پنشن کا نظام

اداریہ
12 ستمبر ، 2024

گزشتہ حکومتوں کے کمزورمکینزم کے تحت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں،مراعات اور پنشنوں کے جو ڈھانچے تیار ہوتے آئے ہیں ،وہ آج 87ارب ڈالر کے قرضوں تلے دبی قومی معیشت کیلئے چیلنج بنے ہوئے ہیں ۔اقتصادی ماہر اور وزیرخزانہ محمداورنگ زیب نے ملک کے ابتر معاشی حالات کے تناظر میں پنشن کو ایک بم قرار دیتے ہوئے اسے روکنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔پنشنوں اوربعض دیگر مراعات کا کلچر پوری دنیا میں رائج ہے اور بہت سے ممالک مالیاتی اتارچڑھائو کے باوجود اپنے بجٹ میں اس عنصر کو مزید بہتر بنانے میں کوشاں رہتے ہیں،تاہم اس کے پیچھے ان کا مضبوط معاشی سیٹ اپ کارفرما ہے۔پاکستان میں سرکاری ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد حکومت کی جانب سےتاحیات پنشن دی جاتی ہے اور موت کی صورت میں بیوہ اس کی حقدار ہوتی ہے۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ بجٹ کا ایک چوتھائی حصہ پنشنوں کی ادائیگی پر خرچ ہوتا ہے موجودہ بجٹ میں ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ پنشن کی مد میں رکھے گئے ہیں،جس میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 122ارب کااضافہ شامل ہے۔شہباز شریف کی سربراہی میں موجودہ حکومت ملک میں معاشی اصلاحات کا جوایجنڈا لے کر آئی ہے،اس میں اسٹرٹیجک کے سوا دیگر سرکاری اداروں اور محکموں کی نجکاری،رائٹ سائزنگ اور پنشن قوانین میں ردوبدل پر کام شروع ہوچکا ہے،جس کی کامیابی قومی آمدنی میں مطلوبہ اضافے سے مشروط ہے۔اس شرط کا پورا ہونا اس وقت تک ناممکن ہے ،جب تک بدعنوانی کی شکل میں چلنے والی غیرقانونی متوازی معیشت کا خاتمہ نہیں ہوجاتا،جس کا حجم پنشنوں کے بجٹ سے کئی گنا زیادہ ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق سرکاری سطح پر دی جانے والی بجلی،پیٹرول اور گیس کی شکل میں مراعات واپس لینےسے حکومت کو سیکڑوں ارب روپے کی بچت ہوسکتی ہے۔