اسلام آباد ( فاروق اقدس/جائزہ رپورٹ ) حکومت متعلقہ اداروں اور قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے عدلیہ سے متعلق آئینی ترمیم کا بل آج (اتوار) کو پارلیمان میں پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا، عدالتی اصلاحات، حکومت یا اپوزیشن پارلیمان میں سنڈے سرپرائز کس کو ملے گا؟وفاقی دارالحکومت میں ارکان پارلیمنٹ کی سرگرمیاں، قیاس آرائیاں ،دعوے شب بھر جاری رہے ،یادش بخیر آئینی ترامیم کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت لازمی ہے۔ اس حوالے سے تفصیلات کے مطابق آئینی ترامیم منظور کرانے کے لیے قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے لیے 224 ارکان کے ووٹ درکار ہیں، جب کہ قومی اسمبلی میں حکومتی ارکان کی تعداد 214 ہے، ترامیم منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں حکومت کو مزید 10 ووٹ درکار ہیں۔ سینیٹ میں حکومتی اتحاد کو 60 ارکان کی حمایت حاصل ہے، اور سینیٹ کا ایوان 96 اراکین پر مشتمل ہے، جب کہ موجودہ ارکان کی تعداد 85 ہے، سینیٹ میں دو تہائی اکثریت کے لیے درکار ووٹوں کی تعداد 64 ہے۔سینیٹ میں خیبر پختونخوا کی نشستیں خالی ہیں، موجودہ صورت حال میں سینیٹ میں دو تہائی اکثریت چونسٹھ ارکان کی بنتی ہے جب کہ حکومتی ارکان کی تعداد ساٹھ ہے۔ حکومتی سینیٹرز اور ارکان قومی اسمبلی کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے تمام ترامیم براہ راست منظورکرانے کی حکمت عملی پر غور کیا ہے، حکومتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ نمبرز پورے ہیں۔ اس حوالے سے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب تک وزیراعظم ہائوس پارلیمنٹ لاجز مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ اور بعض نامعلوم مقام پر بھی اس حوالے سے سرگرمیاں جاری رہیں ، خاص طور پر اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ جہاں ہفتے کی شب وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی مولانا سے طویل ملاقات اور پھر پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی راہنمائوں کے اعزاز میں پرتعیش عشائیہ جس میں ان کی تواضع بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے روایتی کھانوں کے علاوہ دم پخت، دیسی مرغ کی یخنی کے ساتھ کی گئی۔ تاہم اس ضیافت کے انتظار میں پی ٹی آئی کے راہنمائوں کو خاصی دیر تک انتظار کرنا پڑا کیونکہ حکومتی ٹیم کے دونوں وزراء مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات میں مصروف تھے جس باعث پی ٹی آئی کے راہنمائوں نے ان کی موجودگی میں مخل ہونا مناسب نہ سمجھا۔ شب بیداری میں ہونے والے ان رابطوں اور ملاقاتوں میں حکومت نے پارلیمانی طاقت کے فیصلہ کن استعمال اور اپوزیشن نے حکومتی کامیابی میں دیوار مزاحمت بننے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس دوران بعض دعوئوں اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ مولانا فضل الرحمان جو ہمیشہ سیاسی بحرانوں میں احتجاجی تحریک اور جلسے جلسوں میں اپنی افرادی قوت کے حوالے سے اہمیت حاصل کرتے ہیں اس مرتبہ ایوان میں ہونے والی رسہ کشی میں اپنی پارلیمانی طاقت کی وجہ سے فیصلہ کن اہمیت کو ساتھ سامنے آئے۔ تاہم اس تمام صورتحال میں میدان کون مارے گا حکومت یا اپوزیشن اس حوالے سے آج پارلیمان میں کسی ایک کو ’’سنڈے سرپرائز‘‘ بھی مل سکتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں ہونے والے ان دعوئوں میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ حکومت تمام تر کوششوں کے باوجود مولانا فضل الرحمان کو اپنے موقف کے حق میں آمادہ نہیں کرسکی جبکہ یہ قیاس آرائی بھی موجود رہی کہ حکومت نے چیف جسٹس کے منصب کی ریٹائرمنٹ کی عمر میں توسیع نہ کئے جانے اور اسی طرح کسی جج کو بھی ایکسٹینشن نہ دیئے جانے کے مولانا فضل الرحمان کے مطالبے کو تسلیم کر لیا ہے۔
اسلام آبادسابق جج اسلام آباد ہائی کورٹ طارق جہانگیری کو عہدے سے ہٹائے جانے کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کر دی...
کراچی چین نے امریکہ کے ان الزامات کی تردید کی کہ اس نے خفیہ جوہری دھماکہ خیز تجربات کیے ہیں۔ اس نے انہیں...
اسلام آبادچیف جسٹس آف پاکستان، یحی ٰ آفریدی نے آج اقوامِ متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحیی اور ان...
اسلام آباد سائفر کیس میں اہم پیش رفت؛ عمران سے فوری ملاقات کی درخواست مسترد ،سپریم کورٹ نے عمران کی جیل میں...
کراچی برطانیہ کی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود،ممکنہ پہلی مسلمان وزیراعظم، ایپسٹن فائلز کے بحران میں قیادت کے...
لاہور ایڈیشنل سیشن جج یلماز غنی نےوزیر اعظم شہباز شریف کے بانی پی ٹی کیخلاف ہرجانہ کیس میں وزیر اعظم کے...
لاہور پنجاب حکومت نے صوبے کی چار اہم سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے باقاعدہ عمل...
اسلام آباد صدر مملکت آصف علی زرداری ،وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جاپان کی وزیراعظم مس سانائے تاکائیچی کو...