راولپنڈی اسلام آباد کی صحافتی تنظیموں کی پی ٹی آئی کوریج کے بائیکاٹ کی دھمکی

12 ستمبر ، 2024

اسلام آباد (ایوب ناصر، خصوصی نامہ نگار) راولپنڈی اسلام آباد کی صحافتی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ پی ٹی آئی اگلے 24گھنٹے کے دوران اپنا موقف واضح نہیں کرتی تو علی امین گنڈاپور کے بیان کو تحریک انصاف کا آفیشل بیان سمجھا جائے گا اور ملک بھر میں صحافی راست اقدام کریں گے، جس کی روشنی میں پی ٹی آئی کی کوریج کے ملک گیر بائیکاٹ سمیت قانونی اور دیگر آپشنز استعمال کئے جائیں گے۔ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کی کال پر نیشنل پریس کلب، پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن، سپریم کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن، پی ٹی آئی بیٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن، ینگ رپورٹرز فورم اور اڈیالہ جیل میں عمران خان کی کوریج پر معمور رپورٹرز کی قیادت نے پارلیمنٹ ہائوس میں ایک مشاورتی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں غور کیا گیا کہ قائد حزب اختلاف عمر ایوب اور بیرسٹر گوہر کے وعدے کے 72 گھنٹے گزرنے کے باوجود علی امین گنڈاپور نے اپنے بیان پر معافی نہیں مانگی۔ جو فلور آف دی ہائوس پی ٹی آئی قیادت کے وعدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے یہ بیان بھی سامنے آگیا ہے کہ وہ علی امین کے بیان کے ایک ایک لفظ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ صحافی برادری اس سارے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے پی ٹی آئی کے آفیشل پیجز ابھی بھی میڈیا کے خلاف اشتعال انگیز بیانات جاری کررہے ہیں۔ مشاورتی اجلاس میں آر آئی یو جے کے سیکرٹری جنرل آصف بشیر چوہدری، سیکرٹری نیشنل پریس کلب نیئر علی، پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر عثمان خان اور سیکرٹری نوید اکبر، سپریم کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر عقیل افضل اور سیکرٹری عمران وسیم، پی ٹی آئی بیٹ رپورٹرز اور ینگ رپورٹرز فورم کے صدر اسامہ اقبال، سیکرٹری پی ٹی آئی بیٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن ناصر بٹ، رانا رومان ینگ رپورٹرز فورم کے فنانس سیکرٹری، اڈیالہ جیل میں عمران خان کی کوریج پر معمور رپورٹرز کے نمائندے یاسر حکیم اور شبیر ڈار نے شرکت کی۔