جج: تعداد میں اضافہ

اداریہ
12 ستمبر ، 2024

ملک کی اعلیٰ عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی بڑھتی ہوئی تعداد جو لاکھوں تک جاپہنچی ہے، یقینا نہایت اہم اور توجہ طلب معاملہ ہے۔ اس کیلئے ججوں کی تعداد میں اضافے سمیت ایسی تمام اصلاحات لازمی ہیں جو عدالتی عمل میں غیرضروری تاخیر کا سبب بنتی ہیں۔سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد میں اضافے کی ضرورت کا اظہارمتعلقہ حلقوں کی جانب سے حالیہ دنوں میںتواتر سے ہوتا رہا ہے اور قومی اسمبلی کے رکن دانیال چوہدری نے گزشتہ روز سپریم کورٹ ایکٹ 1997 ءمیں ترمیم کا بل بھی پیش کیا ہے جس میں ججوں کی تعداد 17 سے بڑھا کر 23کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔یہ بل ارکان کی مرضی سے متعلقہ کو کمیٹی میں بھیج دیا گیاجبکہ گزشتہ دنوں اپوزیشن کی مخالفت کے باعث اسے مؤخر کیا گیا تھا۔ متعلقہ کمیٹی میں غور وخوض کے بعد یہ بل پارلیمنٹ میں زیربحث آئے گا اور منظوری کی صورت میں نافذ ہوسکے گا۔ دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ میں ججوں کی تعداد 20 سے بڑھا کر 30 کردی گئی ہے۔ صدر مملکت نے اس کی منظوری دیدی اور وزارت قانون نے اعلامیہ جاری کردیا ہے۔ بلاشبہ تمام ہائی کورٹوں میں بھی مقدمات کی کثرت کے باعث ججوں کی تعداد میں اضافہ ضروری ہے لیکن پشاور میں یہ عمل جس طرح انجام پایا، اس سے غیرضروری عجلت کا تاثر ملتا ہے جبکہ عدالتی معاملات میں قانون سازی‘ تمام پہلوؤں پر بخوبی غور و خوض اور منتخب ایوانوں سمیت تمام متعلقہ حلقوں کو اعتماد میں لیے جانے کی متقاضی ہوتی ہے جیسا کہ سپریم کورٹ کے معاملے میں ہورہا ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی مدت میں توسیع کے حوالے سے بھی ایک متنازع صورت حال رونما ہوئی اور یہ غلط فہمی پیدا ہو گئی کہ وہ اسے قبول کرنے پر رضامند ہیں جبکہ وہ واضح کرچکے تھے کہ ہائی کورٹوں کے چیف جسٹس توسیع کی یہ تجویز قبول کرلیں تب بھی وہ ایسا نہیں کریں گے۔ بہرکیف اب ان کے سیکریٹری ڈاکٹر مشتاق احمد کی وضاحت کے بعد یہ بحث ختم ہوجانی چاہیے۔