اسلام آ باد ( رانا غلام قادر ) وفاقی حکومت نے سول سرونٹس کی طرز پر خود مختار اور نیم خود مختار اداروں اور کارپوریشن کے ایگزیکٹو اور نگران (supervisory) عملہ کو ایڈ ہاک ریلیف الائونس 2024دینے کا فیصلہ کیا ہے۔فیصلے کا اطلاق ان خود مختار ،نیم خود مختار اداروں اور کار پوریشن کے ملازمین پر ہوگا جنہوں نے وفاقی حکومت کی پے اسکیلز سکیم کو مکمل طور پر اپنا لیا ہے۔ یاد رہے کہ گریڈ ایک سے سولہ تک کے سول سرونٹس کو بنیادی تنخواہ کا 25فی صد اور گریڈ سترہ سے بائیس تک کے سول سر ونٹس کو 20 فیصد ایڈہاک ریلیف الائونس 2024دیاگیا تھاجس کا اطلاق یکم جولائی 2024سے کیا گیا ۔ اسی شرحکاا طلاق خود مختار اور نیم خود مختار اداروں اور کارپوریشن پر بھی ہوگا۔ یہ بات فنا نس ڈویژن کی جانب سے جاری کئے گئے ایک آفس میمو رنڈم میںبتائی گئی ہے جو تمام وزارتوں ۔ ڈویژنوں اور محکموں کو بھیجا گیا ہے۔ آفس میمو ر ندم میں واضح کیا گیا ہے کہ پبلک سیکٹر کے وہ خود مختار اور نیم خود مختار اداروں اور کا رپو ریشن پر نہیں ہوگا جن کے پے اسکیلز مختلف ہیں۔ان اداروں کے ملازمین کو یہ ایڈ ہاک اس صورت میں مل سکتا ہے کہ ان اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز یا گورنرز یہ الائونس دینے کی سفارش کریں اور قا ئمہ کمیٹی برائے خزانہ اس کی منظوری دے۔اس کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ ادارے کی مالی صحت اچھی ہو۔ یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہکو ئی بھی ڈویژن فنا نس ڈویژن کی پیشگی مشاورت کے بغیر کسی ا یسے حکم کے اجراء کی اجازت نہیں دے گا جس کے نتیجے میں سر کاری ملازمین کی سروس کی شرائط میںکوئی تبدیلی واقع ہو ۔ اس سے قانو نی حقوق متاثر ہوں اور اس کے مالی اثرات مرتب ہوں۔ تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے زیر انتظام نیم خودمختار، خود مختار اداروں/کارپوریشنوں کی تمام انتظامی وزارتوں/ ڈویژنوں پر پابند ہے کہ وہ نیم خود مختار، خود مختار اداروں کے ایگزیکٹو/ نگران عملے کی تنخواہوں، الاؤنسز اور مراعات میں جو بھی تبدیلی لائیں وہ فنا نس ڈویژن کے 26جون1999 کے جاری کردہ آفس میمورنڈم کے مطابق ہو۔تمام وزارتوں/ ڈویژنوں سے یہ درخواست کی گئی ہےکہ وہ اپنے انتظامی کنٹرول کے تحت خود مختار/ نیم خودمختار اداروں اور کارپوریشنز وغیرہ کی فہرست فراہم کریں۔ اس کے ساتھ ان کے تنخواہ کے ڈھانچے کی تفصیلات دی جائیں اور یہ بھی بتایا جا ئے کہ کیا انہوں نے فنانس ڈویژن کی رضامندی طلب کی ہے۔ ایڈہاک اور دیگر الاؤنسز کی گرانٹ کے لیے، اور دیے گئے فارمیٹ پر ان کے پے سکیلز کی مطلوبہ معلومات فراہم کی جائیں۔ اگر منظوری طلب نہیں کی گئی ہے تو کیس پراسیس کیا جائے اور اسے فنانس ڈویژن کی قائمہ کمیٹی کے پاس غور کے لیے بھیجا جائے اور سیکرٹری فنانس ڈویژن کی طرف سے حتمی منظوری لی جائے۔ تمام وزارتوں/ ڈویژنوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ان ہدایات پر عمل کرائیں۔
ڈھاکا بنگلہ دیش میں 12 فروری کے انتخابات کی الیکشن کمیشن نے تیاریاں مکمل کرلیں، سیاسی جماعتوں کی جانب سے جاری...
اسلام آبادوزیر اعظم کے کوارڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ عمران خان اور محمود...
اسلام آبادنائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے بڑے صاحبزادے اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے...
کراچی سینئر سیاستدان سینیٹر فیصل واوڈانے بھاٹی گیٹ کے ملزمان کی رہائی پر ے کہا کہ یہ سسٹم کا ہمارے منہ پر...
کراچی طبی آلات میں AI شامل کرنے کے بعد مریضوں کیلئے خطرات میں اضافہ ، مصنوعی ذہانت سے چلنے والے طبی آلات نے...
اسلام آ باد ،کلرسیداںجامع مسجد خدیجتہ الکبریٰ ترلائی کلاں اسلام آباد میں خودکش دھماکے کے 2 زخمی دم توڑ گئے...
اسلام آباد سینٹ میں وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں دہشت گردی کے واقعہ کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر...
لاہور پنجاب حکومت نے صوبے کی چار اہم سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے باقاعدہ عمل...