پاکستان اس وقت جس بدترین معاشی بحران اور دہشت گردی سے دوچار ہے،اس کے مقابلے کیلئے پوری قوم کو یک جان اور یک زبان ہونا چاہئے۔اس مشکل وقت میں خاص طور پر سیاستدانوں پرزیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے،جن کا ہرعمل ملک کے مستقبل پر اثرانداز ہوتا ہے۔انھیں اقتدار کے حصول کی مصلحتوں سے بالاتر ہوکر ملک کے سیاسی استحکام کیلئے اپنامثبت کرداراداکرنا چاہئےلیکن پی ٹی آئی کے8ستمبر کے جلسے کے بعداستحکام کی بجائے ملکی سیاست میں گرماگرمی مزیدبڑھتی نظرآرہی ہے۔اسکی ذمہ داری سے نہ حکومت مبراقراردی جاسکتی ہے،نہ اپوزیشن۔پہلےتوجب حکومت نے پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت دے دی تھی تواسے جمہوری معاشرے کی روایت سمجھ کرہونےدیاجاتا۔رکاوٹیںکھڑی کرنے اورسختی برتنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔پھر9مئی کے سانحے کے تناظر میںپی ٹی آئی کیلئے بھی یہ اچھا موقع تھاکہ قانون کی پابندی کی جاتی،جلسہ گاہ میں پہنچنے کیلئے کارکنوں کو پولیس کے ساتھ الجھنے سے روکا جاتااور جلسے میں اشتعال پھیلانے والی باتوں سے احتراز کیا جاتا۔مگردونوں نے ایسانہ کیا اور نوبت مارپٹائی اور گرفتاریوں تک جاپہنچی۔اسپیکرقومی اسمبلی کےمدبرانہ رویےنےصورتحال کو سنبھالنے میں کافی مدد کی۔پی ٹی آئی کے چیئرمین کو رہاکردیاگیامگردوسرےگرفتارشدہ ارکان پارلیمنٹ کو دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا،جس نے انکا8روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا۔اب21ستمبرکو لاہور میں پی ٹی آئی کا جلسہ ہونےوالا ہےاوربانی پی ٹی آئی نے دھمکی دی ہے کہ حکومت اجازت نامہ دے یا نہ دے،یہ جلسہ ضرورہوگا۔انھوں نے اوربہت سے اعلانات کیے ہیں، جن کا نتیجہ محاذآرائی میں اضافے کےسوا کچھ نہیں ہوگاجبکہ قوم کا اصل مسئلہ اس وقت مہنگائی اور بے روزگاری ہے،اور حکومت اور اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مسائل سے نجات کا راستہ تلاش کریں۔حکومت اپنی دانست کے مطابق ان مسائل کے حل کیلئے اقدامات کررہی ہے ،خواہ ان کا نتیجہ کچھ بھی نکلے لیکن اپوزیشن کی ساری توجہ حکومت کو بدنام کرنے اور اس کی چھٹی کرانے پر لگی ہوئی ہے۔تجزیہ کار اس صورتحال کو قومی مفاد سے متصادم قرار دے رہے ہیں۔ان کے نزدیک ہمارے ہاں سیاسی نظام میں پہلے ہی بہت تقسیم ہوچکی ہے،جس فریق کے ساتھ زیادتی ہو،وہ اسے یادرکھتا ہے مگراسے وہ زیادتی یادنہیں رہتی جسے وہ دوسرے فریق کےساتھ موقع ملنے پرروارکھتا ہے۔جمہوریت تو مفاہمانہ رویوں کو راستہ دینے کانام ہےمگریہاں اسے لڑائی اور مخاصمت پھیلانے کا ذریعہ سمجھ لیاگیا ہے۔قومی اسمبلی اور سینیٹ سنجیدہ قومی ادارے ہیں ،ان میںپچھلے چندروز سے تصادم اورگالی گلوچ کے جومناظر دیکھےجارہے ہیں ،وہ کسی بھی مہذب قوم کے شایان نہیں۔ایک خاتون رکن نے مخالف رکن کی تقریر میںجس طرح مداخلت کی اور انھیں غلیظ گالیاں دیں اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔اسپیکر نے اس خاتون کی رکنیت دوروز کیلئے معطل کردی ہے ۔پارلیمنٹ کے ایوان میں اس طرح کی گالی گلوچ کا کوئی جواز نہیں۔ارکان کو شائستگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ اس طرح کے افسوسناک واقعات اور نفرت ،غصے اور انتقام کی اسلامی معاشرے میں گنجائش ہے، نہ ملکی آئین اور قانون میں۔پی ٹی آئی نے جمعہ سے ملک گیر احتجاج کا جواعلان کیا ہے،اس کے مضمرات سب پرواضح ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کو افراتفری اور ہنگامہ آرائی سے بچایا جائے اوراسےاستحکام،خاص طور پر سیاسی اور معاشی استحکام کی راہ پرڈالاجائے۔رہنمایان قوم کو اپنی ساری توجہ اس طرف مبذول کرنی چاہئےتاکہ ملک کو درپیش سلگتے ہوئے مسائل پر قابو پایا جاسکے۔
باتوں سے سیاسی لیڈروں کیکتنا ہی اثر پڑے کسی پر قائم کوئی اعتبار ہونا موقوف ہے کارکردگی پر
لوڈشیڈنگ……مبشر علی زیدیکیوبا میں بجلی کا شدید بحران ہے، میں نے بتایا۔کیوں بھئی؟ ڈوڈو نے حیران ہوکر...
’’کبھی اس بات میں شک نہ کریں کہ چند سوچنے سمجھنے والے، پرعزم شہریوں کا ایک چھوٹا سا گروپ دنیا کو بدل سکتا ہے:...
پہلے تو صرف ایک آستانہ عالیہ ہوتا تھا جہاں ایک اللہ کے ولی فالج لقوہ ، کالی کھانسی ،دائمی قبض ، گردوں کی...
59سال بعد اب متحدہ عرب امارات’’اوپیک‘‘ سے نکل چکا ہے۔ اس کے محرکات اور مضمرات پر روشنی ڈالنے سے قبل اوپیک کی...
افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کو روس اور چین حتیٰ کہ خود پاکستان بھی اپنے لئے خطرہ سمجھتاتھا۔ پاکستان میں...
اگر پوری کائنات کو ایک عمارت تصور کر لیا جائے تو وہ ایک ہی ستون پر کھڑی ہے اور وہ ہے برداشت کا ستون۔ اگر اس...
ماسکو میں گزشتہ ہفتے روس اور افغانستان کے درمیان ہونے والے جس دفاعی معاہدے کی خبریں میڈیا میں ہر سطح پر گرم...