‎کھلاڑی دوراہے پر؟

افضال ریحان
12 ستمبر ، 2024
ان دنوں ہمارا زیر حراست کھلاڑی اور اسکی پارٹی سخت مشکل اور اضطراب میں ہے، ایک طرف انہیں یہ زعم ہے کہ پاکستانی عوام کے وہ مقبول ترین لیڈر اور پارٹی ہیں، دوسری طرف انکی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی نہ صرف لیڈر طویل عرصے سے جیل میں بند ہے بلکہ دوسرے درجے کی قیادت بھی زیر عتاب ہے، حکومت کا جب جی چاہتا ہے کوئی نہ کوئی بہانہ ڈال کر انہیں دھر لیتی ہے۔ اسلام آباد کے حالیہ ناکام یا کامیاب جلسے کے بعد تو انتہا ہو گئی ہے، منتخب ممبران قومی اسمبلی کو پارلیمنٹ سے باہر نکلتے ہی دبوچ لیا گیا دیگر خوف کے مارے ہاؤس کے اندر ہی محبوس ہو کر رہ گئے، گو یہ کہا جا سکتا ہے کہ شہد والے کی تقریر قابل اعتراض تھی لیکن اس مبنی بر جبرطرز عمل کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، پارلیمنٹ کا تقدس بہرصورت ملحوظ خاطر رہنا چاہیے اگرچہ کھلاڑی کا اپنا ریکارڈ اس حوالے سے ہمیشہ قابل افسوس ہی رہا ہے۔
اب ہم اپنے اصل سوال پر آتے ہیں کہ اتنا پاپولر اور مضبوط لیڈر جس کیلئے امریکی صدر ٹرمپ سے لیکر روسی صدر پیوٹن تک بانہیں پھیلائے کھڑے رہتے تھے جس کی محبت میں عوام کالانعام ناچ ناچ کر پاگل ہو جاتے تھے آج اتنی بے بسی، اذیت اور مشکل میں کیوں ہے؟ پی ٹی آئی کی پریشان حالی بھی دیکھی نہیں جا رہی۔ پی ٹی آئی اور اسکی زیر حراست اعلیٰ ترین قیادت ان دنوں کس قدر پریشان ہیں انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ اپنے ستم گروں یا حریفانِ اقتدار سے معاملہ کس نو ع کاکرنا ہے پیٹرول بم پھینکنے ہیں یاپھول؟ سخت دھمکیاں دیتے ہوئے پرجوش احتجاج کرنا ہے یا پرامن مذاکرات؟ کبھی’’مذاکر ات‘‘ کا راگ الاپتے ہیںتو کبھی سارے مذاکراتی دروازے بند کرنے شروع کر دیتے ہیں اور بڑبڑاتے ہیں کہ ہمارے ساتھ مذاکرات کے نام پر اسی طرح دھوکا کیا جا رہا ہے جس طرح کبھی شیخ مجیب الرحمن اور عوامی لیگ کیساتھ یحییٰ خاں اینڈ کمپنی نے کیاتھا ، ایک طرف بات چیت دوسری طرف خوفناک آپریشن کا پلان، ہمارے ساتھ نو مئی سےدھوکہ دہی کا یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کھلاڑی صاحب نے مذاکرات کس سے کرنے ہیں؟ اپنے ان سیاسی حریفوں سے جنہیں وہ چور چور کہتے نہیں تھکتے یا اپنے ان طاقتور مہربانوں سے جن کی بدگمانیاں 9 مئی کے بعد ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں! یہاں المیہ یہ درپیش ہے کہ جس طرح تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اسی طرح مذاکرات کا ڈول بھی یکطرفہ طور پر نہیں ڈالا جا سکتا دوسرا فریق مذاکرات کرنے کیلئے تیار تو ہو، یہاں تو معاملہ کچھ اس نو ع کا ہے کہ ادھر وہ بدگمانی ادھر یہ نا توانی نہ پوچھا جائے ہے اس سے نہ بولا جائے ہے مجھ سے، اورپھر یہ بھی واضح رہے کہ اتنا بڑا پاپولر عوامی لیڈر اور اتنی ہر دلعزیز پارٹی وہ ان فارم 45والے دھاندلی زدہ لوگوں کو منہ کیوں اور کیسے لگائے؟ اصل طاقتور جن کے سامنے یہ خود سجدہ ریز ہیں، براہ راست ان کے ساتھ بات چیت کیوں نہ کی جائے؟ اگر آج وہ’’نیوٹرل‘‘ ہیں تو کوئی بات نہیں ہماری حیثیت اور مقام کو تو وہ پہچانیں گو آج ہم وہاں نہیں وہاں سے نکالے ہوئے تو ہیں ہماری نسبتیں قبلہ کے ساتھ اگرچہ دور کی ہیں مگر بہت گہری ہیں اگر شک ہے تو اپنے فیض و برکات دونوں سے پوچھ لیں یہ موقف ہے ہمارے پاپولر کھلاڑی بانی پی ٹی آئی کا‎۔ اسکے بالمقابل درویش کا موقف ہے کہ’’کرسکتی ہے بے معرکہ جینے کی تلافی،اے پیر حرم تیری مناجات سحر کیا؟‘‘عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد، بھلا کمزور کو تاج و تخت یا اقتدار کون سا طاقتور دیتا ہے؟ یا تو اپنے پیکر خاکی میں اتنی جان پیدا کر کہ خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟ بصورت دیگر وہ جو کہتے ہیں ان کے سامنے سر تسلیم خم کر دو۔ 9مئی پھانس بنی ہوئی ہے کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کسی کو اتنا ہی بوجھ اٹھانا چاہیے جتنے جو گا وہ ہو، حضور آپ نے اپنے فیض عام کے جھانسے میں آ کر وہ کچھ کر ڈالنا چاہا جس کی آپ میں تاب نہ تھی، ایسا کچھ کرنے سے قبل اپنا وزن تولنا چاہئے تھا آخر ناکام بغاوت کس کو کہتے ہیں؟ اور اس کے مضمرات کیا ہوتے ہیں؟ کیا یہ پیش نظر نہیں رہنا چاہئے؟ افسوس آج بھی آپ لوگوں کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی ہے آپ لوگوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے یہ مکافات عمل ہے۔‎ کیا آج بھی آپ اتنے سٹوڈنٹس اپنے ساتھ باہر نکال سکتے ہیں جتنے ڈھاکہ میں نکلے؟ 9مئی ہو یا آٹھ ستمبر، اگر تو اتنے بڑے عوامی جتھے آپ لوگ بھی نکال سکتے جتنے71 میں شیخ مجیب کی عوامی لیگ نے نکالے یا 5 اگست کو ان کے مخالفین نے نکالے، پھر تو آپ بھی آج کے بانی بنگلہ دیش یا بانی پاکستان سب کچھ ہوتے بصورت دیگر آپ اپنے کچھ ہمدردوں کو بیچ میں ڈالتے ہوئے اسی طرح باہر کا راستہ ناپیں جیسا کبھی ٹیڑھی راہوں کے سیدھے مسافر نے ناپا اور آج خاموشی کے ساتھ وہ سب پر حاوی ہے، وقت بدل جاتا ہے تدبر اسی کا نام ہے ورنہ لاحاصل قید میں سڑنا یا پھندے پر جھولنا کون سا مشکل ہے؟ بس تھوڑی سی حماقت چاہیے جو آپ لوگوں کے پاس بدرجہ اتم موجود ہے.... اگر کسی کی یہ خوش گمانی ہے کہ وہ کمزور عوامی حمایت کے بل پرطاقتوروں سے ٹکرائے گا اور انہیں پاش پاش کر دے گا تو کم از کم اس وقت یہ ناممکن ہے۔