علی امین گنڈا پور کے ریمارکس کیخلاف پارلیمنٹ میں صحافیوں کا واک آؤٹ

10 ستمبر ، 2024

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،جنگ نیوز) وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے گزشتہ روز جلسے میں صحافیوں کے خلاف قابل اعتراض الفاظ کے استعمال پر صحافیوں نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں شدید احتجاج کیا اور واک آؤٹ کرگئے جس پر پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت نے غیر مشروط معافی مانگ لی۔سینیٹ اجلاس کے دوران صحافیوں نے علی امین گنڈا پور کی تقریر کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بائیکاٹ کیا جس پر چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر انکے پاس گئے اور غیر مشروط معافی مانگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام صحافتی برادری کا احترام کرتے ہیں، میں صحافیوں کی دل آزاری پر غیر مشروط معافی مانگتا ہوں، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے جو بات کی وہ کوئی ایک دو صحافیوں کے حوالے سے تھی۔ کراچی پریس کلب نےبھی مطالبہ کیاہے کہ علی امین گنڈاپور نے جو الفاظ استعمال کیے وہ اس عہدے کے شایان شان نہیں،فوری طور پر معافی مانگیں۔ صدر لاہور پریس کلب کا علی امین گنڈاپور سے معافی کا مطالبہ، کوریج کے بائیکاٹ کا عندیہ دیدیاجبکہ ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز ( ایمنڈ ) نے بھی وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے صحافیوں کے خلاف دھمکی آمیز زبان اور الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے فوری معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا۔اُدھر قومی اسمبلی اجلاس میں بھی پارلیمانی رپورٹرز نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ عمر ایوب بیرسٹر گوہر کے ہمراہ میڈیا گیلری میں آئے اور میڈیا نمائندوں سے غیر مشروط معافی مانگی۔ عمر ایوب نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف اور علی امین گنڈاپور کی جانب سے معذرت قبول کی جائے۔پارلیمانی صحافیوں نے پی ٹی آئی رہنماؤں کی معافی پر علی امین گنڈا پور سے معذرت کا مطالبہ کیا۔عورت فاؤنڈیشن نے خواتین صحافیوں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنےکا مطالبہ کیا۔