علی امین گنڈاپور خود عمران خان کی جگہ لینا چاہتے ہیں،خواجہ آصف

12 ستمبر ، 2024

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہماری حکومت قطعی طور پر بیک فٹ پر نہیں ہے، پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے لوگ نہیں چاہتے کہ عمران خان باہر آئیں، علی امین گنڈاپور خود عمران خان کی جگہ لینا چاہتے ہیں،حکومت کو پی ٹی آئی کی وکٹ پر کھیلنے سے گریز کرنا چاہئے،مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا کہ علی امین گنڈاپور اپنی تقریر پر کھڑے ہیں پوری پارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہے،حکومت کا مفاد ہے کہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں تناؤ پیدا ہو، حکومت اپنے چند دن کے اقتدا ر کیلئے پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں تصادم کی کوشش کررہی ہے،میزبان شاہزیب خانزادہ نےتجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر گزشتہ تین دن کی سخت تلخی اور کشیدگی کے بعد اسمبلی میں مفاہمانہ ماحول دیکھنے میں آیا مگر ایوان کے باہر تحریک انصاف اب بھی سخت غصے کا اظہار کررہی ہے۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان سمجھتے ہیں اسٹیبلشمنٹ سے علی امین گنڈاپور کے رابطے ان کے کام آئیں گے، علی امین گنڈاپور نے خود بتایا سات آٹھ گھنٹے ان کی اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت ہورہی تھی، اسلام آباد میں ملاقاتوں میں گنڈاپور کی باتوں کا ان کے سوا کوئی گواہ نہیں ہے، علی امین گنڈاپور چار دیواری میں لکھنوی اردو سے بھی زیادہ شستہ زبان استعمال کرتے ہیں، علی امین گنڈاپور جلسوں میں آکر مولا جٹ بن جاتے ہیں، علی امین گنڈاپور نے تقریر اور اسٹیبلشمنٹ سے ملاقات عمرا ن خان کی مرضی سے کی ہے،عمران خان مایوس ہوگئے ہیں ان کے منہ لگنے کی ضرورت نہیں ،اسمبلی کے اندر گرفتاریوں سے جلسے کی مذمت مدھم پڑگئی، ارکان اسمبلی نے باہر آنا ہی تھا انہیں تب ہی گرفتار کیا جانا چاہئے تھا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف نے جنرل باجوہ کو نوازا تھا، ہمارا اسٹیبلشمنٹ سے تصادم وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان تھا۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ نو ستمبر کی رات علی امین گنڈاپور کی اسٹیبلشمنٹ کے ادارے سے ملاقات ہوئی، ملاقات میں صوبے کے سیکیورٹی حالا ت کے ساتھ عمومی معاملات پر طویل بات چیت ہوئی، ملاقا ت میں کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہوا، ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کا سیکیورٹی، قانونی اور انتظامی معاملات پر رابطہ کرنا مجبوری ہے، عمران خان کے حکم کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سیاسی امور پر بات چیت کے رابطے ختم ہوچکے ہیں، انتظامیہ راستے بند نہیں کرتی اور شادی ہالز کے قانون لاگو نہیں کیا جاتا تو شاید یہ صورتحال پیدا نہیں ہوتی، تناؤ کم ہوجائے تو ایسی تقریروں کی ضرورت بھی نہیں رہے گی۔ میزبان شاہزیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کے پی اسمبلی میں پی ٹی آئی قیادت کو رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں کردارکیخلاف قرارداد بھی منظور کی گئی، مگر قومی اسمبلی نے حکومت اور اپوزیشن نے ایوان کے معاملات خوش اسلوبی سے چلانے کیلئے سولہ رکنی کمیٹی بنانے کی تحریک متفقہ طورپر منظور کرلی ہے۔