افغانستان کے طالبان حکمران کا پاکستان پر داعش کو پناہ دینے کا الزام

01 اکتوبر ، 2024

کابل (اے ایف پی) طالبان حکام نے افغانستان بھر میں حالیہ مہلک حملوں کی ذمہ دار داعش کے اہم ارکان کو گرفتار کر لیا، ایک ترجمان نے گزشتہ روز اس تنظیم کو پناہ دینے کا الزام پاکستان پر عائد کیا۔طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ خصوصی فورسز نے باغیوں کے گروپ کے اہم ارکان کو گرفتار کیا ہے، جس نے ستمبرمیں کابل میں ہونے والے ایک خودکش بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ خودکش حملہ آور پاکستان میں قائم تربیتی کیمپ سے افغانستان میں داخل ہوا تھا، جب کہ چھاپوں کی ایک سیریز میں گرفتار کیے گئے دیگر افراد بھی وہاں سے حال ہی میں واپس آئے تھے۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ کریک ڈاؤن میں جہادی گروپ کو افغانستان سے بے دخل کر دیا ہے، لیکن انہوں نے پاکستان میں نئے آپریشنل اڈے اور تربیتی کیمپ قائم کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان نئے اڈوں سےوہ افغانستان کے اندر اور دیگر ممالک میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ گرفتار ہونے والوں میں ایک تاجک شہری بھی شامل ہے۔خیال رہے کہ اس بیان سے کابل اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے، جو افغان طالبان کی واپسی کے بعد سے متاثر ہیں۔اسلام آباد اپنی سرزمین پر بڑھتے ہوئے حملوں کا الزام افغانستان پر عائد کرتا ہے، اور دعویٰ کرتا ہے کہ طالبان کی حکومت وہاں مقیم پاکستانی طالبان کے باغیوں کو ختم کرنے میں ناکام ہے۔پاکستان کی وزارت خارجہ نے ذبیح اللہ مجاہد کے بیان پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔خیال رہے کہ پاکستان، چین، ایران اور روس نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایک بیان جاری کیا، جس میں افغانستان میں دہشت گردی سے متعلق سیکورٹی کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔بیان میں کئی گروہوں کا نام لیا، جن میں داعش بھی شامل ہے، جو ان کے بقول افغانستان میں موجود ہےاور علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔