افغانستان میں ہزارہ مسافروں کا قتل وحشیانہ اقدام ہے، ایچ ڈی پی

15 ستمبر ، 2024

کوئٹہ(پ ر) ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی بیان میں افغانستان کے صوبہ دایکنڈی اور صوبہ غور کے درمیان زیارات سے واپس آنے والوں کے استقبال کےلئے جانے والے نہتے بےگناہ ہزارہ مسافروں کوروک کر شناخت کے بعد قتل کرنے کے سفاکانہ و وحشیانہ عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس طرح کے غیر انسانی عمل کو دنیا کے مہذب اقوام و عالم انسانیت کےلئے لمحہ فکریہ قرار دیا گیا ہے، بیان میں کہا گیا کہ یوں تو افغانستان کی ہزارہ قوم گذشتہ دو صدیوں سے زائد عرصہ سے نسلی اور لسانی بنیادوں پر بدترین قومی جبر، استحصال، حقارت اور نسل کشی کا سامنا کررہے ہیں۔ اس عمل میں برسراقتدار حکمران طبقہ بلاتفریق روشن خیال، ترقی پسند، رجعتی و مذہبی طبقہ کے ہزارہ قوم کے خلاف کاروائیاں کرتے ہوئے تاریخ میں اپنا حصہ ڈالتے نظر آرہے ہیں اور ایک سوچ کو پروان چڑھایا گیا ہے کہ افغانستان کی حکمرانی کا حق صرف ایک مخصوص طبقے کو حاصل ہے اور اس سوچ کو تحفظ فراہم کرنے کےلئے باقاعدہ منظم پروپیگنڈے کا سہارا لیا جاتارہاہے کہ اگر کوئی اختلاف رائے بھی کرلے تو اسے حکمران دشمن تصور کیا جائے۔بیان میں کہا گیا کہ ہزارہ قوم کے قتل عام و نسل کشی کے عمل میں طالبان حکومت کے دور میں نےتحاشا اضافہ ہوا ہے طالبان کے اقتدار میں ہزارہ قوم کے ساتھ ہر طرح کے غیر انسانی عمل روا رکھا جارہاہے، بیان میں عالمی برادری سمیت افغانستان کے ہمسایہ ممالک سے اس صورتحال کانوٹس لینے، ہزارہ قوم کی نسل کشی و دہشت گردی کے خاتمے کے لئے فوری طور پر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔