قائد اعظم وعدہ معاف گواہ اور بغیر مقدمہ گرفتاریوں کیخلاف تھے،تجزیہ کار

12 ستمبر ، 2024

اسلام آباد (ٹی وی رپورٹ) معروف صحافی حامد میر نے ”جیونیوز“ کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں 11 ستمبر کو قائد اعظم محمد علی جناح کی 76 ویں برسی پر“ اصل قائداعظم”کے عنوان سے پروگرام کیا جس میں انہوں نے قائد اعظم کی زندگی کی نہایت خوبصورتی سے منظر کشی کی اور کہاکہ قائد اعظم نا صرف وکیل اور سیاستدان رہے بلکہ جج بھی رہے اور بطور جج انہوں نے ایسے تاریخی فیصلے دیئے جن میں انہوں نے وعدہ معاف گواہ کی شہادت قبول کرنے سے انکار کردیا۔ قائد اعظم بغیر مقدمہ چلائے گرفتاریوں کے سخت خلاف تھے۔ قائد اعظم بطور گورنر جنرل نا صر ف تنخواہ لیتے تھے بلکہ اس پر باضابطہ ٹیکس اور سُپر ٹیکس بھی ادا کرتے تھے۔ وہ اصولوں کا سودا نہیں کرتے تھے، انہوں نے متحدہ ہندوستان کا وزیراعظم بننے کی مہاتما گاندھی کی پیشکش بھی ٹھکرادی۔قائد اعظم ہمیشہ آزادی صحافت کے قائل تھے۔ قائد اعظم نے خواتین کو عملی سیاست میں آنے کیلئے حوصلہ افزائی کی جس کی سب سے بڑی مثال ان کی اپنی بہن فاطمہ جناح ہیں جو نہ صرف قائد اعظم کے ساتھ سیاست میں متحرک رہیں بلکہ سماجی کاموں میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ حامد میر نے پروگرام کے ابتدائیہ میں بتایا کہ قائد اعظم کی برسی کے موقع پر ہر سال مختلف پروگراموں کا انعقاد ہوتا ہے، اخبارات میں فیچرز، اداریے، ضمیمے اور فرمودات شائع ہوتے ہیں، لیکن قائداعظم کی اصل شخصیت کو روشناس نہیں کرایا جاتا۔ قائداعظم نے لندن کے تعلیمی ادارے لنکنز اِن میں اس لیے داخلہ لیا کہ اس کے مرکزی دروازے پر حضرت محمدﷺ کا نام تحریر تھا جس سے قائد اعظم کی نبی پاک حضرت محمدﷺ سے والہانہ محبت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ قائداعظم لندن میں ایسے تھیٹر بھی جایا کرتے تھے جس میں شیکسپئر کے ڈرامے دکھائے جاتے تھے۔ حامد میر نے قائداعظم کی بہن فاطمہ جناح کی کتاب“مائی برادر”کے ایک اقتباس کا حوالہ دیا جس میں واضح ہے کہ قائداعظم کو ولیم شیکسپئر کے ڈرامے بہت پسند تھے۔ قائد اعظم کی زندگی میں ایسا وقت بھی آیا جب انہوں نے وکالت چھوڑ کربطور مجسٹریٹ نوکری شروع کی اور جج بن گئے۔ کتاب“قائد اعظم ایز مجسٹریٹ”میں ان کے کئی فیصلے تحریر ہیں جن سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے بطور جج ہمیشہ جھوٹ کے خلاف فیصلے دیئے اور سچ کو پروان چڑھایا۔ قائد اعظم نے بطور جج وعدہ معاف گواہ بنانے کی اجازت نہیں دی اور وہ وعدہ معاف گواہ کی گواہی کو تسلیم ہی نہیں کرتے تھے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ قائداعظم بغیر مقدمہ گرفتاریوں کے سخت خلاف تھے اور وہ ہمیشہ آزادی صحافت کے قائل تھے۔ قائد اعظم نے خواتین کو عملی سیاست میں آنے کیلئے حوصلہ افزائی کی جس کی سب سے بڑی مثال ان کی اپنی بہن فاطمہ جناح ہیں جو نہ صرف قائد اعظم کے ساتھ سیاست میں متحرک رہیں بلکہ سماجی کاموں میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔ قائد اعظم نہ صرف ظاہری طور پر مساوات کے علمبردار تھے بلکہ خود بھی اپنی عملی زندگی میں اس کا مظاہرہ کرتے تھے۔ سید شمس الحسن کی کتاب“ صرف مسٹر جناح”کا حوالہ دیتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ قائد اعظم چاہتے تھے کہ دنیا سے چلے جانے کے بعد انہیں صرف مسٹر جناح کے نام سے یاد رکھا جائے۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضیاء الدین احمد نے قائد اعظم کو اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دینے کی پیشکش کی جو قائد اعظم نے یہ کہتے ہوئے ٹھکرادی کہ اگر میں ڈاکٹر نہیں ہوں تو میں اعزازی ڈگری لینے کے حق میں بھی نہیں ہوں۔ حامد میر نے پروگرام میں واضح کیا کہ مہاتما گاندھی نے قائد اعظم کو پاکستان کے مطالبے سے دستبردار کرانے کیلئے متحدہ ہندوستان کا وزیراعظم بننے کی پیشکش کی جو قائد اعظم نے ٹھکراتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے علاوہ کسی چیز کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ حامد میر نے پروگرام میں اس بات کے شواہد پیش کیے کہ قائداعظم بطور گورنر جنرل نہ صرف تنخواہ لیتے تھے بلکہ اس پر ٹیکس اور سپر ٹیکس بھی ادا کرتے تھے۔ پروگرام کے اختتام پر حامد میر نے کہا کہ اگر ہم قائد اعظم کے کردار کو اپنے لیے مثال بناتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چلیں تو پاکستان کے سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔