراض بات نہیں تھی۔بہت سارے معاملات شاید بہت جلد بازی میں آپ کو ہوتے ہوئے نظر آئیں۔ جو شاید تحریک انصاف اور ملک کے سیاسی نظام کے لئے اچھے نہیں ہیں۔ شہزاد اقبال نےکہاعلی امین گنڈا پور جو لب و لہجہ اور دھمکی آمیز انداز میں وہ بات کررہے تھے اس نے پی ٹی آئی کے لئے کام خراب کیا ہے۔نمائندہ جیو نیوز، نورین سلیم نےکہا میری ایک سینئر پولیس افسر سے بات ہوئی انہوں نے بتایا کہ میرے پاس چار لوگوں کی فہرست ہے جنہیں گرفتار کرنا ہے۔پی ٹی آئی کے دیگر رہنما علی محمد خان، عامر ڈوگر آرام سے روانہ ہوئے وہ پولیس کی لسٹ میں شامل نہیں تھے ۔شبیر ڈارنےکہا کہ عمران خان آج پریشان نہیں تھے۔ البتہ آج صحافیوں نےعمران خا ن کو بتایا گیا کہ علی امین گنڈا پور نے صحافیوں کو دھمکی دی ہے انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ۔انہوں نے کہا مجھے اعظم خان سواتی کے ذریعے یہ پیغام پہنچایا گیا کہ 22 اگست کا جلسہ منسوخ کریں اسلام آباد میں حالات مخدوش ہیں ۔