5سال میں حکومت نے 57 ارب 27 کروڑ ڈالر ملکی قرضہ لیا

10 ستمبر ، 2024

اسلام آ باد ( رانا غلام قادر ) قومی اسمبلی گزشتہ پانچ سالوں کے دوران لیے غیر ملکی قرضوں کی تفصیلات پیش کر دی گئیں۔2019 سے 2023 تک 2 کروڑ 31 لاکھ افراد نے گوشوارے جمع کروائے، وزیر خزانہ سنیٹر اورنگزیب نے تحر یری رپورٹ میں ایوان کو بتایا کہ یکم جولائی 2018 سے 30 جون 2023 تک حکومت نے 57 ارب 27 کروڑ ڈالر سے زائد غیر ملکی قرضے حاصل کیے۔ا س میں 9 ارب 81 کروڑ ڈالر قرضہ مختلف منصوبوں کے لیے لیاگیا۔مذکورہ مدت کے دوران حاصل کردہ قرضوں پر 3 ارب 90 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سود کی مد ادا کیے گئے ۔ اس میں سے پراجیکٹ کے قرضوں کا مارک اپ 889ملین ڈالر ادا کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے موبائل فون بلوں سے حاصل ایڈوانس ٹیکس کی تفصیلات بھی پیش کر دیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 5 سالوں میں موبائل فون بلوں سے ٹیکس کی مد میں 338 ارب روپے حاصل ہوئے۔سال 2020 میں 50 ارب، 2021 میں 55 ارب روپے موبائل فون بلوں میں ٹیکس کی مد میں حاصل ہوئے۔سال 2022 میں 61 ارب، 2023 میں 80 ارب، 2024 میں 92 ارب حاصل ہوئے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ خسارہ کو پورا کرنے کے لیے مالی رقم ملکی اور غیر ملکی قرض سے پوری کی جا رہی ہے۔سرکاری قرض میں اضافے کی وجہ مالی خسارہ اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ہوا ہے۔قرض حاصل کرنے کی شرح میں اضافہ ٹیکس میں اضافے سے زیادہ ہو تو قرض پر سود کی ادائیگیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران ٹیکس فائلر بننے والوں اور براہ راست ٹیکس کے اعداد و شمار قومی اسمبلی میں پیش کردیے گئے ۔2019 سے 2023 تک 2 کروڑ 31 لاکھ افراد نے ٹیکس گوشوارے جمع کروائے۔ 2023 میں 50 لاکھ 20 ہزار افراد نے ٹیکس گوشوارے جمع کروائے۔ 30 جون 2022 تک 60 لاکھ افراد نے ٹیکس گوشوارے جمع کروائے۔ 2021 میں 40 لاکھ سے زائد اور 2020 میں 30 لاکھ سے زائد افراد نے ٹیکس گوشوارے جمع کروائے۔ 2019 میں 30 لاکھ 40 ہزار افراد نے ٹیکس گوشوارے جمع کروائے۔ 2019 سے 2023 تک براہ راست ٹیکس کی مد میں 10 ارب 25 کروڑ روپے سے زائد کا ٹیکس قومی خزانے میں جمع ہوا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک میں ٹیکس جمع کرنے والے ادارے ایف بی آر کے اپنے ہزاروں ملازمین نے بھی ٹیکس گوشوارے جمع کرا ئے۔ ایف بی آر کے کل 19 ہزار 151 ملازمین میں سے 10 ہزار 102 ملازمین 2023 میں ٹیکس گوشوارے جمع کرائے۔ایف بی آر کے 8 ہزار 503 ملازمین 6 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ کی حد سے کم اجرت وصول کر رہے ہیں۔ ایف بی آر کے 263 افسران طویل رخصت پر ہونے کی وجہ سے اپنے ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کروا سکے۔ایف بی آر می تعینات 74 افسران پروبیشن پر ہیں جن کی تنخواہیں ٹیکس حد کم ہے۔