دہشتگردی، بد امنی میں ملوث عناصر کیخلاف کارروائی کی جائے ،سیاسی جماعتیں

15 ستمبر ، 2024

پشین (پ ر) سیاسی جماعتوں، تاجروں اور سماجی و قبائلی رہنماؤں نے کہا ہے کہ دہشتگردی، بدامنی اور لاقانونیت کے ذریعے ضلع پشین کے عوام پر وحشت اور خوف وہراس مسلط کرنے اور چوری و ڈکیتی کے واقعات سمیت عوام دشمن سازشوں کے خلاف متحد ہوکر جدوجہد جاری رکھیں گےاور وفاقی و صوبائی حکومتوں اور متعلقہ حکام نے عوام کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنا ہوگا،دہشتگردی، لاقانونیت کے انسانیت دشمن واقعات میں ملوث ملزموں اور اُن کے سہولت کاروں کی عدم گرفتاری ، سیکورٹی فورسز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ان خیالات کااظہار پشتونخوا نیپ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، اے این پی کے ضلعی صدر حاجی اصغر علی ترین، جے یو آئی (ف) کے مولوی اسام الدین فاروقی، پی پی کے ضلعی صدر شیر محمد ترین، پشین بچاؤ تحریک کے چیئرمین ملک لطف اللہ ترین، جنرل سیکریٹری سید بصیر آغا، مسلم لیگ (ن) کے علی اللہ کاکڑ، مولوی محمد سلیم اخوندزادہ، پی ٹی ایم کے ضلعی کوارڈینیٹر عطاء اللہ، جماعت اسلامی کے رفیع اللہ بٹے زئی، پی ٹی آئی کے کونسلر عبدالجبار ترین، پشین قومی جرگے کے سید عبدالصمد عرف طور آغا، سید علاؤالدین آغا، مرکزی انجمن تاجران کے بہادر خان ملیزئی، دولت خان ترین، نصیب اللہ کلیوال، میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی چیئرمین عبداللہ کاکڑ، زمیندار ایکشن کمیٹی کے صوفی دوست محمد عرف باچا خان، محمد حسن درانی، محمد لعل اچکزئی، ملک محیب کاکڑ، نور محمد لالا اور دیگر نے ضلع پشین میں ہونے والی دہشتگردی، بدامنی اور لاقانونیت کے باعث درپیش صورتحال پر سیمینار سے خطاب میں کیا۔ سیمینارمیں مختلف فیصلے کیئے گئے اور آئندہ کے لئے طریقہ کار اور احتجاج جاری رکھنے کا لائحہ عمل طے کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ دہشتگردی، بدامنی، لاقانونیت، چوری وڈکیتی کے واقعات میں ملوث ملزموں کے خلاف ٹارگٹد کارروائی کی جائے ۔پشین شہر میں سیف سٹی کیمرے لگائے جائیں، عوام کو تنگ کرنے کا سلسلہ ختم اور انہیں اپنے قلعے تک محدود رکھا جائے، محکمہ ایکسائز کی جانب سے کابلی گاڑیوں کے نام پر عوام کو لوٹنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ ضلع پشین کے تمام پولیس سپاہیوں کو جو دوسرے اضلاع میں تعینات ہیں واپس کرکے پشین میں تعینات کیئے جائیں۔بیان میں کہاگیا کہ مختلف تنظیموں سے رابطے کرکے آئندہ کا اجلاس اور احتجاج کیلئے تاریخ کا تعین کیا جائیگا۔